ہندوستان میں بچوں کے جرم کی دنیا میں داخل ہونے کے رجحان میں اضافہ

Updated: September 22, 2021, 8:18 AM IST | new Delhi

نیشنل ریکارڈ بیورو کے مطابق اس معاملے میں مدھیہ پردیش سب سے آگے ہے، یہاں پر گزشتہ سال۱۳۵؍ نابالغوں پر قتل کے الزامات عائد ہوئے ہیں

The rise in crime among children is a moment of reflection.Picture:INN
بچوں میں جرائم کے رجحان میں اضافہ ایک لمحہ فکریہ تصویر آئی این این

ہندوستان میں جرائم کی شرح میں اضافہ صرف بڑوں میں نہیں ہوا ہے بلکہ بچوں میں بھی اس رجحان میں کافی  اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۰ء میں بچوں کے ذریعہ قتل کی واردات کو انجام دینے کے معاملات میں قدرے اضافہ درج کیا گیا ہے جبکہ اسی عمر کے گروپ میں قتل کی کوششوں میں پہلے سے کچھ کمی آئی ہے۔
 نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) نے ابھی حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ اس کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ ’کرائم ان انڈیا۲۰۲۰ء‘ کے مطابق، ملک میں۲۰۱۹ء میں نابالغوں کے خلاف قتل کے۸۲۷؍ مقدمات درج کئے گئے تھے جبکہ۲۰۲۰ء میں۸۴۲؍ نابالغوں کے خلاف قتل کی کوشش کے مقدمات درج کئے گئے  ہیں۔ اس سے قبل یہ تعداد کافی کم تھی۔  
 رپورٹ کے مطابق ان میں مختلف ریاستوں میں۷۷۲؍ معاملات درج کئے گئے ہیں جبکہ مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں ۷۰؍ نابالغوں پرقتل کے الزامات عائد ہوئے ہیں۔اس معاملے میں مدھیہ پردیش سر فہرست ہے۔ اس ریاست میں سب سے زیادہ ۱۳۵؍، مہاراشٹر میں۱۲۵؍ اور تمل ناڈو میں۱۰۴؍ اس نوعیت کے کیس درج ہوئے ہیں۔ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اس طرح کے معاملات کی تعداد سب سے زیادہ دہلی میں ہے جہاں بچوں کے خلاف ۵۷؍ معاملات درج کئے گئے ہیں۔
 رپورٹ کے مطابق۲۰۱۹ء میں ریاستوں میں۷۵۰؍ اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں نابالغوں پر۷۷؍قتل کے مقدمات درج کئے گئے تھے۔ دہلی میں۷۲؍، مہاراشٹر میں۱۲۲؍، تمل ناڈو میں ۹۲؍ اور مدھیہ پردیش میں۸۴؍ کیس رپورٹ ہوئے تھے۔اس طرح دیکھا جائے تو بچوں میں جرائم کے رجحان کے معاملے میں گزشتہ ایک سال میں مدھیہ پردیش کا گراف کافی اونچا ہوگیا ہے۔  
 این سی آر بی کے اعداد و شمار میں ملک میں بالغوں کے خلاف  جرم کی تعداد میں کمی آئی ہے۔۲۰۱۹ء میں  ملک بھر میں جہاں کل ایسے۹۹۴؍ معاملے درج کئے گئے تھے، وہیں ۲۰۲۰ء  میں ۹۸۱؍ ایسے معاملات درج کئے گئے ۔
 رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۰ء میں نوعمروں کے قتل کی کوشش کے درج معاملات میں۸۹۵؍ ریاستوں اور۸۶؍ مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ریاستوں میں سب سے زیادہ ۲۰۱؍ معاملے مہاراشٹر میں درج کئے گئے ہیں۔ اسی طرح  مدھیہ پردیش میں۱۴۴؍ اور راجستھان میں۱۰۴؍ معاملے ہیں جبکہ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کل ایسے۸۶؍ معاملات درج کئے گئے ہیں جن میں سے صرف دہلی میں اس نوعیت کے۷۷؍ معاملات سامنے آئے ہیں۔  
 نوعمرو ں کے قتل کی کوشش کے معاملات میں۲۰۱۹ء میں مہاراشٹر میں سب سے زیادہ ۲۰۱؍، مدھیہ پردیش میں۱۲۸؍ اور تمل ناڈو میں ۱۰۰؍ معاملات درج ہوئے تھے۔ اسی طرح مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اس نوعیت  کے۶۰؍ معاملات درج کئے گئے تھے جن میں سے۵۹؍ معاملات کا تعلق صرف دہلی سے تھا۔ خیال رہے کہ سزا میں ہونے والی تاخیر کی وجہ سے جرائم  کے رجحان میں اضافے کو ایک اہم وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK