Inquilab Logo Happiest Places to Work

کاکروچ جنتا پارٹی: بانی ابھیجیت دپکے کا ۶؍ جون کو دہلی میں احتجاج کا اعلان

Updated: June 01, 2026, 9:05 PM IST | New delhi

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے نے اعلان کیا ہے کہ وہ ۶؍ جون کو ہندوستان واپس آ کر دہلی میں پرامن احتجاج شروع کریں گے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی تنازعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں۔دپکے کا دعویٰ ہے کہ ایک کروڑ سے زیادہ طلبہ امتحانی بے ضابطگیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

Photo: INN
تسویر: آئی این این

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی Abhijeet Dipke نے اعلان کیا ہے کہ وہ ۶؍ جون کو ہندوستان واپس آ کر دہلی میں ایک پرامن احتجاجی مہم کا آغاز کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس احتجاج کا بنیادی مقصد NEET-UG پیپر لیک تنازع اور دیگر امتحانی بے ضابطگیوں کے حوالے سے مرکزی وزیر تعلیم ھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرنا ہے۔ ایکس پر جاری ایک ویڈیو پیغام میںدپکے نے طلبہ، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ دہلی میں ان کے ساتھ شامل ہوں۔ ان کے مطابق NEET، CBSE، CUET اور SSC GD سمیت مختلف امتحانات سے متعلق تنازعات نے ایک کروڑ سے زیادہ امیدواروں کے مستقبل کو متاثر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے : اب سی یو ای ٹی امتحان میں تکنیکی خرابی، طلبہ عاجز آگئے

دپکے نے الزام لگایا کہ امتحانی نظام میں مسلسل سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کے باعث لاکھوں طلبہ کی محنت ضائع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’پیپر لیک کے باعث طلبہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، بعض نے خودکشی تک کی، اور لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا۔ ایسی صورتحال میں کسی نہ کسی کو ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر آٹھ لاکھ سے زیادہ افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں۔ دپکے کے مطابق اگر اتنی بڑی سطح پر ہونے والی مبینہ ناکامیوں کے باوجود بھی کوئی احتساب نہ ہو تو اس سے نظام پر عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ بار بار غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں جبکہ ذمہ دار اداروں کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نظر نہیں آتی۔

یہ بھی پڑھئے : مغربی بنگال: رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی پرحملہ، ترنمول کا بی جے پی پر بدامنی پھیلانے کا الزام

انہوں نے بتایا کہ وہ ۶؍ جون کو دہلی پہنچنے کے بعد جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت حاصل کرنے کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان کا آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم اسی حق کے تحت اپنی آواز بلند کریں گے۔‘‘ دپکے نے اس خدشے کا بھی ذکر کیا کہ بعض لوگ ان کی ممکنہ گرفتاری کے بارے میں فکر مند ہیں۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ انہیں جمہوری انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہیں امریکہ میں ملازمت کی پیشکش موصول ہوئی تھی، لیکن انہوں نے بیرون ملک قیام کے بجائے ہندوستان واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے بقول وہ ملک کے نوجوانوں اور طلبہ کے مسائل پر آواز بلند کرنا چاہتے ہیں۔


یاد رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی گزشتہ ماہ اس وقت خبروں میں آئی تھی جب سپریم کورٹ کی ایک سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت سے منسوب بعض ریمارکس سوشل میڈیا پر زیر بحث آ گئے تھے۔ ان بیانات میں مبینہ طور پر کچھ بے روزگار نوجوانوں، سوشل میڈیا کارکنوں اور آر ٹی آئی کارکنوں کے لیے ’’کاکروچ‘‘ اور ’’طفیلی‘‘ جیسے الفاظ استعمال کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ ان ریمارکس کے بعد سوشل میڈیا پر ’’میں بھی کاکروچ ہوں‘‘ مہم تیزی سے مقبول ہوئی اور اسی پس منظر میں ابھیجیت دپکے اور ان کے ساتھیوں نے کاکروچ جنتا پارٹی کے نام سے ایک طنزیہ آن لائن تحریک شروع کی۔ اس تحریک نے نوجوانوں کی بے روزگاری، امتحانی بے ضابطگیوں، بدعنوانی، مہنگائی اور روزگار کے محدود مواقع جیسے موضوعات کو اپنی مہم کا حصہ بنایا۔

یہ بھی پڑھئے : آج تک کے تاج محل کو ہندومندر قرار دینے کے شو میں ترمیم کا ریگولیٹرکا حکم

وقت گزرنے کے ساتھ یہ تحریک میمز، ویڈیوز، مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد اور مختلف آن لائن مہمات کے ذریعے سوشل میڈیا پر نمایاں ہوئی۔ اس دوران تنظیم کے حامیوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس محدود یا بلاک کیے گئے، جبکہدپکے نے الزام لگایا کہ ان کے ذاتی اور تنظیمی انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک بھی کیے گئے۔ حامیوں کا مؤقف ہے کہ ان کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں طنز، اختلاف رائے اور نوجوانوں کے مسائل پر آواز اٹھانے کے حق کو محدود کرنے کی کوشش ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے دعووں اور الزامات کی جانچ متعلقہ اداروں اور قانونی عمل کے ذریعے ہونی چاہیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK