Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان نے ایران کا تیل ڈالر کے بجائے یوآن میں خریدا، ادائیگی کا طریقہ کیوں بدلا؟

Updated: April 17, 2026, 9:12 PM IST | New Delhi

پچھلے مہینے امریکہ نے روس اور ایران سے سمندری راستے کے ذریعے تیل کی خریداری پر ۳۰؍ دن کی عارضی رعایت دی تھی۔ اس کا مقصد جنگ کی وجہ سے بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا تھا۔

Oil Tanker.Photo:INN
تیل کا ٹینکر۔تصویر:آئی این این

ہندوستان کی تیل ریفائننگ کمپنیاں اب ایران سے خریدے گئے تیل کی ادائیگی چینی کرنسی یوآن میں کر رہی ہیں۔ معلومات کے مطابق یہ ادائیگی ممبئی میں واقع آئی سی آئی سی آئی بینک کے ذریعے کی جا رہی ہے، جو اپنی شنگھائی برانچ کے ذریعے یوان میں رقم منتقل کر رہا ہے۔ اس پورے معاملے کی معلومات رکھنے والے چار ذرائع نے یہ بات بتائی ہے۔
 امریکی  رعایت کے بعد خریداری شروع ہوئی
پچھلے مہینے امریکہ نے روس اور ایران سے سمندری راستے کے ذریعے تیل خریدنے پر ۳۰؍ دن کی عارضی  رعایت دی تھی۔ اس کا مقصد جنگ کے باعث بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا تھا۔ تاہم امریکی ٹریژری سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے واضح کر دیا ہے کہ یہ چھوٹ آگے نہیں بڑھائی جائے گی اور ایرانی تیل پر یہ رعایت اتوار کو ختم ہو جائے گی۔
 سات سال بعد ہندوستان نے ایرانی تیل خریدا
اسی چھوٹ کے تحت ہندوستان کی سب سے بڑی سرکاری ریفائنری انڈین آئل کارپوریشن (آئی او سی ) تقریباً ۲۰؍ لاکھ بیرل ایرانی تیل خریدا۔ یہ خریداری تقریباً ۲۰۰؍ ملین ڈالر کی تھی اور گزشتہ سات سال میں پہلی بار ہندوستان نے ایران سے تیل خریدا ہے۔ اس کے علاوہ ریلائنس انڈسٹریز کے لیے بھی چار جہازوں کوہندوستان آنے کی اجازت دی گئی، جن میں سے ایک جہاز ایم ٹی فیلسیٹی اپنا تیل اتار چکا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’ اکیڈمی‘ نے شاہ رخ خان کو ’اوم شانتی اوم‘ کلپ کے ساتھ خراجِ تحسین پیش کیا


 ادائیگی کا طریقہ مختلف اور خاص
ذرائع کے مطابق آئی او سی اور ریلائنس دونوں نے اس تیل کی ادائیگی آئی سی آئی سی آئی بینک کے ذریعے کی ہے، جس میں یوان کا استعمال کیا گیا۔ بینک اپنی شنگھائی برانچ کے ذریعے براہ راست فروخت کنندگان کے اکاؤنٹس میں یوان منتقل کر رہا ہے۔ تاہم فروخت کنندگان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ آئی او سی نے اس معاہدے میں تقریباً ۹۵؍ فیصد ادائیگی اس وقت کر دی جب تیل سے بھرا جہاز ہندوستانی پانی میں پہنچا۔ اسے ’’نوٹس آف ریڈی نیس‘‘ کہا جاتا ہے۔ عام طور پر ہندوستانی کمپنیاں تیل کی ادائیگی ڈیلیوری یا مال اتارنے کے بعد کرتی ہیں، لیکن اس بار طریقہ کار مختلف رہا۔ بہرحال ایران پر طویل عرصے سے لگے امریکی پابندیوں کے باعث ادائیگی کرنا ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ اسی وجہ سے کئی خریدار اس چھوٹ کے باوجود ایرانی تیل خریدنے سے گریز کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:اولمپک فگر اسکیٹنگ پیئرز چیمپئن میورا ریکو اور کیہارا ریوئیچی نے ریٹائرمنٹ لے لی


 آگے کا منصوبہ کیا ہے؟
روئٹرز کے ذرائع کے مطابق انڈین آئل فی الحال مزید ایرانی تیل خریدنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ ہندوستانی نے ۲۰۱۹ءکے بعد امریکی دباؤ کے باعث ایران سے تیل خریدنا بند کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے چین کی چھوٹی ریفائنری کمپنیاں، جنہیں ’’ٹی پاٹ‘‘ کہا جاتا ہے، ایرانی تیل کی اہم خریدار بنی ہوئی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK