ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) ۲۰ ؍اکتوبر ۲۰۲۶ ءسے نافذ ہونے جا رہا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔
EPAPER
Updated: September 29, 2026, 5:03 PM IST | New Delhi
ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) ۲۰ ؍اکتوبر ۲۰۲۶ ءسے نافذ ہونے جا رہا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔
ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) ۲۰ ؍اکتوبر ۲۰۲۶ ءسے نافذ ہونے جا رہا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔ دونوں ملکوں نے ۲۰۳۰ء تک اشیا اور خدمات میں دوطرفہ تجارت کو دُگنا کرکے تقریباً ۷ ؍ارب نیوزی لینڈ ڈالر (تقریباً ۳۵ ؍ہزار کروڑ روپے) تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ہند-نیوزی لینڈ ایف ٹی اے کے تحت نیوزی لینڈ ہندوستان کی ۱۰۰ ؍فیصد برآمدات پر پہلے ہی دن سے کسٹم ڈیوٹی ختم کرے گا۔ اس سے ہندوستانی مصنوعات کو نیوزی لینڈ کی منڈی میں زیادہ مسابقتی قیمتوں پر فروخت کرنے میں مدد ملے گی اور ہندوستانی برآمد کنندگان کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس معاہدے سے خاص طور پر ٹیکسٹائل اور ملبوسات، چمڑا اور جوتے، جواہرات و زیورات، انجینئرنگ مصنوعات اور زرعی و غذائی پروسیسنگ جیسے شعبوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ حکومت کے مطابق یہ شعبے نیوزی لینڈ کی مارکیٹ میں صفر ڈیوٹی کے ساتھ داخل ہوسکیں گے، جس سے چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں اور روزگار کے لیے بھی مواقع بڑھ سکتے ہیں۔
معاہدے کا ایک اہم پہلو نیوزی لینڈ کی جانب سے ہندوستان میں اگلے ۱۵؍ برسوں کے دوران ۲۰؍ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کرنے کا عزم ہے۔ اس سرمایہ کاری سے زراعت، مینوفیکچرنگ، بنیادی ڈھانچے، اسٹارٹ اَپس، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کا ہدف ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کارٹونسٹ ستیش آچاریہ کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ہندوستان میں بلاک
ہندوستان نے دوسری جانب نیوزی لینڈ سے درآمد ہونے والی مصنوعات کے لیے تقریباً ۷۰؍ فیصد ٹیرف لائنز پر مارکیٹ رسائی دینے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ تقریباً ۳۰ ؍فیصد ٹیرف لائنز کو خارج رکھا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق خارج کی گئی فہرست میں کئی حساس زرعی مصنوعات اور ڈیری شعبہ شامل ہیں۔
ہندوستان نے اپنے حساس ڈیری شعبے کو اس معاہدے کے تحت کم ڈیوٹی والی درآمدات کے لیے نہیں کھولا ہے۔ دودھ، کریم، پنیر، دہی، وہے اور کیسین سمیت بعض اہم زرعی مصنوعات کو مارکیٹ رسائی سے باہر رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پیاز، چینی، مصالحہ جات، خوردنی تیل اور ربڑ جیسی بعض مصنوعات کے لیے بھی تحفظ برقرار رکھا گیا ہے۔ اس کا مقصد ایک طرف نیوزی لینڈ کی مصنوعات کے لیے محدود اور ترجیحی مارکیٹ رسائی فراہم کرنا اور دوسری جانب بھارت کے حساس زرعی شعبوں اور گھریلو صنعتوں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
نیوزی لینڈ سے ہندوستان آنے والی بعض زرعی مصنوعات، خصوصاً کیوی، سیب اور منوکا ہنی کے لیے تجارتی مواقع میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ معاہدے میں کیوی، سیب اور منوکا ہنی کے شعبوں میں زرعی پیداواری شراکت داری اور تحقیقی و تربیتی مراکز کے ذریعے تعاون کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ تاہم،ہندوستان نے زرعی شعبے میں مکمل طور پر مارکیٹ کھولنے کے بجائے حساس مصنوعات کے لیے حفاظتی انتظامات برقرار رکھے ہیں، تاکہ درآمدی مقابلے کے اثرات کو محدود رکھا جاسکے۔ ایف ٹی اے صرف اشیا کی تجارت تک محدود نہیں ہے۔ معاہدے کے تحت ہندوستانی خدماتی شعبے کے لیے تقریباً۱۱۸؍ شعبوں میں مارکیٹ تک رسائی کے مواقع پیدا کیے گئے ہیں، جن میں آئی ٹی، پیشہ ورانہ خدمات، تعمیرات، سیاحت اور آڈیو ویژول شعبے شامل ہیں۔ تقریباً ۱۳۹ ؍ذیلی شعبوں میں Most-Favoured Nation کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:شاہ رخ خان کی فلم’’کنگ‘‘ میں ۷۰؍ فیصد بالی ووڈ ہے: سوربھ شکلا
ہندوستانی ہنرمند افراد کے لیے نیوزی لینڈ نے ۵؍ہزار عارضی ملازمت داخلہ ویزوں کا مخصوص راستہ بھی فراہم کیا ہے، جبکہ ہر سال ایک ہزارنوجوان ہندوستانیوں کے لیےورکنگ ہالی ڈے ویزا کا انتظام کیا گیا ہے۔ STEM شعبے کے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے تعلیم کے بعد تین سال تک اور ڈاکٹریٹ کے طلبہ کے لیے چار سال تک کام کرنے کے مواقع بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ معاہدے کے تحت ہندوستانی دوا ساز کمپنیوں اور طبی آلات کے برآمد کنندگان کے لیے نیوزی لینڈ کی مارکیٹ تک رسائی آسان بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ نیوزی لینڈ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ریگولیٹری اداروں، جن میں یو ایس ایف ڈی اے، ای ایم اے، یوک ایم ایچ آر اے اور ہیلتھ کنیڈا شامل ہیں، کی بعض معائنہ منظوریوں کو تسلیم کرے گا۔ اس سے بعض مصنوعات کی منظوری کے عمل میں وقت اور لاگت کم ہونے کی توقع ہے۔