Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان کا میٹا کو انسٹاگرام سے بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی اشتہارات ہٹانے کا حکم

Updated: July 05, 2026, 8:06 PM IST | New Delhi

ہندوستان نے میٹا کو انسٹاگرام کے بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی اشتہارات ہٹانے کا حکم دیا،ساتھ مرکز نے کمپنی سے سات دنوں کے اندر تفصیلی وضاحت کا بھی مطالبہ کیا ہے، اس سے قبل آئی ٹی وزیر اشونی ویشنو نے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت (MeitY) کو ہدایت دی تھی کہ وہ اس معاملے پر میٹا کو طلب کرے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

 نیوز ایجنسی اے این آئی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ہندوستانی حکومت نے اتوار۵؍ جولائی کو میٹا کو ایک سخت نوٹس جاری کیا، جس میں اسے ہدایت کی گئی کہ وہ انسٹاگرام پر موجود تمام اشتہارات اور مواد کو فوری طور پر ہٹا دے جو بچوں کے جنسی استحصال اور زیادتی سے متعلق مواد (CSEAM) کو فروغ دیتے ہیں یا اس تک رسائی میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔ مرکز نے کمپنی سے سات دنوں کے اندر تفصیلی وضاحت کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ اقدام ایک روز بعد سامنے آیا ہے جب آئی ٹی وزیر اشونی ویشنو نے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت (MeitY) کو ہدایت دی تھی کہ وہ اس معاملے پر میٹا کو طلب کرے۔ بعد ازاں وزارت نے میٹا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسٹاگرام پر CSEAM سے منسلک تمام اشتہارات کو فوری طور پر ہٹا دے۔ عہدیداروں نے کمپنی کو یہ بھی کہا ہے کہ وہ تیزی سے کارروائی کرے تاکہ اس قسم کی کوئی بھی چیز دوبارہ پھیلنےسے روکی جا سکے۔ جبکہ میٹا کو ایک ہفتے کا وقت دیا گیا ہے کہ وہ مکمل وضاحت کے ساتھ جواب دے کہ یہ کیسے ہوااور وہ کیا تبدیلیاں کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹیلی گرام پر مرکز مزید سخت، پائریٹیڈ فلم اور او ٹی ٹی مواد فوراً ہٹانے کی ہدایت

مزید برآں عہدیداروں نے کہا کہ ان رپورٹس سے  تشویش  پیدا ہوئی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ کچھ اشتہارات مبینہ طور پر صارفین کو بیرونی ویب سائٹس کی طرف لے جانےکے لیے استعمال کیے جا رہے تھے جو غیر قانونی بچوں کے استحصالی مواد پر مبنی  ہیں۔مرکز نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا ہے، خاص طور پر ان الزامات کو جن میں کہا گیا ہے کہ انسٹاگرام کے الگورتھم اس طرح کے مواد کو فروغ یا پھیلا رہے تھے۔ دریں اثناء مرکز نے میٹا کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس مواد کے کسی بھی فروغ یا گردش کو روکنے کے لیے فوری اقدام کرے۔ ذہن نشین رہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے غیر قانونی اور نقصان دہ مواد کو پھیلانے یا اس تک رسائی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے غلط استعمال کیے جانے کے بارے میں تشویش بڑھتی جارہی ہے، اور حکام ٹیک کمپنیوں سے سخت حفاظتی تدابیر اور تیز تر کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ اس ہفتے دوسری بار ہے جب میٹا کے عہدیداروں کو MeitY نے طلب کیا۔ اس سے قبل، اے این آئی نے رپورٹ کیا تھا کہ وزارتی عہدیدار پہلے ہی میٹا کے نمائندوں سے مل چکے تھے تاکہ واٹس ایپ کی مجوزہ یوزرنیم فیچر سے متعلق حکومتی نوٹس سے متعلق خدشات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK