Updated: September 06, 2026, 10:00 PM IST
| New Delhi
ہندوستان نے سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرنے اور عالمی چِپ مینوفیکچرنگ اور ڈیزائن ہب کے طور پر اپنی جگہ مضبوط کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ حکومت نے سیمی کان ۲؍ کے تحت تقریباً ۱ء۲۷؍ لاکھ کروڑ روپے کا بڑا مالی پیکیج مختص کیا ہے، جس کا مقصد صرف چپس کی تیاری تک محدود رہنے کے بجائے پورے سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم کو فروغ دینا ہے۔
سیمی کنڈکٹرچپ۔ تصویر:آئی این این
ہندوستان نے سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرنے اور عالمی چِپ مینوفیکچرنگ اور ڈیزائن ہب کے طور پر اپنی جگہ مضبوط کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ حکومت نے سیمی کان ۲؍ کے تحت تقریباً ۱ء۲۷؍ لاکھ کروڑ روپے کا بڑا مالی پیکیج مختص کیا ہے، جس کا مقصد صرف چپس کی تیاری تک محدود رہنے کے بجائے پورے سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم کو فروغ دینا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اکشے کمار نے بتایاکہ گھر میں آخری فیصلہ کس کا ہوتا ہے؟
ہندوستان کی نئی حکمت عملی کا اہم پہلو یہ ہے کہ ملک کو صرف میک ان انڈیا کے تحت مینوفیکچرنگ کا مرکز بنانے کے بجائے انجینئران انڈیا کے طور پر بھی عالمی سطح پر شناخت دلائی جائے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ بھارت کے پاس بڑی تعداد میں انجینئرز، ٹیکنالوجی ماہرین اور ڈیزائن ٹیلنٹ موجود ہے، جسے سیمی کنڈکٹر شعبے میں استعمال کرکے ملک ویلیو چین کے زیادہ منافع بخش حصوں میں اپنی موجودگی مضبوط کرسکتا ہے۔ سیمی کان ۲؍ کے تحت حکومت نے پہلے ہی چار برس میں ۸۵؍ ہزار سیمی کنڈکٹر انجینئرز کو تربیت دینے کا ہدف حاصل کرلیا ہے اور اب مزید ایک لاکھ انجینئرز تیار کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
سیمی کنڈکٹر چپس کو جدید معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ اسمارٹ فونز، کاروں، کمپیوٹرز، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت ، طبی آلات، ٹیلی کمیونیکیشن، دفاعی نظام اور جدید صنعتی مشینری سمیت تقریباً ہر اہم ٹیکنالوجی میں چپس کا استعمال ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں، خصوصاً کووڈ ۱۹؍ کے دوران سامنے آنے والے مسائل نے مختلف ممالک کو سیمی کنڈکٹر کے لیے محدود جغرافیائی مراکز پر انحصار کم کرنے پر مجبور کیا۔ ہندوستان بھی اسی پس منظر میں اپنی گھریلو چپ صلاحیت کو قومی ترجیح کے طور پر آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:یو ایس اوپن: ایوا جووچ نے الیکس ایلا کو شکست دی، اگلے دور میں گاف سے مقابلہ
حکومت کے مطابق سیمی کان انڈیا پروگرام کے تحت اب تک چھ ریاستوں میں ۱۲؍ سیمی کنڈکٹر منصوبوں کو منظوری دی جاچکی ہے، جن میں سے تین منصوبوں نے کمرشیل پروڈکشن بھی شروع کردی ہے۔ ان منصوبوں کے ذریعے ہندوستان میں چپ اسمبلی، ٹیسٹنگ، پیکیجنگ اور دیگر اہم سرگرمیوں کی بنیاد مضبوط ہورہی ہے۔ حکومت کا مقصد ان ابتدائی منصوبوں کو ایک ایسے وسیع ایکو سسٹم میں تبدیل کرنا ہے جس میں چپ ڈیزائن سے لے کر مینوفیکچرنگ، پیکیجنگ، آلات، خام مال اور تحقیق تک پوری ویلیو چین ہندوستان میں تیار ہوسکے۔
ہندوستان کی یہ حکمت عملی ایسے وقت میں سامنے آرہی ہے جب عالمی سطح پر سیمی کنڈکٹر صنعت میں سرمایہ کاری اور سپلائی چین کو متنوع بنانے کی دوڑ جاری ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ہندوستان آنے والے برسوں میں عالمی سیمی کنڈکٹر مارکیٹ کا تقریباً ۱۰؍ فیصد حصہ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی سمت میں سیمی کان انڈیا ۲۰۲۶ء بھی ۱۷؍ سے ۱۹؍ ستمبر تک نئی دہلی کے یشو بھومی میں منعقد ہونے جا رہا ہے، جہاں عالمی صنعت، سرمایہ کار، ماہرین اور پالیسی ساز ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم پر توجہ مرکوز کریں گے۔