حکمت عملی کی میٹنگ میں امیت شاہ نے پارٹی کارکنوں کو۱۹۹۰ء میں کارسیوکوں پر فائرنگ کی یاد دلائی، جیتنے پر یوسی سی کے نفاذ کا اعلان کیا۔
لکھنؤ میں امیت شاہ یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ۔ تصویر: آئی این این
رام مندر چڑھاوا چوری کے معاملہ میں اپوزیشن کی تنقیدوں کے باوجود بی جے پی نے جمعہ کو واضح اشارہ دیا کہ وہ یوپی میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے ایک بار پھر ’رام‘ اور ’ہندوتوا‘ کے بھروسے ہے۔اس کےساتھ ہی پارٹی کے جنرل سیکریٹری ونود تاؤڑے اعلان کیا کہ وزارت اعلیٰ کیلئے پارٹی کا چہرہ یوگی آدتیہ ناتھ ہی ہوں گے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ’’اب کی بار ۴۰۰؍ پار‘‘ والی غلطی یوپی میں نہیں دہرائی جائے گی،انہوں نےکارکنوں کو ہدایت دی کہ ۲۰۲۷ء کے اسمبلی الیکشن میں پارٹی کو ۳۱۲؍ سیٹیں جیتنی ہیں۔
انتخابی حکمت عملی کے تعلق سے منعقدہ میٹنگ میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ بھی موجود تھے۔ انہوں نے پارٹی کے سینئر لیڈروں کے ساتھ تبادلہ خیال کے بعد پارٹی کارکنوں کے اجلاس میں ملائم سنگھ کے دور اقتدار میں ۳۰؍ اکتوبر ۱۹۹۰ء کو ایودھیا میں کار سیوکوں پر چلائی گئی گولیوں کا ذکر کیا۔
اسے پارٹی کارکنوں کیلئے اس پیغام کے طو رپر دیکھا جارہاہے کہ چڑھاوا چوری معاملے میں دفاعی رخ کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ۱۹۹۰ء کا معاملہ اٹھاکر سماجوادی کو نشانہ بنانا ہے۔
امیت شاہ نے یہ بھی کہا کہ اگر بی جے پی اسمبلی انتخابات کے بعد پھراقتدار میں آتی ہے تو ریاست میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کیا جائے گا۔اپنی تقریر کا آغاز ’رام رام‘ کے ساتھ کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کو ریاست میں حکومت سازی کی بات کرنے کا اخلاقی حق بھی نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ’’آپ (اکھلیش) کس منہ سے حکومت بنانے کی بات کرتے ہیں؟ آپ نے رام بھکتوں پر گولیاں چلائی تھیں جبکہ ہم نے رام مندر تعمیر کیا۔ عوام آپ کی تیسری نسل کو بھی معاف نہیں کریں گے۔‘‘