مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان امریکی سرمایہ کاری بینک گولڈمین ساخس نے ۲۰۲۶ء کی چوتھی سہ ماہی کے لیے خام تیل کی اوسط قیمتوں کے اندازے میں ایک بار پھر اضافہ کیا ہے۔
EPAPER
Updated: April 27, 2026, 5:05 PM IST | New York
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان امریکی سرمایہ کاری بینک گولڈمین ساخس نے ۲۰۲۶ء کی چوتھی سہ ماہی کے لیے خام تیل کی اوسط قیمتوں کے اندازے میں ایک بار پھر اضافہ کیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان امریکی سرمایہ کاری بینک گولڈمین ساخس نے ۲۰۲۶ء کی چوتھی سہ ماہی کے لیے خام تیل کی اوسط قیمتوں کے اندازے میں ایک بار پھر اضافہ کیا ہے۔ امریکی سرمایہ کاری بینک کے مطابق اس سال اکتوبر سے دسمبر کے دوران برینٹ کروڈ کی اوسط قیمت ۹۰؍ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی کروڈ کی اوسط قیمت ۸۳؍ ڈالر فی بیرل رہ سکتی ہے۔ اوسط قیمتوں میں اس نظرِ ثانی کی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل کشیدگی کے باعث خام تیل کی سپلائی پر پڑنے والا اثر ہے۔
اس سے قبل گولڈمین ساخس نے ۲۰۲۶ء کی چوتھی سہ ماہی میں برینٹ کروڈ کی اوسط قیمت ۸۰؍ ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی کروڈ کی اوسط قیمت ۷۵؍ ڈالر فی بیرل رہنے کا اندازہ لگایا تھا۔بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ سے آنے والا تقریباً ۵ء۱۴؍ملین بیرل یومیہ خام تیل مارکیٹ سے باہر ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں صرف اپریل کے مہینے میں عالمی تیل کے ذخائر میں ۱۱؍ سے ۱۲؍ ملین بیرل یومیہ کی کمی آئی ہے، جو توانائی کی منڈیوں کی تاریخ میں ذخائر میں سب سے تیز کمی میں سے ایک ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایل ایس جی کو سپر اوور میں ہرا کر کے کے آر نے دوسری کامیابی حاصل کی
گولڈمین ساخس نے عالمی تیل مارکیٹ کے توازن میں آنے والی تیز تبدیلی پر اپنی رپورٹ میں کہا کہ خام تیل کی منڈی ۲۰۲۵ء میں۸ء۱؍ ملین بیرل یومیہ کے سرپلس سے بدل کر ۲۰۲۶ء کی دوسری سہ ماہی میں ۶ء۹؍ملین بیرل یومیہ کے خسارے میں چلی گئی ہے۔ گولڈمین ساخس کے مطابق ۲۰۲۶ء کی دوسری سہ ماہی میں عالمی تیل کی طلب میں ۷ء۱؍ ملین بیرل یومیہ کی کمی آئے گی، جبکہ پورے سال کے لیے یہ کمی صرف ۱ء۰؍ ملین بیرل یومیہ رہے گی۔
یہ بھی پڑھئے:ایل ایس جی کو سپر اوور میں ہرا کر کے کے آر نے دوسری کامیابی حاصل کی
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد گولڈمین ساخس نے۲۰۲۶ء کی دوسری سہ ماہی کے لیے برینٹ کا اپنا اندازہ ۹۹؍ ڈالر فی بیرل سے کم کر کے ۹۰؍ ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی کا اندازہ ۹۱؍ ڈالر فی بیرل سے کم کر کے ۸۷؍ ڈالر فی بیرل کر دیا ہے۔ یہ کمی جغرافیائی سیاسی خطرات کے پریمیم میں کمی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے ترسیلی بہاؤ میں بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم ۲۰۲۶ء کی تیسری سہ ماہی کے لیے برینٹ کا اندازہ ۸۲؍ ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی کا ۷۷؍ ڈالر فی بیرل پر بغیر تبدیلی کے برقرار رکھا گیا ہے۔