Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہند اورعمان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ نافذ، نئے تجارتی راہداری کو رفتار ملی

Updated: June 01, 2026, 9:09 PM IST | New Delhi

ہند اور عمان کے درمیان تاریخی جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سیپا) پیر سے نافذ العمل ہو گیا ہے، جس کے تحت ہندوستان کی مختلف بندرگاہوں سے جواہرات، زیورات اور دیگر اشیا کی کھیپ نئی رعایتی کسٹم ڈیوٹی نظام کے تحت عمان روانہ کی جانے لگی ہے۔

Oman And India.Photo:INN
ہندوستان اور عمان۔ تصویر:آئی این این

 ہند اور عمان کے درمیان تاریخی جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سیپا) پیر سے نافذ العمل ہو گیا ہے، جس کے تحت ہندوستان کی مختلف بندرگاہوں سے جواہرات، زیورات اور دیگر اشیا کی کھیپ نئی رعایتی کسٹم ڈیوٹی نظام کے تحت عمان روانہ کی جانے لگی ہے۔  دونوں ممالک نے اس معاہدے کو دوطرفہ اقتصادی تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے تجارت اور سرمایہ کاری کے تعاون کے نئے دور کا آغاز بتایا ہے۔ 
ہند۔عمان سیپا پر گزشتہ ۱۸؍ دسمبر کو مسقط میں ہندوستان وزیر اعظم نریندر مودی اور عمان کے سلطان ہیثم بن طارق آل سعید کی موجودگی میں دستخط کیے گئے تھے۔ دونوں ممالک نے چھ ماہ کے اندر اپنی داخلی کارروائیاں مکمل کرتے ہوئے اسے یکم جون ۲۰۲۶ء سے نافذ کر دیا۔ 
مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور ہندوستان میں عمان کے سفیر عیسیٰ صالح الشیبانی کی موجودگی میں آج نئی دہلی کے کمرش ہاؤس میں خصوصی تقریب کے دوران اس معاہدے کے نفاذ کی رسمی کارروائی مکمل کی گئی، جس میں وزیر مملکت برائے تجارت جتین پرساد بھی شریک تھے۔  معاہدے کے نفاذ کے موقع پر ممبئی، کولکاتا اور چنئی سے زرعی مصنوعات اور جواہرات و زیورات کی پہلی کھیپ رعایتی محصولات کے ساتھ عمان روانہ کی گئی۔ مالی سال ۲۶۔۲۰۲۵ء میں ہند اور عمان کے درمیان دوطرفہ تجارت ۱۸ء۱۱؍ ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ مالی سال کے ۶۱ء۱۰؍ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:کولکاتا کے لیک ٹاؤن سے میسی کا ۷۰؍ فٹ بلند مجسمہ ہٹا دیا گیا


پیوش گوئل نے اس معاہدے کا سہرا وزیر اعظم مودی اور سلطان عمان کی قیادت کو دیتے ہوئے کہا کہ ہند-عمان سیپا دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہے اور اس سے کسانوں، ماہی گیروں، نوجوانوں، خواتین، کاروباری افراد اور چھوٹے و متوسط درجے کے اداروں کو فائدہ ہوگا۔  انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت ہندوستان کی ۳۸ء۹۹؍ فیصد برآمدات کو عمان میں ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہوگی، جس سے برآمد کنندگان اور پیشہ ور افراد کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان کے مطابق عمان ہندوستان کا قابل اعتماد شراکت دار، عوامی روابط کا پل اور خلیجی خطے و مشرقی افریقہ کا دروازہ ہے، جبکہ یہ معاہدہ ہندوستان کو علاقائی اور عالمی ویلیو چین سے مزید جوڑے گا۔

یہ بھی پڑھئے:پی وی آر اور واشو بھگنانی کے درمیان قانونی تنازع کی خبر غلط ہے: جیکی


ہندوستان نے عمان سے درآمد ہونے والی ۷۹ء۷۷؍ فیصد اشیا پر کسٹم میں نرمی کی پیشکش کی ہے، جو قیمت کے لحاظ سے عمان سے آنے والی ۸۱ء۹۴؍ فیصد درآمدات کا احاطہ کرتی ہے، جبکہ حساس شعبوں کے لیے حفاظتی اقدامات برقرار رکھے گئے ہیں۔  تجارت کے سکریٹری راجیش اگروال نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کی باہمی صلاحیتوں، ضابطہ جاتی تعاون اور مشترکہ ترقی کے عزم پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف ٹیرف میں کمی کا معاہدہ نہیں بلکہ مارکیٹ تک رسائی بڑھانے، خدماتی تجارت کو آسان بنانے اور کاروبار کے لیے زیادہ پیش گوئی والا ماحول فراہم کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK