مہاراشٹر میں نرسنہانند پر پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے بارے میں توہین آمیز تبصرے پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے، ایف آئی آر میں معاشرے میں اختلافات پیدا کرنے، پہلے سے موجود دشمنی کو ہوا دینے اور اجتماعی ہم آہنگی کو مجروح کرنے کے الزامات شامل ہیں۔
EPAPER
Updated: August 28, 2025, 9:51 PM IST | Mumbai
مہاراشٹر میں نرسنہانند پر پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے بارے میں توہین آمیز تبصرے پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے، ایف آئی آر میں معاشرے میں اختلافات پیدا کرنے، پہلے سے موجود دشمنی کو ہوا دینے اور اجتماعی ہم آہنگی کو مجروح کرنے کے الزامات شامل ہیں۔
اترپردیش کے ڈاسنا دیوی مندر کامتنازعہ پنڈت یتی نرسنہانند ایک بار پھر تنازع کا مرکز بن گیا ہے، مہاراشٹر میں اس کے خلاف پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کرنے پر ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ یہ شکایت ممبرا پولیس اسٹیشن میں انڈیا سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ نے درج کرائی ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق، نرسنہا نند نے گزشتہ سال۲۹؍ ستمبر کو غازی آباد کے ہندی بھون میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کیے تھے۔ ان تبصروں سے مسلم برادری میں شدید غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ایف آئی آر میں معاشرے میں اختلافات پیدا کرنے، پہلے سے موجود دشمنی کو ہوا دینے اور اجتماعی ہم آہنگی کو جان بوجھ کر مجروح کرنے کے الزامات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: آسام: ہیمنت بسوا شرما کی جبری بے دخلیوں کی تحقیقاتی ٹیم کے خلاف نفرتی بیان بازی
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب نرسنہا نند نے اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف توہین آمیز تبصروں کی وجہ سے توجہ حاصل کی ہے۔۲۰۱۴ء میں، اس کے اشتعال انگیز تبصروں کے بعد مسلم برادری کی طرف سے ہونے والے وسیع پیمانے پر مظاہروں کے بعد اسے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت مظاہرین کی طرف سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔گذشتہ گرفتاریوں اور انتباہ کے باوجود، نرسنہانند نے اشتعال انگیز بیانات جاری رکھے ہیں۔ مسلم لیڈروں نے مسلسل اس کے بیان کی مذمت کی ہے اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو روکنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ برادری کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’’پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف مسلسل توہین آمیز تبصرے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکام فوری طور پر اس کے خلاف کارروائی کرے اور معاشرے میں نفرت کے پھیلاؤ کو روکے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: احمد نگر میں سیّد گھوڑے پیر درگاہ میں توڑپھوڑ، مسلم سماج کا احتجاج
مہاراشٹر کے حکام نے ایف آئی آر کے درج ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تحقیقات کے نتائج پر مزید کارروائی، بشمول ممکنہ گرفتاری، قانون کی حکمرانی کے تحت طے کی جائے گی۔ مسلم برادری اور سول سوسائٹی کے گروپ اس تعلق سے ہونے والی پیشرفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ معاملہ مذہبی شخصیات کے حوالے سے عوامی بیانات میں حساسیت کی مسلسل ضرورت کو اجاگر کرتا ہے، خاص طور پر جب تبصروں میں فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دینے کا مادہ موجود ہو۔