موجودہ صورتحال میں کسی بھی قیمت پر ایس ایس سی امتحان نہیں لیا جاسکتا:ہائی کورٹ

Updated: June 04, 2021, 8:09 AM IST | nadeem asran | Mumbai

:بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس جی ایس کلکرنی نے بالآخر ایس ایس امتحان نہ کرائے جانے کے ضمن میں داخل کردہ عرضداشت پر سماعت نہ کرنےاور امتحانات کرائے جانے سے متعلق مداخلت نہ کرنےکا جواز پیش کرتے ہوئےعرضداشت کو خارج کر دیا

Bombay High Court.Picture Midday
بامبے ہائی کورٹ تصویر مڈڈے

:بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس جی ایس کلکرنی نے بالآخر ایس ایس امتحان نہ کرائے جانے کے ضمن میں داخل کردہ عرضداشت پر سماعت نہ کرنےاور امتحانات کرائے جانے سے متعلق مداخلت نہ کرنےکا جواز پیش کرتے ہوئےعرضداشت کو خارج کر دیا۔ کورٹ نے دوران سماعت اپنے مشاہدہ میں کہا کہ ’’کورونا وائرس کے سبب موجودہ مسائل اور سنگین حالات کا جائزہ لینے اور ممکنہ طور پر کووڈ۔۱۹؍ کی آنے والی لہر کے اس سے بھی زیادہ سنگین نتائج کا امکان ہونے کی وجہ سے طلبہ کو خطرے میں نہیں ڈالا جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی بھی قیمت پر ایس ایس سی بورڈامتحانات کرائے جانے کی اجازت دی جاسکتی ہے ۔‘‘ چیف جسٹس بامبے ہائی کورٹ نے مہاراشٹر حکومت کے ایس ایس سی بورڈ امتحانات نہ کرائے جانے کے فیصلہ کو قبول کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’نہ صرف ایس ایس سی بورڈ بلکہ سی بی ایس سی ، آئی سی ایس سی اور آئی بی بورڈ بھی کامن انٹرنس امتحانات کی بنیادوں پر اتفاق کر سکتے ہیں تاکہ سبھی بورڈ کے طلبہ ۱۱؍ ویں میں داخلہ لےسکیں۔‘‘  کورٹ نے دوران سماعت اودئے ورونجیکر سے یہ سوال بھی کیا کہ ’’ اگر طلبہ کی موجودگی کے ساتھ امتحانات کا اہتمام کرنے کی اجازت دی جائے اور اس درمیان کوئی طالب علم کورونا سے متاثرہوجائے تو کیا اس کی ذمہ داری عرضداشت گزار لے سکیں گے ۔آخر تم اس بات پر کیوں بضد ہوکہ امتحانات طلبہ کی موجوودگی کے ساتھ لیا جانا چاہئے ۔‘‘اس پر عرضداشت گزار کے وکیل کا جواب تھا کہ’’ یہ میرے موکل کی نہیں بلکہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے اور یہ کہ میرے موکل نے طلبہ کو خطرے میں ڈال کر امتحانات کا اہتمام کرنے کی اپیل نہیں کی ہے ۔‘‘
  وکیل نے چیف جسٹس سے کہا کہ ’’ اس کے علاوہ میرے موکل نےامتحانات کرائے جانے کے علاوہ دوسرا مشورہ یہ بھی دیا تھا کہ کامن انٹرنس امتحانات کی بنیاد پر طلبہ کو ۱۱؍ ویں میں داخلہ دیا جائے۔‘‘اسی درمیان حکومت کی جانب سے وکیل استغاثہ آشوتوش کھمباکونی نے کہا کہ ’’ حکومت بھی چاہتی ہے کہ تمام بورڈس کے طلبہ اگر ایک پلیٹ فارم پر آجائیںتو سی ای ٹی کے تحت سب طلبہ کا داخلہ ہوسکتا ہے اس سے کسی طلبہ کے ساتھ غیر امتیازی سلوک کئے جانے کا خدشہ بھی ختم ہوجائے گا ۔‘‘اس پر عرضداشت گزار کے وکیل نے کہا کہ اس سلسلہ میں حکومت کے جاری کردہ جی آرمیں ہی تضاد ہے کیونکہ محکمہ تعلیم اب تک یہ کہتا رہا ہے کہ اس ضمن میں اسکول میں لئے گئے امتحانات کی بنیاد پر مارکس دے کر طلبہ کو کامیابی کا سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا ور یہی وجہ ہے کہ میرے موکل نے طلبہ کی موجودگی کے ساتھ امتحانات کرائے جانے پر زور دیا تھا ۔ کورٹ نے فریقین کی جرح سننے کے بعد کہا کہ ’’ طلبہ کی موجودگی کے ساتھ امتحانات کرائے جانے کا فیصلہ بہر صورت خطرے سے خالی نہیں ہے۔ امتحانات کرائے جانے یا اسے منسوخ کرنے کا فیصلہ ایجوکیشن پالیسی کے تحت محکمہ تعلیم طے کرے گا اس میں عدالت مداخلت نہیں کرے گی ۔ وہیں یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ طلبہ کو خطرے میں ڈال کر طلبہ کی موجودگی کے ساتھ امتحانات کرائے جائیں اور وہ بھی اس صورت میں کہ کورونا کی تیسری لہر موجودہ لہر سے مزید خطرناک ہوسکتی ہے ۔‘‘ کورٹ نے کہا کہ عدالت طلبہ کی موجودگی کے ساتھ امتحانات نہ کرائے جانے کے حق میں ہے اس لئے مذکورہ بالا عرضداشت پر مزید جرح نہیں ہوسکتی ہے اور اسے خارج کیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK