اے آئی سمٹ میں چین سے خریدے گئے ’روبوٹک ڈاگ‘ کو اپنا اختراع بنا کر پیش کیا، چینی میڈیا نے پول کھول دی، دنیا بھر میں تماشہ کے بعد پویلین خالی کروایا گیا
EPAPER
Updated: February 19, 2026, 9:28 AM IST | New Delhi
اے آئی سمٹ میں چین سے خریدے گئے ’روبوٹک ڈاگ‘ کو اپنا اختراع بنا کر پیش کیا، چینی میڈیا نے پول کھول دی، دنیا بھر میں تماشہ کے بعد پویلین خالی کروایا گیا
دہلی کے ’بھارت منڈپم‘ میں جاری دنیا کی سب سے بڑے اے آئی سمٹ اور ایکسپو میںبدھ کو گلگوٹیاس یونیورسٹی کی وجہ سے ہندوستان کی جگ ہنسائی کا سبب بن گئی۔ یونیورسٹی نے چین کے بنے ہوئے روبوٹک کتے کو اے آئی سمٹ میں ’’اپنی اختراع‘‘ کے طور پر پیش کیا تھا۔ اس کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعدچین کے سوشل میڈیا صارفین اور چینی میڈیا نے پول کھول دی اور دنیا بھر میں ہندوستان کا تماشہ بن گیاہے۔ حکومت نے فوری اقدام کرتے ہوئے گلگوٹیا یونیورسٹی سے پویلین خالی کروالیا ہے۔ اسے سمٹ میں دیئے گئے پویلین کو خالی کرنے کا حکم دینے کے بعد اس کی بجلی کاٹ دی گئی تھی اور یونیورسٹی عملہ وہاں سے ذلیل وخوار ہوکر لوٹا۔
گلگوٹیاس یورنیوسٹی کا جھوٹا دعویٰ
یونیورسٹی کی نمائندہ نے چینی ساختہ روبوٹک کتے کوگلگوٹیاس کے طلبہ کے ذریعہ جانفشانی سے تیار کیا جانے والا روبوٹ قرار دے کر یہ دعویٰ کیا کہ یونیورسٹی مصنوعی ذہانت کے شعبہ میں ۳۵۰؍کروڑ روپے خرچ کررہی ہےلیکن یونیورسٹی کے اس دعویٰ کا بھانڈہ اس وقت پھوٹ گیا جب چینی میڈیا ’چائنا پلس‘ نے کہا کہ دہلی میں منعقد اے آئی سمٹ میں ہندوستان کی ایک یونیورسٹی چین کے روبوٹ ’یونی ٹری‘ کو اپنا بتا رہی ہے۔ گلگوٹیاس یونیورسٹی نے چونکہ روبوٹ کواپنا بتاتے ہوئے متعارف کرایاتھا اس لئے مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے بھی اس کو فخریہ انداز میں اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کیا تھا۔ انہوںنے اسے ہندوستان کے انجینئرس اور اِنوویٹرس کی اہم کامیابی قرار دیا۔ بعد میں جب چینی میڈیا نے قلعی کھول دی تو مرکزی وزیر کو بھی خفت اٹھانی پڑی۔
اپوزیشن نے وزیر کی توثیق پر برہمی کااظہار کیا
اس واقعہ کے بعد اپوزیشن نے ملک کی شبیہ پوری دنیا میں خراب کرنے کیلئے مودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انگریس نے چینی ساختہ روبوٹ کو اپنا بتانے اور مرکزی وزیر اشونی ویشنو کے ذریعہ اس کی توثیق پر سخت برہمی ظاہر کیا۔ پارٹی نے کہا کہ’’ مودی حکومت نے اے آئی کے حوالے سے عالمی سطح پر ہندوستان کا مذاق بنادیا۔جاری اے سربراہ اجلاس میں چینی روبوٹس کو اپنےروبوٹ کے طور پر دکھایا جا رہا ہے۔ چینی میڈیا نے ہمارا مذاق اڑایا ہے۔ یہ ہندوستان کیلئے شرمناک ہے۔‘‘پارٹی نے کہاکہ اس سے بھی زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ وزیر اعظم مودی کے وزیر اشونی ویشنو بھی اس جھوٹ میں ملوث ہیں۔ پارٹی نے مزید کہاکہ مودی حکومت نے ملک کی شبیہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔
کانگریس نے مودی کو ’تماشہ منتری‘ قراریا
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بھی چینی روبوٹ کو ہندوستانی روبوٹ بتانے پر برہمی کااظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی صلاحیت اور ڈیٹا سے فائدہ اٹھانے کی بجائےاے آئی سربراہی اجلاس کوایک غیر منظم تشہیری تماشہ بنا دیا گیا۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہندوستانی ڈیٹا کو فروخت کیا جارہاہے جبکہ چینی مصنوعات کی نمائش کی جارہی ہے۔ پارٹی کے ترجمان پون کھیڑہ نےکہا کہ’’ انڈیا میں اے آئی کا مطلب ہے کہ اشوینی کی نااہلی۔‘‘انہوںنے وزیر اعظم مودی کو’’ تماشہ منتری ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کیلئے ہرتقریب بغل گیر ہونے کے موقع تک محدود ہے۔یہ مصنوعی ذہانت سے متعلق سربراہی اجلاس ہے ،اس میں جدت اور خیالات کا تبادلہ ہونا چاہئے تھا لیکن بی جے پی نے اس کو سستے چائنا بازار میں تبدیل کردیا۔
میںگلگوٹیاس یونیورسٹی نے معافی مانگی
چینی روبوٹ کا بھانڈہ پھوٹنے کے بعد جاری کئے گئے پہلے بیان میںگلگوٹیاس یونیورسٹی نے کہا ہےکہ روبوٹک کتے کو اس نے نہیں بنایا اور نہ ہی اس کا دعویٰ کیابلکہ اس نے جدید عالمی ٹیکنالوجیز کی نمائش کے ذریعے طلبہ کے سیکھنے پر اپنی توجہ مرکوز کرنے پر زور دیا ہے۔ یونیورسٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’’لیکن ہم جو کچھ بنا رہے ہیں اور جس طرح کی ذہن سازی کر رہے ہیں اس سے جلد ہی ہمارے طلبہ اس طرح کے ڈیزائن کو انجینئر کریں گے اور تیار کریں گے۔ ٹیکنالوجیز کو سرحدوں میں محدود نہیں ہونا چاہئے۔‘‘یونیورسٹی نے مزید کہا کہ ہم دنیا بھر سے بہترین ٹکنالوجی حاصل کرتے رہیں گے تاکہ ہمارے طلبہ ان کا مطالعہ کر سکیں۔
یونیورسٹی کی اس صفائی پر ہنگامہ آرائی ختم نہ ہونے کے بعد گلگوٹیاس نے دوبارہ بیان جاری کرکے اس پورے واقعہ کیلئے معافی مانگی۔یونیورسٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ پورا معاملہ کنفیوژن کا نتیجہ ہے کیوں کے ان ن کی نمائندہ کو روبوٹ کے بنانے کے بارے میں علم نہیں تھااور اس نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے غلط معلومات فراہم کردی ۔ یونیورسٹی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مذکورہ نمائندہ میڈیا سے بات چیت کیلئے مجازنہیں تھیں۔ اس بیچ نوئیڈہ میں واقع یونیورسٹی کے تعلق سے ایک اور تنازع سامنے آیا ہے۔ اے آئی سمٹ میں اس نے ایک ڈرون بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے ۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کرکے لوگوں نے بتایا کہ جس ’’ساکرڈرون ‘‘ کو یونیورسٹی اپنی اختراع بتا رہی ہے وہ بازار میں ۴۵۳؍ ڈالر میں پہلے سے فروخت ہورہا ہے۔