ان کا تعلق ملک کی مختلف ریاستوں سے ہےمگر ایک ہی جگہ جامعہ عربیہ معراج العلوم میں، زیرتعلیم ہیں اور دونوں ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: February 21, 2026, 1:22 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
ان کا تعلق ملک کی مختلف ریاستوں سے ہےمگر ایک ہی جگہ جامعہ عربیہ معراج العلوم میں، زیرتعلیم ہیں اور دونوں ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔
ملئے ایسے ۷؍ حفاظ سے جو دینی علوم کے ساتھ بارہویں کا بورڈ امتحان دے رہے ہیں اور معمول کے مطابق تراویح بھی پڑھا رہے ہیں۔ بیک وقت دو ذمہ داریاں ادا کرنے پر ان حفاظ پر بوجھ تو ہے مگر وقت کاتعین کرتے ہوئے دونوں ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔ یہ طلبہ ممبئی کے معروف دینی ادارہ معراج العلوم چیتا کیمپ میں زیرتعلیم ہیں۔
حافظ محمد جسیر محمد مسلم کا آبائی وطن مغربی بنگال ہے، یہ عربی چہارم کے طالب علم ہیں ۔ ایچ ایس سی میں ان کا سینٹر چمبور میں ہے۔ ان کے مطابق ادارے کی جانب سے دونوں علوم کے حصول میں توازن رکھا گیاہے۔ یہی وجہ ہےکہ دونوں علوم کا حصول اوربورڈ امتحا ن میں شرکت ممکن ہورہی ہے۔ بقول حافظ جسیربارہویں کے امتحان کی تیاری بعد نماز عصر، بعد نماز عشاء اور درس نظامی کی کتابوں کے مطالعے کے بعد سونے سے ایک گھنٹہ قبل تک کرتے ہیں ۔ وہ ۵؍پانچ سال سے تراویح پڑھا رہے ہیں ۔ امسال واشی فروٹ مارکیٹ میں ۱۰؍روزہ تراویح پڑھا رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس روز بورڈ کا پیپر ہوتا ہے اس دن تراویح پڑھانے میں مشکل ہوتی ہےکیونکہ امتحان کے سبب پورامعمول تبدیل ہوجاتا ہے۔
حافظ محمد فہیم محمد نسیم کاتعلق بہار سے ہے۔ انہوں نے رمضا ن المبارک میں بورڈ امتحان آنے پر دقت کااظہار کیا۔ مگر چونکہ ۵؍سال سے تراویح پڑھا رہے ہیں ، سال بھر تلاوت کا معمول رہتا ہے اس لئے تراویح پڑھانے کےساتھ بورڈ امتحان پر توجہ دینا آسان ہوتا ہے۔ ان کاسینٹر مانخورد میں ہے۔
حافظ محمد فرحان محمد قمرکا تعلق ضلع بستی سے ہے۔ ان کا سینٹر چمبور میں ہے۔ امسال وہ اصلاح المسلمین مسجد چیتا کیمپ میں ۲۷؍ روزہ تراویح پڑھا رہے ہیں، تراویح پڑھانے کا ان کا بھی یہ پانچواں سال ہے۔ انہوں نےایچ ایس سی امتحان کی تیاری اورتراویح پڑھانے کے تعلق سے پریشانی کے باوجود اس عزم کا اظہار کیا کہ قرآن کریم کی برکت سے امتحان میں بھی کامیابی ملے گی اورآسانی سے قرآن پاک بھی مکمل ہوجائے گا۔
حافظ محمدسعد محمد شمیم کا آبائی وطن بجنور ہے، یہ عربی سوم کے طالب علم ہیں ۔ ان کا سینٹر مانخورد میں ہے۔ حافظ محمد سعد مسجد معراج میں ۲۷؍ روزہ تراویح پڑھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ سال بھر تلاوت کا معمول رہتا ہے جس سےتراویح پڑھانے میں آسانی ہوتی ہے اسی وجہ سے بارہویں کے امتحان کی تیاری کے لئے خاصا وقت مل جاتا ہے۔ حافظ محمد عمیر مفتی محمد سعید قاسمی کا تعلق ضلع بہرائچ سے ہےاورعربی دو م میں زیر تعلیم ہیں۔ یہ امسال واشی ناکہ نور مسجد میں ۲۷؍ روزہ تراویح پڑھا رہے ہیں۔ ان کےمطابق ’’چونکہ سال بھر تلاوت کا معمول رہتا ہے اس لئے تراویح پڑھانے میں دقت نہیں ہوتی اور ایچ ایس سی امتحا ن کی تیاری کیلئے بآسانی وقت مل جاتا ہے۔ اس کےعلاوہ اساتذہ کی رہنمائی سے مزید آسانی ہوتی ہے۔
حافظ محمد محمود امام الحسن کا آبائی وطن بہارہے، یہ عربی اول میں زیرتعلیم ہیں۔ ان کا سینٹر گوونڈی میں ہے۔ حافظ محمد محمود امسال پڑھانے کے بجائے مانخورد میں ۱۰؍ دن کی تراویح کی سماعت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق تراویح کے لئے پورے سال تیاری کی گئی تھی اوربارہویں کے امتحان کے لئے بھی تیاری جاری تھی، اس کےباوجود روزہ رکھ کردونوں عمل کی تکمیل میں مشکل پیش آتی ہے۔
حافظ روح الامین محمد کفیل کا آبائی وطن فتح پور ہے، یہ عربی دوم میں زیرتعلیم ہیں ۔ ان کا سینٹر چمبور میں ہے۔ حافظ روح الامین بھی امسال پڑھانے کے بجائے ۲۷؍روزہ تراویح میں سامع ہیں۔ ان کاکہنا ہےکہ وقت کا تعین کرلینے کےسبب پرچے بھی اچھے جارہے ہیں اورتراویح سننے میں بھی پریشانی نہیں ہورہی ہے۔
ان حفاظ کے تعلق سے جامعہ عربیہ معراج العلوم کے ذمہ دار مولانا محمدزاہدخان نے بتایا کہ’’ خواہ ایچ ایس سی کاامتحان ہو یا ایس ایس سی کا حفظ یاعربی فارسی کے جو طلبہ اس میں شرکت کررہےہیں ان کی پہلے سے تیاری کرائی گئی ہے، باقاعدگی سےکورس پورا کرایا گیاہے۔ اس کے علاوہ ایسے طلبہ کے لئے تعلیمی اوقات اس طرح متعین کئے جاتے ہیں کہ دینی اورعصری علوم کےحصول میں توازن قائم رہے اورطلبہ پر بوجھ نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تمام طلبہ آسانی سے تراویح پڑھارہے یا سن رہے ہیں اورامتحان میں بھی شریک ہو رہے ہیں۔ ‘‘