نقدی کے استعمال میں اضافہ کا رجحان

Updated: April 29, 2021, 11:14 AM IST | Agency | New Delhi

آر بی آئی کی رپورٹ کے مطابق کوروناکے دور میں اخراجات کی تکمیل کیلئے عوام اب نقد رقم پر ہی انحصارکر رہے ہیں

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

ملک میں کورونا کی نئی لہر کے سبب روز بروز سنگین ہورہے حالات میںعوام میں ایکبار پھر معاشی صورتحال کے تئیں غیر یقینی کی کیفیت بڑھتی جارہی ہے۔ وائرس کے پھیلائو کوروکنے کیلئے مختلف ریاستوں میں جزوی لاک ڈائون اور دیگر احتیاطی پابندیاں  عائد کئے جانے سے کاروباری سرگرمیاں دوبارہ تنزلی کا شکار ہیں۔ ان دگرگوں حالات میں عام ہو یا خاص ہر طبقہ کو فی الحال اپنے پاس دستیاب محدود وسائل میں ہی اپنے اخراجات  برداشت کرنے کی فکرمندی ستائے جارہی ہے۔
   عوام میں اس اضطرابی کیفیت کی عکاسی آر بی آئی کی ایک تازہ رپورٹ میں بھی نظر آتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کورونا کی نئی لہر کے دور میں اپنے اخراجات کی تکمیل کیلئے عوام میں نقدی استعمال کرنے کے رجحان میں نمایاں طور پر اضافہ ہوتا جارہا ہے۔آر بی آئی  کے مطابق  ۹؍ اپریل کو ختم ہوئے ہفتہ میں’ کرنسی و ِتھ پبلک ‘ کے اعدادوشمار۳۰۱۹۱؍ کڑورسے روپے سے بڑھ کر۲۷۸۷۹۴۱؍ کروڑ روپے کی نئی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ ۲۷؍ فروری سے ۹؍ اپریل کے دوران گزشتہ ۶؍ ہفتوں میں اس میں۵۲۹۲۸؍ کروڑ روپےکااضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی شرح میں مسلسل  بڑھتی جارہی ہے۔
 آر بی آئی کےتازہ اعداد و شمار کے مطابق کرنسی وتھ پبلک میں سالانہ بنیادوں پر۱۶ء۷؍ فیصد یا۳۹۸۳۸۲؍ کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ سال اسی عرصہ میں یہ اضافہ۱۴ء۶؍ فیصد یا۳۰۳۹۵۵؍کروڑ روپے تھا۔
  گزشتہ سال بھی یہ رجحان پروان چڑھا
 رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال جب  ملک میں کورونا کے پھیلائو کی ابتدا ہوئی  اور اس کے بعد ۲۴؍ مارچ کو لاک ڈائون عائد کیا گیا  تو اس دوران بھی عوام میں نقدی رکھنےکا رجحان پروان چڑھنے لگا اور کرنسی وتھ پبلک کے اعدادشمار میں یکسر اضافہ ہو گیاتھا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ سال مارچ سے جون کے درمیان عوام کے ہاتھوں نقد رقم کی صورت میں زیر مستعمل کرنسی میں ۳ء۰۷؍ لاکھ کروڑ روپے کا اضافہ درج کیا گیا  تھا۔ وہیں اس قبل فروری ۲۰۲۰ء کا جائزہ لیا جائے تو یہ۲۲ء۵۵؍ لاکھ کروڑ روپے تھی لیکن  مارچ سے ۱۹؍ جون کو ختم ہوئے ہفتہ کے دوران یہ۲۵ء۶۲؍ لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی تھی ۔
 جولائی کے بعد ’کیش ‘کی مانگ میں کمی آئی تھی
  مختلف رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال جولائی کے بعد جب معاشی سرگرمیاں مرحلہ وار طور پر بحال کی جانے لگیں تواس کے بعد نقد ی کی مانگ (ڈیمانڈ آف کیش)کم ہوگئی۔ وہیں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس دوران ڈیجیٹل  لین دین کی شرح میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ۔
 اقتصادی ماہرین کا کیا کہنا ہے؟
   مرکزی بینک کی  تازہ رپورٹ کے متعلق  اقتصادی ماہرین کاکہا ہے کہ سماج میں کسی بھی  غیر یقینی صورتحال کے ماحول میں لوگ نقد رقم کی دستیابی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اب کورونا کے موجودہ حالات کے سبب آنے والے دنوں میں سخت لاک ڈاؤن  عائد ہونےکے خدشات کے مد نظر  عوام کی بڑی تعداد بینکوں میں جمع  اپنی رقم نکا ل رہے ہیںتاکہ کسی ممکنہ سخت  پابندیوں کے دور میں بھی اپنےضرور ی اخراجات پورے کرنے کیلئےان کے پاس مطلوبہ رقم رہ سکے۔
بینکوں اور صارفین کا کیا کہنا ہے؟
  بینکنگ شعبہ کے ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ ناگہانی صورتحال میں لوگ نقد رقم کو ہی زیادہ  فوقیت دیتے ہیں۔  ایس بی آئی کے ایک منیجر کا کہنا ہے کہ پہلے اگر ایک عام شخص ہر ۳۰؍ماہ  سے ۴۰؍ ہزار روپے نکالتا تھا تو ا ب وہ جمع رقم کا زیادہ تر حصہ نکالنے لگے ہیں، لاکھوں روپے کیش نکالے جارہے ہیں۔ صارفین سے وجہ پوچھی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ پیسہ تو ان کا ہی ہےچاہے وہ بینک میں ہوگھر پر لیکن گھر پر رکھنے سےضرورت پڑنے پر آسانی ہوگی ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK