• Wed, 28 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

سنجے کندا سوامی؛ ملک کے کامیاب گردہ ٹرانسپلانٹ کا پہلا بچہ اب خود ڈاکٹر ہے

Updated: November 18, 2023, 6:06 PM IST | New Delhi

۱۹۹۸ء میں جب سنجے کندا سوامی ۲۰؍ماہ کے تھے تو دہلی کے اپولو اسپتال میں ان کے گردے کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کیا گیا تھا۔ اس عمل سے گزرنے والے وہ پہلے ہندوستانی بچے تھے۔ ان کے والد نے انہیں گردہ عطیہ کیا تھا۔ اپولو اسپتال کے سینئر اور بچوں کے ماہر ڈاکٹر انوپم سبل نے کہا کہ سنجے کا گردہ تبدیل کرنے کا فیصلہ مشکل تھا لیکن ان کے والدین نے عزم اور ہمت کے ساتھ یہ فیصلہ کیا اور اب سنجے ایک کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ ۲۵؍ سال بعد اب سنجے خود ایک ڈاکٹر ہیں اور لوگوں کو اعضاء عطیہ کرنے کی جانب راغب کرتے ہیں۔

Sanjay Kandasamy Photo: INN
ڈاکٹر سنجے کنندا سوامی۔ تصویر: آئی این این

۱۵؍ نومبر ۱۹۹۸ء کو سنجے کندا سوامی ۲۰؍ ماہ کے تھے جب دہلی کے مشہور اندراپرستھا اپولو اسپتال کے ڈاکٹروں نے ان کا گردہ کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کیا تھا۔ اس عمل سے گزرنے والے وہ پہلے ہندوستانی تھے۔ ۲۵؍ سال بعد، سنجے اب خود ڈاکٹر ہیں جو اپنے آبائی وطن کانچی پورم کے ایک مقامی اسپتال میں طب کی پریکٹس کر رہے ہیں اور دیہاتی علاقوں میں لوگوں کو اعضاء کے عطیہ کیلئے آگاہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے مثال پیش کی ہے کہ کس طرح اعضا ء کا وصول کنندہ آپریشن کے بعد سادہ زندگی گزار سکتا ہے۔ سنجے نے اپنے آبائی وطن آنے سے پہلے بنگلور کے اپولو اسپتال میں بھی خدمات انجام دی تھیں۔ سنجے کا کہنا ہے کہ میں اپنے آپریشن کے دوران بہت چھوٹا تھا لیکن میں نے اپنے آپریشن کے متعلق اپنی والدہ سے دریافت کیا تھا اس لئے ان کی بتائی ہوئی باتیں مجھے یاد ہیں۔ جب میرا شعور پختہ ہوا اور مجھے سمجھ آیا کہ آخر میرے والد نے میرے لئے کیا کیا ہے اور ڈاکٹروں نے کس طرح میری جان بچائی تب میں نے فیصلہ کیا تھا کہ مجھے مستقبل میں ڈاکٹر بننا ہے اور انسانی جانوں کی حفاظت کرنا ہے۔
سنجے نازک حالت میں پیدا ہوئے تھے۔ انہیں بلیری ایٹریسیا نامی بیماری تھی، جو گردے کی بیماری ہے جس کے سبب گردے کے ٹیوبس میں بلاکیج ہو جاتے ہیں۔ان کی یہ بیماری اس وقت ظاہر ہوئی جب ان کے گردے کے باہر اور اندر کے بائیل ڈکٹس عام طور پر افزائش نہیں پارہے تھے۔ ان کی بیماری کے سبب انہیں یرقان ہو گیا تھا جس کی وجہ سے ان کی حالت مزید نازک ہو گئی تھی۔
جب ڈاکٹروں نے سنجے کے گردے کی تبدیلی کا ذکر کیا تو ان کے والد بنا کسی اعتراض کے انہیں اپنا گردہ دینے کیلئے تیار ہو گئے تھے۔ اس وقت ان کی عمر ۶۱؍ سال تھی اور وہ صحت مند تھے۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Indraprastha Apollo Hospital (@apollohospitaldelhi)

 اندرا پرستھا اسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر اوربچوں کے ماہر ڈاکٹر انوپم سبل نے کہا کہ ۲۰؍ ماہ کے سبجے کا گردہ تبدیل کرنے کا فیصلہ مشکل تھا۔ اس وقت کافی شک و شبات اور اندیشے تھے۔ جب پہلی مرتبہ کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے تو لوگ کافی اداس ہو جاتے ہیں، خاص طور پر جب ایسا فیصلہ کرنا ہے جس میں کسی کی زندگی خطرے میں ہو لیکن سنجے کے والدین نے ہمت اور عزم کے ساتھ فیصلہ کیااور اب سنجے بہترین زندگی گزار رہے ہیں۔ سنجے اس کی بہترین مثال ہیں کہ گردے کا عطیہ قبول کرنے والا شخص اپنی زندگی کی خوبی سے سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ ڈاکٹر سبل جنہیں سنجے ’’ڈاکٹر انکل ‘‘ بھی پکارتے ہیں، کو سنجے کے اہل خانہ نے مارچ میں سنجے کی شادی کی دعوت بھی دی ہے۔ 
ڈاکٹر سبل نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ بچے جن کے گردے تبدیل کئے جاتے ہیں، فعال زندگی گزارتے ہیں۔ ہمارے بہت سے مریض عام زندگی گزار رہے ہیں۔ اپولو اسپتال کے ڈاکٹروں نے کندا سوامی کا گردہ ٹرانسپلانٹ کرنے کی ۲۵؍ ویں سالگرہ کے موقع پر ۵۰۰؍ واں گردہ ٹرانسپلانٹ کا آپریشن کامیاب کیا ہے۔ ۲۷؍ سالہ انجلی کماری، جن کی بیٹی پریشا کا گردہ ٹرانسپلانٹ کیا گیا ہے، نے اپنا ۲۰؍ فیصد گردہ اپنی بیٹی کو عطیہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی صحت مند ہے اور آپریشن کے بعد سے اسے کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں ہے۔ کماری نے اپنی بیٹی کے تعلق سے مزید کہا کہ وہ اب کھیل بھی سکتی ہے اور اس کا وزن بھی بڑھ رہا ہے۔ ہم اس کے آپریشن کے بعد ۳؍ ماہ کیلئے دہلی میں رہ رہے ہیں اور خوش ہیں کہ ہماری بیٹی اب عام زندگی گزار سکتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK