• Mon, 12 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان کاعالمی ٹیکنالوجی طاقت بننے کیلئے ۲۰۰؍ ارب ڈالر کا سیمی کنڈکٹر منصوبہ

Updated: October 11, 2026, 10:02 PM IST | New Delhi

جدید چِپس آج موبائل فون، کمپیوٹر، گاڑیوں، مصنوعی ذہانت، دفاعی آلات، مواصلاتی نظام اور صنعتی مشینوں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ ایسے میں چِپس کی تیاری، ڈیزائن اور فراہمی کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار کم کرنا ہندوستان کی صنعتی اور معاشی حکمت عملی کا اہم حصہ بن گیا ہے۔

Chip.Photo;INN
چِپ۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان نے سیمی کنڈکٹر یعنی نیم موصل چِپس کی صنعت میں اپنی موجودگی مضبوط کرنے اور عالمی ٹیکنالوجی کے شعبے میں اہم مقام حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ جدید چِپس آج موبائل فون، کمپیوٹر، گاڑیوں، مصنوعی ذہانت، دفاعی آلات، مواصلاتی نظام اور صنعتی مشینوں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ ایسے میں چِپس کی تیاری، ڈیزائن اور فراہمی کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار کم کرنا ہندوستان کی صنعتی اور معاشی حکمت عملی کا اہم حصہ بن گیا ہے۔ ۲۰۰؍ ارب ڈالر کی چِپ صنعت کا ہدف اسی بڑے خواب کی عکاسی کرتا ہے، تاہم اس رقم سے مراد مجموعی سرمایہ کاری، صنعت کی ممکنہ مالیت یا طویل مدتی کاروباری موقع ہے، یہ واضح ہونا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ٹی وی چینلز چاہتے تھے کہ میں کترینہ کیف کی ہندی کا مذاق اڑاؤں: منیش پال

ای وائی اور انڈیا الیکٹرانکس اینڈ سیمی کنڈکٹر ایسوسی ایشن کی ۱۹ ؍ستمبر ۲۰۲۶ ءکو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کی سیمی کنڈکٹر مارکیٹ ۲۰۲۶ ءمیں تقریباً ۶۴ ؍ ارب ڈالر سے بڑھ کر ۲۰۳۵ ءتک ۲۰۰ ؍ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ اس طرح اگلی دہائی میں اس صنعت کے حجم میں تین گنا سے زیادہ اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ تخمینہ ہندوستان میں الیکٹرانک مصنوعات کی بڑھتی ہوئی طلب، گاڑیوں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور مصنوعی ذہانت سے متعلق آلات کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش کیا گیا ہے۔ 
رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی سیمی کنڈکٹر مارکیٹ میں صارفین کی الیکٹرانک مصنوعات کا حصہ تقریباً ۳۰ ؍ فیصد، گاڑیوں کا ۱۶؍ فیصد اور صنعتی استعمال کا ۱۵؍ فیصد ہے۔ موبائل فون، کمپیوٹر، برقی گاڑیوں، طبی آلات، مواصلاتی نظام اور مصنوعی ذہانت کے لیے درکار چِپس کی بڑھتی ہوئی ضرورت اس صنعت کی ترقی کے اہم محرکات ہیں۔ اگر ہندوستان اس طلب کا بڑا حصہ مقامی پیداوار کے ذریعے پورا کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو اس سے درآمدات پر انحصار کم کرنے اور ملکی صنعت کو فروغ دینے کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ 
 ہندوستانی حکومت نے سیمی کنڈکٹر اور ڈسپلے کی تیاری کا بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کے لیے ۷۶؍ ہزار کروڑ روپے کے ابتدائی منصوبے کی منظوری دی تھی۔ حکومت کی جانب سے ۲۰۲۶ ءتک جاری کردہ معلومات کے مطابق، ملک کی چھ ریاستوں میں چِپ سازی اور پیکیجنگ سے متعلق ۱۰؍منصوبوں کو منظوری دی جاچکی ہے، جن میں مجموعی طور پر تقریباً ۱ء۶ ؍لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ ان منصوبوں میں چِپس کی تیاری، اسمبلی، جانچ اور پیکیجنگ کی مختلف سہولتیں شامل ہیں۔ 
ان منصوبوں کا مقصد صرف چِپس تیار کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا مکمل صنعتی نظام تشکیل دینا ہے جس میں تحقیق، چِپ ڈیزائن، خام مال، جدید مشینری، تیاری، جانچ اور پیکیجنگ کے تمام اہم مراحل ملک کے اندر ممکن ہوسکیں۔ اس سلسلے میں گجرات، آسام، اتر پردیش، پنجاب، ادیشہ اور آندھرا پردیش میں مختلف منصوبوں پر کام کیا جارہا ہے۔ حکومت نے ۲۷۔۲۰۲۶ء کے بجٹ میں انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن ۲ء۰ کا بھی اعلان کیا، جس کا مقصد چِپ سازی میں استعمال ہونے والی مشینری اور مواد کی مقامی تیاری، جدید ڈیزائن کی صلاحیت اور ملکی ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہے۔ اس حکمت عملی کے ذریعے ہندوستان کو محض الیکٹرانک مصنوعات کی اسمبلی تک محدود رکھنے کے بجائے زیادہ پیچیدہ اور قدر افزا صنعتی سرگرمیوں کی جانب لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:سہواگ کو۱۵؍ سالہ ویبھو سوریہ ونشی میں اپنی جھلک نظر آتی ہے

