Updated: September 06, 2026, 5:14 PM IST
| New York
عالمی توانائی تجارت میں ہندوستان کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ توانائی انٹیلی جنس فرم وورٹیکسا کی ایک رپورٹ کے مطابق روس سے ڈیزل کی سپلائی میں نمایاں کمی اور امریکہ سے برآمدات میں کمزوری کے درمیان ہندوستان یورپ کے لیے ڈیزل کے ایک اہم سپلائر کے طور پر ابھرا ہے۔
تیل کی ریفائنری۔ تصویر:آئی این این
عالمی توانائی تجارت میں ہندوستان کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ توانائی انٹیلی جنس فرم وورٹیکسا کی ایک رپورٹ کے مطابق روس سے ڈیزل کی سپلائی میں نمایاں کمی اور امریکہ سے برآمدات میں کمزوری کے درمیان ہندوستان یورپ کے لیے ڈیزل کے ایک اہم سپلائر کے طور پر ابھرا ہے۔ اگست ۲۰۲۶ء میں باب المندب سمندری راستے سے یورپ جانے والے ڈیزل کارگوز کا تقریباً ۶۰؍ فیصد حصہ ہندوستانی ریفائنریز سے آیا۔
رپورٹ کے مطابق اگست کے دوران یورپ کے لیے روانہ ہونے والے تقریباً ۲؍ لاکھ بیرل یومیہ (بی پی ڈی ) ڈیزل اور گیس آئل نے باب المندب راستے کا استعمال کیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے قریب رہا۔ مارچ اور اپریل ۲۰۲۶ءمیں اس اہم سمندری راستے سے آمدورفت تقریباً رک گئی تھی، ایسے میں ہندوستان نے یورپ کی مشرقی ایندھن سپلائی چین کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ہندوستان کی مضبوط پوزیشن اس کے وسیع ریفائننگ نیٹ ورک پر مبنی ہے۔ ملک میں اس وقت سالانہ ۱ء۲۵۸؍ ملین ٹن کی نصب شدہ ریفائننگ صلاحیت موجود ہے، جس کے ساتھ ہندوستان دنیا کا چوتھا سب سے بڑا آئل ریفائننگ مرکز ہے۔ ملک کی ریفائننگ صلاحیت گھریلو ایندھن کی طلب سے کہیں زیادہ ہے، جس کی وجہ سے ہندوستانی کمپنیاں بڑی مقدار میں پیٹرولیم مصنوعات برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:انشومن جھا اور رگھوبیر یادو کی فلم ’’اوم کا ہری‘‘۱۸؍ ستمبر کو ریلیز ہوگی
مالی سال ۲۶۔۲۰۲۵ء کے دوران ہندوستان نے تقریباً ۱۵ء۶؍ کروڑ ٹن پیٹرولیم مصنوعات برآمد کیں، جس کے باعث وہ دنیا کے بڑے ریفائنڈ فیول ایکسپورٹرز میں شامل ہے۔ یورپ میں ان مصنوعات کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے، جہاں پابندیوں، ریفائنریز میں رکاوٹوں اور عالمی تجارتی راستوں میں تبدیلی کے باعث متبادل سپلائی ذرائع کی ضرورت میں اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ نے ہندوستان کے یورپی ڈیزل مارکیٹ میں بڑھتے کردار کی پائیداری پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ ہندوستان کو خام تیل کی سپلائی میں آنے والی کمی ہے۔ اگست میں ہندوستان کو خام تیل اور کنڈینسیٹ کی درآمد مسلسل دوسرے ماہ کم ہو کر تقریباً ۳۸؍ لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، جبکہ ایک سال قبل یہ مقدار تقریباً ۴۸؍ لاکھ بیرل یومیہ تھی۔ یورپ میں ڈیزل کی سپلائی پر سب سے بڑا دباؤ روسی برآمدات میں شدید کمی کی وجہ سے ہے۔ کبھی یورپ کے بڑے ڈیزل سپلائر رہنے والے روس سے سمندری راستے کے ذریعے ڈیزل اور گیس آئل کی برآمدات اگست کے پہلے ۲۵؍ دنوں میں اوسطاً صرف ۵ء۱؍ لاکھ بیرل یومیہ رہیں۔ یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ۱ء۶؍ لاکھ بیرل یومیہ کم اور پانچ سالہ موسمی اوسط سے تقریباً ۸۱؍ فیصد نیچے ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مراد آباد: سرکٹ ہاؤس کے احاطہ میں نماز پڑھنے پر ایس پی کے لیڈر پر ایف آئی آر
رپورٹ کے مطابق روس کی جانب سے یکم ستمبر سے ڈیزل برآمدات پر بعض پابندیوں میں نرمی کے باوجود فوری طور پر سپلائی میں نمایاں بہتری کے امکانات محدود ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ یوکرین کی جانب سے روسی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر جاری ڈرون حملے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صرف جولائی اور اگست کے دوران روسی ریفائنریز ۳۲؍ ڈرون حملے ریکارڈ کیے گئے، جن سے پیداوار اور برآمدی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔ اگر روس سے ڈیزل کی سپلائی طویل عرصے تک متاثر رہتی ہے اور یورپ میں طلب مضبوط برقرار رہتی ہے تو بھارتی ریفائنریوں کے لیے برآمدات کے مزید مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم، اس کے لیے ہندوستان کو خام تیل کی مناسب دستیابی کے ساتھ ساتھ مسابقتی ریفائننگ مارجن برقرار رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہوگا۔
ہندوستان کی بڑھتی ہوئی موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک اب صرف دنیا کا ایک بڑا توانائی صارف نہیں رہا بلکہ عالمی توانائی سپلائی چین کا ایک اہم مرکز بھی بنتا جا رہا ہے۔ یورپی ڈیزل مارکیٹ میں ہندوستان ریفائنریزکا کردار آنے والے مہینوں میں عالمی توانائی تجارت کے اہم رجحانات میں شامل رہ سکتا ہے۔