آج سےاے سی لوکل ٹرین کی۳۱؍ سروسیز کا اضافہ

Updated: October 01, 2022, 10:06 AM IST | saeed Ahmed | Mumbai

ویسٹر ن ریلو ے میں۱۵؍اپ اور ۱۶؍ڈاؤن خدمات بڑھائی جارہی ہیں۔ اے سی سروسیزبڑھنے سے سہولت کیساتھ مسائل کا بھی اندیشہ

AC local train service is being extended due to increasing number of passengers.
مسافروں کی بڑھتی تعداد کے سبب اے سی لوکل ٹرین سروس کو بڑھایا جارہا ہے۔(تصویر:آشیش راجے)

ٓج یکم اکتوبر سےنئے نظام الاوقات کے تحت ویسٹرن ریلوے میںنان اے سی اوراے سی لوکل ٹرینوں کااضافہ کیا جا رہا ہے۔اس سےمسافروں کویقیناً راحت ملے گی اوربھیڑبھاڑ میں ان کو کسی قدر آسانی ہوگی۔ریلوے انتظامیہ کی جانب سے بھلے ہی بار بار یہ دعویٰ کیاجاتا رہا ہوکہ مسافرو ںکی تعدادکے مقابلے کہیں زیادہ لوکل ٹرینیںبڑھائی گئی ہیںلیکن صبح وشام کے دفتری اوقات میںسفر کرنے والے لاکھوں مسافر آج بھی جان جوکھم میں ڈال کر سفر کرنے  پر مجبور ہیں ۔
 یکم اکتوبر سےجواضافہ کیا جارہا ہے اس کی وجہ سے مجموعی لوکل سروسیز ایک ہزار ۳۷۵؍ سے بڑھ کر ایک ہزار ۳۸۳؍ ہوجائیں گی۔ ان میں۸؍ نئی سروسیز ہیں جبکہ ۱۵؍ڈبے کی۵۰؍ سروسیز کو توسیع دی جارہی ہے جس سے۱۵؍ڈبے کی موجودہ سروسیز ۷۹؍سے بڑھ کر ۱۰۶؍ ہوجائیں گی ۔
 اس کےساتھ ہی۳۱؍ نئی اے سی سروسیز بھی بڑھائی جارہی ہیں جس سے اے سی لوکل خدمات۴۸؍سے بڑھ کر۷۹؍ ہوجائیں گی۔ اس میں۱۵؍اپ اور۱۶؍ڈاؤن ہوںگی۔اے سی سروسیز بڑھائے جانےسے چند فیصد مسافروں کو یقیناً آسانی ہوگی اوروہ خوش ہیں لیکن نان اے سی ٹرینوں میں سفر کرنے والے لاکھوں مسافروں کی پریشانی میں اضافہ بھی یقینی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اے سی لوکل ٹرینوں کوبھی ان ہی اوقات میںکسی نہ کسی طرح چلانا ہے جن وقتوں میںنان اے سی لوکل ٹرینیں چلائی جاتی ہیں۔
 ویسٹرن ریلوے میںمسافرو ںکی مجموعی تعداد تقریباً ۴۰؍ لاکھ ہے، اس میںسے ۳۵؍لاکھ سے زیادہ مسافر آج بھی یومیہ نان اے سی لوکل ٹرینو ں میںسفر کرتے ہیں ۔ اس لئے مسافروںکی جانب سےیہ اندیشہ ظاہر کیا جارہاہےکہ کہیں سینٹر ل ریلوے جیسے یہا ںبھی حالات نہ پیدا ہوجائیں اورپریشان ہوکروہ احتجاج پر مجبور ہوں۔
گنجائش اورمطالبے پر اے سی ٹرینیںبڑھانے کا دعویٰ
 ویسٹرن ر یلو ے کے چیف پی آر اوسمیت ٹھاکورنے نمائندۂ انقلاب کوبتایاکہ’’اس اضافے سے مسافرو ں کافی راحت ملے گی اور ۱۵؍ڈبے کی ٹرینوں کوتوسیع دینے سے بھی ہزارو ں مسافروں کے لئے سفر کی مزید گنجائش پیدا ہوگی۔‘‘
 انہوںنےایئرکنڈیشن ٹرینوں کےاضافے کےتعلق سے کہا کہ ’’گنجائش کے اعتبار سے ۳۱؍سروسیزکا اضافہ کیا جارہاہے۔ اس کے علاوہ مسافروں کی جانب سے اس کا مطالبہ کیا گیا تھا ،اسے عملی جامہ پہنایا گیا ہے تاکہ مسافر آرام کے ساتھ سفر کرسکیں۔اس سے نان اے سے لوکل ٹرینوں کے متاثر ہونےکا امکان نہیںہے۔‘‘
نان اے سی ٹرینیں متاثر ہونے کی ایک مثال 
 مستقل سفرکرنے والے عبدالرحمٰن خان نام کے ایک مسافر نے اے سی کے سبب نان اے سی لوکل متاثر ہونے کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ’’چرچ گیٹ سے بوریولی کے لئے شا م کو۵؍بجکر ۵۹؍ منٹ کی فاسٹ نان اے سی ہے پھراس کےنصف گھنٹے بعدیعنی ۶؍ بجکر ۲۶؍منٹ پر چرچ گیٹ سے بوریولی کیلئے نان اے سی فاسٹ لوکل ہے۔ درمیان کے وقفے میںنان اے سی لوکل کو اے سی میں بدل دیا گیا ہے جس سے مسافروں کو بہت پریشانی ہوتی ہے۔اسی طرح ۳۱؍ نئی سروسیز کے لئے گنجائش پیداکرنے کی غرض سے بھی نان اے سی ٹرینوں کواے سی میں بدلا جائے گا۔چنانچہ ریلوے کے لاکھ دعوے کےباوجود عام مسافرو ں کی پریشانی سے انکار نہیںکیا جاسکتا ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK