Updated: March 02, 2026, 4:00 PM IST
| New Delhi
پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران احتجاج کرنے والے انڈین یوتھ کانگریس کے نو کارکنوں کو ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ ان کا عمل ’’سیاسی اختلاف‘‘ تھا، نہ کہ منظم جرم یا تشدد۔ عدالت نے زور دیا کہ قبل از مقدمہ حراست ذاتی آزادی کے حق کے منافی نہیں ہونی چاہیے۔
پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس روی نے اتوار کو انڈین یوتھ کانگریس (آئی وائی سی) کے نو کارکنوں کی ضمانت منظور کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج علامتی سیاسی اظہار تھا۔ ضمانت پانے والوں میں کرشنا ہری، نرسمہا یادو، کندن کمار یادو، اجے کمار سنگھ، جتیندر سنگھ یادو، راجہ گرجر، اجے کمار ومل عرف بنٹو، سوربھ سنگھ اور ارباز خان شامل ہیں۔عدالت نے اپنے تفصیلی حکم میں کہا کہ ’’احتجاج، زیادہ سے زیادہ، عوامی تقریب کے دوران علامتی سیاسی تنقید کی تشکیل کرتا ہے ، قیادت کی تصویر کے ساتھ ٹی شرٹس، فرقہ وارانہ یا علاقائی داغ سے عاری غیر اشتعال انگیز نعرے، اور عارضی اسمبلی۔ کوئی ثبوت جائیداد کی توڑ پھوڑ یا مندوبین کی گھبراہٹ کا انکشاف نہیں کرتا؛ باہر نکلنا منظم طریقے سے تخرکشک کے ذریعے تھا۔‘‘
احتجاج کا پس منظر
یہ کارکن ۲۰؍ فروری کو بھارت منڈپم میں منعقدہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران احتجاج کے بعد گرفتار کیے گئے تھے۔ مظاہرین نے اپنی ٹی شرٹس دکھائیں جن پر لکھا تھا: ’’وزیراعظم سمجھوتہ کیا گیا ہے‘‘، اور انڈیا امریکہ تجارتی معاہدے پر تنقیدی نعرے درج تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے۔دہلی پولیس نے اس معاملے میں مجموعی طور پر ۱۴؍ افراد کو گرفتار کیا تھا اور الزام عائد کیا کہ سیکوریٹی کی خلاف ورزی کی گئی اور ’’ملک مخالف‘‘ نعرے لگائے گئے۔
استغاثہ نے مؤقف اپنایا کہ احتجاج نے ایک عالمی سطح کی تقریب میں خلل ڈال کر قومی سلامتی، بین الاقوامی تعلقات اور قومی سالمیت کو خطرے میں ڈالا۔ پولیس نے کہا کہ اگر ملزمان کو رہا کیا گیا تو شواہد سے چھیڑ چھاڑ کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب دفاع نے مؤقف اختیار کیا کہ تمام الزامات ایسے جرائم سے متعلق ہیں جن کی زیادہ سے زیادہ سزا سات سال سے کم ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کےستیندر کمار انٹیل فیصلے کا حوالہ دیا، جس کے تحت ایسے مقدمات میں ضمانت عام اصول ہے۔ دفاع نے دلیل دی کہ احتجاج پرامن تھا اور آئین کے آرٹیکل 19(1)(a) اور 19(1)(b) کے تحت آزادی اظہار اور پرامن اجتماع کا حق حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اجیت پوار کا طیارہ حادثہ کا شکارکیسے ہوا؟ ابتدائی رپورٹ پیش
عدالت کا آئینی حوالہ
عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی الزام میں سات سال سے زیادہ سزا نہیں ہے اور کہا کہ ’’قبل از مقدمے کی حراست، کسی لازمی ضرورت کے بغیر، سزا کی غیر قانونی پیشگی شکل اختیار کر لیتی ہے۔‘‘ جج نے استغاثہ کی ’’لگاتار سزا‘‘ والی دلیل کو ضمانت کے مرحلے پر ’’فقہی حدود سے محروم‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ضمانت کا مرحلہ سزا کے قیاس پر نہیں بلکہ آزادی کے اصول پر مبنی ہوتا ہے۔ عدالت نے آئین کے آرٹیکل۲۱(ذاتی آزادی) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غیر ضروری طویل حراست بنیادی حقوق کے منافی ہے۔
انڈین یوتھ کانگریس نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’’سچائی کو دبایا نہیں جا سکتا۔ بھارت مخالف امریکی تجارتی معاہدے پر سوالات جاری رہیں گے۔‘‘ تنظیم نے وزیر اعظم سے سوال کیا کہ کن دباؤ کے تحت کسانوں اور نوجوانوں کے مفادات کے خلاف سمجھوتہ کیا گیا۔