Inquilab Logo Happiest Places to Work

سنبھل فسادات: جوڈیشیل پینل نے ’ہندو آبادی میں کمی‘ کو نومبر ۲۰۲۳ء کے تشدد کی وجہ قرار دیا

Updated: August 29, 2025, 4:59 PM IST | Lucknow

جوڈیشیل پینل نے سنبھل میں ہونے والی ”آبادیاتی تبدیلی“ کے بارے میں خبردار کیا اور ”ہندو آبادی میں کمی“ کو ”فسادات، فرقہ وارانہ کشیدگی اور خوشامدانہ سیاست“ سے جوڑنے کی کوشش کی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

نومبر ۲۰۲۳ء کے سنبھل میں ہوئے احتجاج اور فسادات، جس میں پولیس فائرنگ سے ۵ مسلمان ہلاک ہوئے تھے، کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشیل پینل نے اپنی رپورٹ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو پیش کر دی ہے۔ سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے سروے کے دوران تشدد کی تحقیقات کیلئے ایک عدالت کے حکم پر یہ تحقیقاتی پینل تشکیل دیا گیا تھا۔ ریٹائرڈ جسٹس دیویندر کمار اروڑا کی قیادت میں اروند کمار جین اور امت موہن پرساد پر مشتمل پینل نے اپنی ۴۰۰ صفحات پر مشتمل رپورٹ میں سنبھل میں ہونے والی ”آبادیاتی تبدیلی“ کے بارے میں خبردار کیا اور ”ہندو آبادی میں کمی“ کو ”فسادات، فرقہ وارانہ کشیدگی اور خوشامدانہ سیاست“ سے جوڑنے کی کوشش کی۔ 

پینل نے ۱۹۳۶ء اور ۲۰۱۹ء کے درمیان علاقے میں ہوئے کم از کم ۱۵ فسادات، جن کے نتیجے میں ”۲۰۰ سے زائد ہلاکتیں“ ہوئیں، کے دستاویز جمع کئے اور نتیجہ اخذ کیا کہ سنبھل میں نہ صرف ہندو-مسلم جھڑپیں ہوئی ہیں بلکہ ”غیر ملکی مسلمانوں (ترکوں) اور تبدیل شدہ ہندوؤں (پٹھانوں)“ کے درمیان بھی تنازعات ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر: یتی نرسنہانند پر پیغمبر اسلام ﷺ پرتوہین آمیز تبصرے پرایف آئی آر درج

پینل نے اپنی رپورٹ میں علاقے میں بار بار ہونے والی کشیدگی کا باعث، ”زیارت گاہوں اور کنوؤں پر تجاوزات“ کو قرار دیا۔ رپورٹ میں مقامی ہنگامے میں ”جعلی کرنسی کی گردش سے وابستہ ایک گروہ کے سرغنہ“ کی شمولیت کا بھی ذکر ہے۔ حیرت انگیز طور پر، پینل نے بتایا کہ ”نومبر ۲۰۲۳ء کے واقعے میں استعمال ہونے والے کئی ہتھیار غیر ملکی ساختہ تھے، جن میں سے بیشتر امریکہ سے درآمد کئے گئے تھے۔“ رپورٹ کے منظرعام پر آنے کے بعد، یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے ہتھیار سنبھل کیسے پہنچے؟

سیاسی ردعمل

بی جے پی کے ترجمان راکیش ترپاٹھی نے کہا کہ جوڈیشیل پینل کی رپورٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ ”آبادیاتی تبدیلی ایک تلخ حقیقت ہے۔“ انہوں نے الزام لگایا کہ ”نہرو کے دور سے مذہبی ظلم و ستم اور خوشامدانہ پالیسیوں کی وجہ سے ہندو ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”ہمیں امید ہے کہ حکومت اس انخلاء کو روکنے کے ساتھ ایسی پالیسی بھی بنائے گی جس کے تحت ایک منظم سازش کی وجہ سے چھوڑ کر جانے والے ہندوؤں کو واپس لایا جا سکے۔“ سماج وادی پارٹی اور کانگریس نے بی جے پی پر ”ایک خفیہ رپورٹ کو منتخبہ طور پر لیک کرنے“ کا الزام لگایا تاکہ فرقہ وارانہ کشیدگی کو بھڑکایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے: بین ذات شادیوں کیلئے پارٹی کے دفاتر کھلے ہیں: سی پی آئی (ایم) تمل ناڈو؛ ایک جوڑے کی شادی کرائی

پرنسپل سیکریٹری (داخلہ) سنجے پرساد نے اس بات کی تصدیق کی کہ حکومت ”جوڈیشیل پینل کی رپورٹ کا مطالعہ کرے گی اور ضروری کارروائی کرے گی۔“ نتائج کو ریاستی کابینہ اور اسمبلی کے سامنے باضابطہ طور پر پیش کئے جانے تک خفیہ رکھا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK