Inquilab Logo Happiest Places to Work

برآمدات میں کمی کی وجہ سے پاکستان کا مالیاتی تجارتی خسارہ ۵ء۳۹؍ بلین ڈالرتک پہنچا

Updated: July 05, 2026, 8:06 PM IST | Karachi

پاکستان کا تجارتی خسارہ جون میں ختم ہونے والے مالی سال میں ۲۲؍ فیصد بڑھ کر۵ء۳۹؍ بلین ڈالر ہو گیا۔ اس کی وجہ معیشت کا درآمدات پر بہت زیادہ انحصار اور اقتصادی سست روی کی وجہ سے برآمدات میں کمی تھی۔

Pakistani.Photo:INN
پاکستان۔ تصویر:آئی این این

 پاکستان کا تجارتی خسارہ جون میں ختم ہونے والے مالی سال میں ۲۲؍ فیصد بڑھ کر۵ء۳۹؍ بلین ڈالر ہو گیا۔ اس کی وجہ معیشت کا درآمدات پر بہت زیادہ انحصار اور اقتصادی سست روی کی وجہ سے برآمدات میں کمی تھی۔ یہ بات پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق بتائی گئی۔

یہ بھی پڑھئے:اڈانی گروپ کیس پر امریکی محکمہ انصاف نے کہا: کیس کبھی شروع نہیں ہونا چاہیے تھا


اعداد و شمار کے مطابق مالی سال ۲۶۔۲۰۲۵ء میں ملکی درآمدات ۸؍ فیصد اضافے سے۶ء۶۹؍ بلین ڈالر جبکہ برآمدات ۶؍ فیصد کم ہو کر۱ء۳۰؍  بلین ڈالر رہیں۔ پی بی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا تجارتی خسارہ جون میں ماہانہ بنیادوں پر ۵۷؍ فیصد بڑھ کر۵۳ء۴؍ بلین ڈالر تک پہنچ گیا کیونکہ برآمدات۱۰؍فیصد کم ہو کر ۲۴ء۲؍ بلین ڈالر جبکہ درآمدات ۲۶؍ فیصد بڑھ کر۷۷ء۶؍ بلین ڈالر ہو گئیں۔
جے ایس گلوبل کیپٹل  لمیٹڈ کے سربراہ ریسرچ محمد وقاص غنی نے ہفتے کے روز عرب نیوز کو بتایا’’پاکستان کا تجارتی خسارہ ساختی ہے کیونکہ معیشت کا بہت زیادہ انحصار درآمدی توانائی، مشینری اور صنعتی خام مال پر ہے، جب کہ برآمدات زیادہ تر ٹیکسٹائل جیسی کم ویلیو ایڈڈ مصنوعات تک محدود ہیں۔‘‘
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز اسوسی ایشن (APTMA) کے اعداد و شمار پر مبنی عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ٹیکسٹائل کا شعبہ پاکستان کا سب سے بڑا برآمدی شعبہ ہے۔ اس نے پچھلے سال۹۷ء۱۷؍ بلین ڈالر کمائے، جو ایک سال پہلے کے۹۱ء۱۷؍ بلین ڈالر سے صرف ۳۴ء۰؍ فیصد زیادہ ہے۔ غنی نے کہاکہ ’’جیسا کہ ملکی طلب اور ترقی میں بہتری آ رہی ہے، درآمدات برآمدات کے مقابلے میں بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جس سے تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے۔‘‘تاہم رواں ہفتے کراچی میں میڈیا بریفنگ کے دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے تجارتی خسارے کے مسئلے کو تشویشناک قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈکپ :کیپ وردے کے خلاف میچ میں لیونل میسی کے سر پر زخم


رپورٹ میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ’’گرتی ہوئی برآمدات کے اثرات سے ملک کے ایکسٹرنل اکاؤنٹ اور زرمبادلہ کے ذخائر کے استحکام کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ہماری برآمدات پر مبنی صنعتوں کو انتہائی مشکل حالات میں دھکیلا جا رہا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK