بالی ووڈ نے ایک ایسے فلم ساز کو کھو دیا ہے جس نے تقریباً تین دہائیوں تک ایکشن اور تھرلر فلموں کے ذریعے اپنی الگ پہچان بنائی اور کئی یادگار فلمیں شائقین کو دیں۔
EPAPER
Updated: October 31, 2026, 1:05 PM IST | Mumbai
بالی ووڈ نے ایک ایسے فلم ساز کو کھو دیا ہے جس نے تقریباً تین دہائیوں تک ایکشن اور تھرلر فلموں کے ذریعے اپنی الگ پہچان بنائی اور کئی یادگار فلمیں شائقین کو دیں۔
’’کانٹے‘‘، ’’زندہ‘‘ اور ’’شوٹ آؤٹ ایٹ وڈالا‘‘ جیسی ایکشن تھرلر فلموں کی ہدایتکاری کے لیے مشہور فلم ساز سنجے گپتا ہفتے کے روز ۵۹؍ سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ ’فلم انفارمیشن‘ کے مطابق، سنجے گپتا جمعہ کی رات اپنی رہائش گاہ پر گر گئے تھے اور اگلی صبح انہیں مردہ پایا گیا۔ ان کی موت کے حالات سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ فلم ساز اشوک پنڈت نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ کے ذریعے ان کے انتقال کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ سنجے گپتا کی موت سر پر چوٹ لگنے کے باعث ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: سکیش چندر شیکھر کے ۲۰۰ ؍کروڑ روپے کے وصولی معاملے میں نورا فتحی کو سمن
اشوک پنڈت نے لکھا، ’’یہ خبر واقعی صدمے اور افسوس کا باعث ہے۔ ابھی معلوم ہوا کہ ہمارے عزیز دوست اور بہترین ہدایتکار سنجے گپتا اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ گھر پر سر میں چوٹ لگنے کے باعث ان کا انتقال ہوگیا۔ ایک اور باصلاحیت فن کار بہت جلد ہم سے بچھڑ گیا۔ وہ کہانی سنانے کے غیر معمولی ہنر کے مالک، زندہ دل شخصیت اور فلم سازی سے گہری محبت رکھنے والے انسان تھے۔ ہماری فلمی صنعت کا ایک بڑا نقصان ہے۔ میرے دوست، ہم آپ کو یاد کریں گے۔ ان کے اہل خانہ اور عزیزوں سے دلی تعزیت۔ اوم شانتی۔ ان کی آخری رسومات سے متعلق تفصیلات جلد شیئر کی جائیں گی۔‘‘
سنجے گپتا نے ۱۹۹۴ء میں ایکشن فلم ’’آتش: فیل دی فائر‘‘ سے ہدایتکاری کے میدان میں قدم رکھا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ’’رام شاستر‘‘ (۱۹۹۵ء)، ’’جنگ‘‘ (۲۰۰۰ء) اور ’’خوف‘‘ (۲۰۰۰ء) جیسی فلموں کی ہدایتکاری کی۔ انہیں ۲۰۰۲ء میں ریلیز ہونے والی کئی بڑے اداکاروں پر مشتمل فلم ’’کانٹے‘‘ سے نمایاں کامیابی ملی۔ یہ فلم ڈکیتی کے موضوع پر مبنی تھی۔ تقریباً تین دہائیوں پر محیط اپنے فلمی سفر کے دوران سنجے گپتا نے پروڈکشن ہاؤس ’وائٹ فیدر فلمز‘ قائم کیا اور مصنف، ہدایت کار اور پروڈیوسر کی حیثیت سے کام کیا۔
ان کی ہدایتکاری میں بننے والی دیگر فلموں میں ’’ہمیشہ‘‘ (۱۹۹۷ء)، ’’مسافر‘‘ (۲۰۰۴ء)، نفسیاتی تھرلر فلم ’’زندہ‘‘ (۲۰۰۶ء)، مختصر فلموں پر مشتمل مجموعہ ’’دس کہانیاں‘‘ (۲۰۰۷ء)، ’’شوٹ آؤٹ ایٹ وڈالا‘‘ (۲۰۱۳ء)، ’’جذبہ‘‘ (۲۰۱۵ء)، ریتک روشن کی اداکاری والی فلم ’’قابل‘‘ (۲۰۱۷ء) اور ’’ممبئی ساگا‘‘ (۲۰۲۱ء) شامل ہیں۔ ان کی آخری ہدایتکاری میں بننے والی فلم ’’دی مرانڈا برادرز‘‘ تھی، جس میں ہرش وردھن رانے اور میزان جعفری نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