Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسلام کا ہندوستان میں ہمیشہ سے وجود رہا ہے اورمستقبل میں بھی رہے گا: موہن بھاگوت

Updated: August 29, 2025, 8:04 PM IST | New Delhi

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے جمعرات کو کہا کہ اسلام کا ہندوستان میں ہمیشہ سے وجود رہا ہے اور مستقبل میں بھی رہے گا۔ انہوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان باہمی اعتماد پیدا کرنے پر زور دیا۔

RSS chief Mohan Bhagwat. Photo: INN
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت۔ تصویر: آئی این این

آر ایس ایس کے صد سالہ جشن کے موقع پر منعقدہ سوال و جواب کے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا کہ سنگھ کا کسی پر بھی، بشمول مذہبی بنیادوں پر، حملہ کرنے پر یقین نہیں ہے اور کیرالا کے سیلاب اور گجرات کے زلزلے جیسے سانحات کے دوران ہمیشہ سب کے لیے مدد کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، آر ایس ایس کے سربراہ نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ مذہب انفرادی انتخاب کا معاملہ ہے اور اس معاملے میں کوئی لالچ یا زبردستی نہیں ہونی چاہیے۔بھاگوت نے کہا، ’’ہندو اور مسلمان ایک ہیں... اس لیے ان کے درمیان اتحاد کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا؛ صرف ان کی عبادت کا طریقہ بدل گیا ہے۔ ہم پہلے ہی ایک ہیں۔ اتحاد کس بات کا کرنا ؟ کیا بدلا ہے؟ صرف عبادت کا طریقہ بدلا ہے؛ کیا یہ واقعی کوئی فرق پیدا کرتا ہے؟‘‘

یہ بھی پرھئے: سنبھل فسادات: جوڈیشیل پینل نے ’ہندو آبادی میں کمی‘ کو نومبر ۲۰۲۳ء کے تشدد کی وجہ قرار دیا

انہوں نے کہا کہ’’ اسلام زمانہ قدیم سے ہندوستان میں ہے اور آج تک قائم ہے، اور مستقبل میں بھی قائم رہے گا۔یہ خیال کہ اسلام باقی نہیں رہے گا، ہندو سوچ نہیں ہے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کو ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘مسلم ناموں والی سڑکوں اور شہروں کے نام تبدیل کرنے کے معاملے پر، آر ایس ایس کے سربراہ نے کہا کہ ان کااصرار اس بات پر ہے کہ سڑکوں یا شہروں کے نام جابر حملہ آوروں کے نام پر نہیں رکھے جانے چاہئیں۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ مسلم نام نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ اے پی جے عبدالکلام، عبدالحمید کے نام ہونے چاہئیں۔

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر: یتی نرسنہانند پر پیغمبر اسلام ﷺ پرتوہین آمیز تبصرے پرایف آئی آر درج

آر ایس ایس کے سربراہ نے ملک میں آبادیاتی عدم توازن کی کلیدی وجوہات کے طور پر مذہبی تبدیلی اور غیر قانونی نقل مکانی کا حوالہ دیا،اور کہا کہ حکومت غیر قانونی نقل مکانی کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے اور معاشرے کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا، ’’مذہبی تبدیلی اور غیر قانونی نقل مکانی آبادیاتی عدم توازن کی کلیدی وجوہات ہیں۔ ہمیں غیر قانونی تارکین وطن کو نوکریاں نہیں دینی چاہئیں؛ ہمیں اپنے لوگوں، بشمول مسلمانوں کو نوکریاں دینی چاہئیں۔‘‘آر ایس ایس کے سربراہ سے ملک میں غیر قانونی تارکین وطن کے بارے میں سنگھ کے نقطہ نظر کے بارے میں پوچھا گیا۔ بھاگوت نے کہا کہ وہ اس دلیل سے متفق ہیں کہ بنگلہ دیش اور ہندوستان کے لوگوں کے ڈی این اے ایک جیسے ہیں، لیکن ہر ملک کے اپنے قواعد و ضوابط ہوتے ہیں، اور نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو ان اصولوں پر عمل کرنا چاہیے۔بھاگوت نے کہا، ’’پوری دنیاکٹمب (خاندان) ہے، لیکن ہر جگہ کے اپنے معیار،نظم و ضبط بھی ہیں۔ غیر قانونی تارکین وطن کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہ دینا `واسودیوا کٹمبکم کے تصور کے متضاد نہیں ہے۔‘‘ بھاگوت نے ان الزامات کو بھی مسترد کر دیا کہ آرایس ایس نے تشدد ملوث ہونے کی بات کی ہے۔آر ایس ایس کے سربراہ نے کہا’’ کوئی بھی تنظیم جو تشدد میں ملوث ہو وہ ہندوستان میں ۷۵؍لاکھ مقامات تک نہیں پہنچ سکتی یا ایسی حمایت حاصل نہیں کر سکتی۔ اگر ہم ایسے ہوتے تو کیا ہم ایسے پروگرام کر رہے ہوتے؟ ہم کہیں زیر زمین چھپے ہوتے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK