مغربی ایشیا بحران کی وجہ سے عالمی توانائی سپلائی متاثر ہونے کے درمیان ہندوستان نے واضح کیا ہے کہ وہ روس سے مسلسل تیل خریدتا رہا ہے۔
EPAPER
Updated: May 18, 2026, 8:03 PM IST | Mumbai
مغربی ایشیا بحران کی وجہ سے عالمی توانائی سپلائی متاثر ہونے کے درمیان ہندوستان نے واضح کیا ہے کہ وہ روس سے مسلسل تیل خریدتا رہا ہے۔
مغربی ایشیا بحران کی وجہ سے عالمی توانائی سپلائی متاثر ہونے کے درمیان ہندوستان نے واضح کیا ہے کہ وہ روس سے مسلسل تیل خریدتا رہا ہے اور یہ خریداری پابندیوں سے پہلے، پابندیوں میں چھوٹ کے دوران بھی اور ابھی بھی جاری ہے۔ ہندوستان نے کہا ہے کہ ملک کی سرکاری شعبے کی تیل کمپنیاں خریداری کے وقت تجارتی یعنی بازار کے نقطہ نظر کو ذہن میں رکھ کر فیصلہ کرتی ہیں۔
پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت میں جوائنٹ سکریٹری سجاتا شرما نے مغربی ایشیا بحران کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال کی معلومات دینے کے لیے بلائی گئی پریس کانفرنس میں سوالات کے جواب میں یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں خام تیل کی کوئی کمی نہیں ہے اور مختلف ذرائع سے خریداری کے ذریعے تیل کی سپلائی یقینی بنائی جا رہی ہے۔
شرما نے ہندوستان کی روس سے تیل خریداری پر امریکی پابندیوں میں چھوٹ کے ختم ہونے کے بعد وہاں سے تیل خریداری کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستان روس سے پہلے سے ہی تیل خرید رہا ہے یعنی چھوٹ سے پہلے بھی، چھوٹ کے دوران بھی اور اب بھی۔ جوائنٹ سکریٹری نے کہا کہ ہندوستان میں تیل کہاں سے خریدا جانا ہے اس کا فیصلہ بازار کی صورتحال کو ذہن میں رکھ کر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں خام تیل کی سپلائی برابر یقینی بنائی جا رہی ہے اور یہ چھوٹ ہو یا نہ ہو اس سے متاثر نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھئے:’’امّا اَریان‘‘ کو ریلیز کے تقریباً ۴۰؍ سال بعد عالمی سطح پر دوبارہ پیش کیا گیا
قابل ذکر ہے کہ امریکہ نے ہندوستان کے روس سے تیل خریدنے پر پابندی لگا رکھی ہے لیکن مغربی ایشیا بحران کو دیکھتے ہوئے امریکہ نے ان پابندیوں میں چھوٹ دی تھی جو ۱۶؍ مئی کو ختم ہو گئی۔ ایک اور سوال کے جواب میں شرما نے بتایا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سے تیل کمپنیوں کے نقصان میں تھوڑی کمی آئی ہے اور اب انہیں ہر روز ۷۵۰؍ کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی حکومت تیل کمپنیوں کو نقصان کی تلافی کے لیے امدادی پیکیج دینے کی کسی تجویز پر غور نہیں کر رہی۔
یہ بھی پڑھئے:بنگلہ دیش کی میچ میں مضبوط پوزیشن، پاکستان کو جیت کیلئے ۴۳۷؍ رنز کا ہدف
انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا بحران شروع ہوئے ڈھائی مہینے سے زیادہ کا وقت ہو گیا ہے اور آبنائے ہرمز میں صورتحال ابھی بھی معمول پر نہیں ہے۔ اس سے بین الاقوامی بازار میں تیل کی قیمتیں بڑھی ہیں اور اس سے ہماری درآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تمام ریفائنریاں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں اور ملک میں خام تیل کی کمی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایل پی جی کی سپلائی بھی معمول کے مطابق بنی ہوئی ہے۔