ہندوستان کو اس صنعت میں کئی اہم فوائد حاصل ہیں۔ ان میں انجینئروں اور تکنیکی ماہرین کی بڑی تعداد، چِپ ڈیزائن میں تجربہ، وسیع گھریلو منڈی اور الیکٹرانک مصنوعات کی بڑھتی ہوئی طلب شامل ہیں۔ ای وائی اور متعلقہ صنعتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر کے چِپ ڈیزائن انجینئروں میں ہندوستان کا حصہ تقریباً ۲۰؍فیصد ہے۔ یہ صلاحیت ملک کو چِپ ڈیزائن اور تحقیق کے شعبوں میں اہم کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔  اس کے علاوہ، عالمی سطح پر چِپس کی فراہمی کا بڑا حصہ چند ممالک اور کمپنیوں میں مرتکز ہے۔ اس صورت حال میں متعدد عالمی کمپنیاں اپنی رسد کے ذرائع کو متنوع بنانے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ ہندوستان اگر مناسب بنیادی ڈھانچہ، قابل اعتماد پیداواری نظام اور عالمی معیار کی مصنوعات فراہم کرسکے تو اسے بین الاقوامی کمپنیوں کی سرمایہ کاری اور عالمی رسدی سلسلے میں زیادہ حصہ حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
 سیمی کنڈکٹر کی تیاری انتہائی پیچیدہ اور سرمایہ طلب صنعت ہے۔ جدید چِپ سازی کے کارخانوں کے قیام کے لیے بھاری سرمایہ، مسلسل تحقیق، جدید ترین مشینری، مستحکم بجلی، انتہائی صاف ماحول اور بڑی مقدار میں پانی درکار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، چِپس کی تیاری میں مہارت حاصل کرنے اور عالمی معیار کے مطابق پیداوار شروع کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ ہندوستان کے لیے ایک بڑا چیلنج یہ بھی ہے کہ چِپ ڈیزائن میں مہارت کو بڑے پیمانے پر تجارتی پیداوار میں تبدیل کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ تعاون، مقامی ماہرین کی تربیت، تحقیق میں سرمایہ کاری اور خام مال و مشینری کی قابل اعتماد فراہمی ضروری ہوگی۔ عالمی منڈی میں پہلے سے قائم کمپنیوں سے مقابلہ کرنے کے لیے ہندوستانی کارخانوں کو معیار، لاگت اور پیداواری صلاحیت کے لحاظ سے بھی مسابقتی ہونا پڑے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK