معدنیات اور مصنوعی ذہانت کے تعلق سےسپلائی چین کو مستحکم بنانے کا عزم، آئی ٹی منسٹر اشوینی ویشنو اور امریکی سفیر سرجیو گور کی موجودگی میں معاہدہ پر دستخط کئے گئے۔
EPAPER
Updated: February 21, 2026, 1:26 PM IST | New Delhi
معدنیات اور مصنوعی ذہانت کے تعلق سےسپلائی چین کو مستحکم بنانے کا عزم، آئی ٹی منسٹر اشوینی ویشنو اور امریکی سفیر سرجیو گور کی موجودگی میں معاہدہ پر دستخط کئے گئے۔
ہندوستان نے جمعہ کو امریکہ کی قیادت والے اتحاد ’پیکس سِلیکا‘ میں شامل ہونے کے معاہدے پر دستخط کر دیئے۔ یہ اتحاد کلیدی معدنیات اور مصنوعی ذہانت کی سپلائی چین کو مضبوط اور مستحکم بنانے کے مقصد سے قائم کیا گیا ہے۔ معاہدہ پر دستخط کی تقریب میں مرکزی وزیر اشونی ویشنو، امریکہ کے سفیر سرجیو گور اور دیگر معززین شریک تھے۔ اس موقع پر سرجیو گور نے پیکس سِلیکا کو’’صلاحیتوں کا اتحاد‘‘ قرار دیا۔
امریکی انڈر سیکریٹری برائے اقتصادی امور جیکب ہیلبرگ نے مزید کہاکہ ’’پیکس سِلیکا اس بات کا اعلان ہے کہ مستقبل اُن کا ہے جو کچھ بناتے ہیں۔ ‘‘ اسکے ساتھ ہی انہوں نے معاہدہ پر دستخط کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب آزاد لوگ متحد ہوتے ہیں تو طاقت بڑھتی ہے۔ ‘‘
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے اور باہمی تعلقات میں حالیہ تناؤ کے بعد تعاون مضبوط کرنے کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔ پیکس سِلیکا پر پہل گزشتہ سال دسمبر میں ہوئی جس کا مقصد اہم معدنیات اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کیلئے محفوظ، مضبوط اور اختراع پر مبنی سپلائی چین قائم کرنا ہے۔ پیکس سِلیکا سمٹ گزشتہ سال۱۲؍ دسمبر کو واشنگٹن میں منعقد ہوئی تھی، جہاں شراکت دار ممالک نے اس کے اعلامیہ پر دستخط کیے تھے۔ اعلامیہ میں خام مال سے لے کر سیمی کنڈکٹر اور اے آئی انفرااسٹرکچر تک پوری سپلائی چین میں گہری اقتصادی اور تکنیکی شراکت داری کے مشترکہ وژن اور باہمی خوشحالی و سلامتی کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔
پیکس سِلیکا میں آسٹریلیا، یونان، اسرائیل، جاپان، قطر، جنوبی کوریا، سنگاپور، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ شامل ہیں۔ گزشتہ ماہ سرجیو گور نے ہندوستان کو بھی اس اسٹریٹجک اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی۔ اس اتحاد کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ شراکت دار ممالک میں اے آئی سے مضبوط ہونے والے معاشی نظام کو پائیدار شکل دی جائے۔ پیکس سِلیکا کے اعلامیہ کے مطابق ’’ہم تسلیم کرتے ہیں کہ قابلِ اعتماد سپلائی چین ہماری باہمی اقتصادی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے۔ ‘‘ مزید کہا گیا ہے کہ ’’ہم یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت ہماری طویل المدتی خوشحالی کیلئے تبدیلی لانے والی قوت ہے۔ اور قابلِ اعتماد نظام ہماری مشترکہ سلامتی اور ترقی کیلئےضروری ہیں۔ ‘‘
اس معاہدے کا مقصد دنیا بھر میں سیمی کنڈکٹر اور اے آئی سپلائی چین کو محفوظ بنانا اور غیر دوست ممالک پر انحصار کم کرنا ہے۔ اشوینی ویشنو نے اس موقع پر امید ظاہر کی کہ ’’ہندوستان سیمی کنڈکٹر کا ہب بنے گا۔ ‘‘ مرکزی وزیر اشوینی ویشنو اور امریکی اقتصادی امور کے سیکریٹری جیکب ہیلبرگ نے اس پر دستخط کئے۔ ویشنو نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اب پیکس سِلیکا کا حصہ بن گیا ہے، جس سے الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹر سیکٹر کو بڑا فائدہ ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں پہلے سے۱۰؍ پلانٹس پر کام چل رہا ہے اور جلد ہی پہلا سیمی کنڈکٹر پلانٹ چِپس کی کمرشل پروڈکشن شروع کر دے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہندوستانی انجینئر اب ملک میں ہی جدید ’۲؍ نینومیٹر‘ چِپس ڈیزائن کر رہے ہیں۔ اشونی ویشنو نے کہا کہ آنے والے وقت میں سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کو تقریباً۱۰؍ لاکھ ہنر مند پروفیشنل کی ضرورت ہوگی اور دنیا کی نظریں اس کیلئے ہندوستان پر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ’’ملک کے پاس اب صاف سمت اور ہدف ہے۔ ہمیں سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس انڈسٹری میں عالمی قیادت حاصل کرنی ہے۔ ‘‘