’بزنس ورلڈ‘ نے وزارت مالیات کے ذیلی محکمہ کی داخلی رپورٹ کی بنیاد پر سنسنی خیز انکشافات کئے، دعویٰ کیا کہ خریدنے والے ادارہ نے جو بولی لگائی اس کی بنیاد پر قیمت طے کی گئی۔
EPAPER
Updated: October 31, 2026, 1:37 PM IST | Inquilab News Network | New Delhi
’بزنس ورلڈ‘ نے وزارت مالیات کے ذیلی محکمہ کی داخلی رپورٹ کی بنیاد پر سنسنی خیز انکشافات کئے، دعویٰ کیا کہ خریدنے والے ادارہ نے جو بولی لگائی اس کی بنیاد پر قیمت طے کی گئی۔
آئی ڈی بی آئی بینک کی نجکاری اور اس کے ۶۰؍ فیصد سے زائد شیئر کنیڈا کی کمپنی ’’فیئر فیکس فائنانشیل‘‘کو فروخت کئے جانے کے معاملے میں حکومت پر ضابطوں کی خلاف ورزی کا الزام عائدہوا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ پہلے فیئرفیکس کی جانب سے لگائی گئی بولی کو کھول کر دیکھ لیاگیا پھر اس کی بنیاد پر بینک کے شیئرز کی مالیت طے کی گئی تاکہ مذکورہ کمپنی کو اسے فروخت کرنے کی راہ ہموار ہوسکے۔ وزارت مالیات( بائیں جانب اوپر کا باکس دیکھیں) نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
پہلے شیئر کا تخمینہ زیادہ تھا، پیشکش کم تھی
’بزنس ورلڈ‘ کی رپورٹ کے مطابق ابتدا میں آئی ڈی بی آئی کے شیئرز کی کم از کم قیمت۹۴ء۴۲؍روپے فی شیئر مقرر کی گئی تھیلیکن بولی لگانے والوں کی پیشکش اس سے کم تھی۔ فیئر فیکس نے بعد میں فی شیئر۸۱؍روپے کی پیشکش کی۔ اس کے بعد ۱۳؍جولائی کو حکام نے بولی کھولی اور اسی دن پرانی کم از کم قیمت کو مسترد کرتے ہوئے نئے اصولوں کے تحت دوبارہ تخمینہ لگانے کی ہدایت دی۔ نئے تخمینہ میں شیئر کی قیمت ۷۵ء۹۹؍ ز روپے فی شیئر مقرر کی گئی جس کے مقابلے میں فیئر فیکس کی پیش کش زیادہ تھی جس نے شیئرز کو اسے فروخت کرنے کی راہ ہموار کی۔
بولی لگنے کے بعد تخمینہ کے تعین پر سوال
رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیابولی سامنے آنے کے بعد قیمت کا ازسرنو تعین کرنا فروخت کے عمل کو کسی مخصوص خریدار کے حق میں کرنے کے مترادف نہیں ہے۔ اس سودے کے تحت مرکزی حکومت اور لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا (ایل آئی سی) کے ۶۰ء۷۲؍فیصد شیئرفیئر فیکس کو فروخت ہوں گے۔ سودے کی مجموعی مالیت۵۲؍ہزار ۸۷۸؍ کروڑ روپے ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آئی ڈی بی آئی بینک کے معاملے پر سیتارمن کا راہل گاندھی کو جواب
کیامالی مجبوریاں سودے کا سبب ہیں؟
عوام کے سامنے حکومت نے فیئر فیکس اور آئی ڈی بی آئی کے سودے کو طویل عرصے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کا سب سے بڑا کا معاملہ بنا کر بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا مگربزنس ورلڈ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فروخت کی ایک اہم وجہ حکومت کی شدید مالی مشکلات سے نمٹنا تھا۔ بینک کے ملازمین نے اس معاملے کے پارلیمانی جائزہ اور سودے کی فوری معطلی کا مطالبہ کیا ہے۔
کھلے عام اور تحریری طور پر ضابطوں کی خلاف ورزی
ٹینڈر کے عمل میں عام طور پر یہ اصول ہوتا ہے کہ حکومت کی جانب سے فروخت کیلئے کم از کم قیمت’’ریزرو پرائس‘‘ طے کرنے والے حکام کو یہ علم نہیں ہونا چاہیے کہ بولی لگانے والے کتنی رقم پیش کرنے کوتیار ہیں۔ اسی لیے مالی بولیوں کا جائزہ ریزرو پرائس طے ہونے کے بعد ہی لیا جاتا ہے۔آئی ڈی بی آئی کے معاملے میں فیئر فیکس اور دوڑ میں شامل ایک دوسرے ادارہ نے ابتدا میں اپنی پیش کردہ قیمت بڑھانے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد کور گروپ آف سیکریٹریز نے۲؍ اور ۲۷؍ اپریل کو ۲؍ میٹنگیں کیں اور قیمت کا تخمینہ لگانے والی ایجنسیوں سے اپنی سابقہ سفارشات پر نظرثانی کو کہا۔
فیئرفیکس کی پیشکش اور شیئر کی قیمت میں کمی
یکم جون کو فیئر فیکس نے نظرثانی شدہ بولی پیش کی جس میں فی شیئر۸۱؍روپے ادا کرنے کی پیش کش کی گئی۔ اس کے بعد ۱۳؍ جولائی کو کور گروپ نے ایک ہی دن میں دو میٹنگیں کیں۔ پہلے بولی کھولی گئی، پھر فیئر فیکس کو سب سے زیادہ بولی لگانے والا قرار دیا گیااور اس کے بعد تخمینہ لگانے والی ایجنسیوں کو نئی قیمتیں مقرر کرنے کی ہدایت دی گئی۔ٹھیک ایک ماہ بعد، ایجنسیوں کی جانب سے نئے تخمینے سامنے آئے۔ ان کی روشنی میں کور گروپ نے فیئر فیکس کی بولی کو ’’مناسب‘‘ قرار دیا۔
حکومت نے سودے کا دفاع کیا
وزارت خزانہ نے وضاحت پیش کی ہے کہ بینک کی فروخت کیلئے مقررہ ریزرو قیمت میں نہ کوئی کمی کی گئی اور نہ اضافہ۔ وزارت کے مطابق، بولی لگانے کے طریقۂ کار اور قیمت کے تعین کے عمل کا جائزہ مجاز افسران کی کمیٹی نے لیا تھا اور پورا عمل طے شدہ اختیارات کے تحت انجام دیا گیا۔ وزارت خزانہ نےکہا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں بولیاں مقررہ قیمت تک نہیں پہنچ سکی تھیں، اس لیے ان بولیوں کو منظوری نہیں دی گئی۔ اس کے بعد اہل بولی دہندگان سے بہترین پیش کشیں طلب کرنے کیلئے دوسرا مرحلہ اختیار کیا گیا۔ اس مرحلے کیلئے طریقۂ کار ڈی آئی پی اے ایم کے تحت کام کرنے والی کور گروپ آف سکریٹریز آن ڈس انویسٹ منٹ (سی جی ڈی) نے طے کیا تھا۔