کئی میونسپل کارپوریشنوں کے جدید آلات سے لیس نہ ہونے پر حکومت نے مکینوں کی حفاظت کے پیش نظر ایک قرارداد منظور کی۔ تمام شہری انتظامیہ کو فلک بوس عمارتوں کی تعمیرات سے قبل اس تعلق سے قواعد کے تحت منظوری دینے کے احکامات جاری کئے گئے۔
EPAPER
Updated: March 16, 2026, 11:21 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai
کئی میونسپل کارپوریشنوں کے جدید آلات سے لیس نہ ہونے پر حکومت نے مکینوں کی حفاظت کے پیش نظر ایک قرارداد منظور کی۔ تمام شہری انتظامیہ کو فلک بوس عمارتوں کی تعمیرات سے قبل اس تعلق سے قواعد کے تحت منظوری دینے کے احکامات جاری کئے گئے۔
محکمہ شہری ترقیات نے عروس البلاد ممبئی اور ممبئی میٹرو پولیٹن ریجن میں فلک بوس عمارتوں کی تعمیرات کی اجازت دیتے وقت فائر سیفٹی کے انتظامات کو یقینی بنانا لازمی قرار دیا ہے اور فائر ڈپارٹمنٹ کو ہر طرح کے جدید آلات سے لیس کرنے کا فرمان جاری کیا ہے۔ اس ضمن میں منظور کی گئی قرار داد اور اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے جاری کردہ سرکیولر کے مطابق شہر و اطراف اور ریاست کے تمام شہری ا نتظامیہ میں فائر سیفی کا مکمل انتظام کرنا لازمی ہوگا تاکہ آگ لگنے کے حادثات سے شہریوں کو محفوظ رکھا جاسکے۔
شہر اور ریاست کے الگ الگ علاقوں میں ۷۰؍ میٹر سے زائد اونچی عمارتوں کی تعمیرات اور مکینوں کے تحفظ کے مقصد سے حکومت نے فائر سیفٹی سے متعلق ایک قرار داد منظور کی ہے جس کی بنیاد پر شہری ترقیات کے محکمہ نے عروس البلاد ممبئی کے علاوہ ممبئی میٹرو پولیٹن ریجن کی تمام شہری انتظامیہ کو جاری کردہ سرکیولر کےذریعہ فلک بوس عمارتوں میں حادثاتی طور پر آگ لگنے پر قابو پانے کے لئے جدید آلات سے لیس سازو سامان رکھنے کا فرمان جاری کیا ہے۔
سرکیولر کے ذریعہ تمام شہری انتظامیہ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ جس علاقے میں ۷۰؍ میٹر سے زائد اونچی عمارتیں بنانے کی اجازت دی جائے جہاں فائر ڈپارٹمنٹ حادثاتی طور پر آگ لگنے پر جدید ترین آلات کی مدد سے اس پر قابو پاسکے۔ سرکیولر کے مطابق ممبئی، تھانے، ڈومبیولی، کلیان، پونے اور دیگر شہروں میں جہاں تیزی سے فلک بوس عمارتوں کی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے، وہاں موجود فائر بریگیڈ کے پاس ایئریل سیڑھیوں کا پلیٹ فارم، اسکائی لفٹ، فائر فائٹنگ سروس فراہم کرنے کے جدید یا سامان اور افرادی قوت کی کمی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: میراروڈ: غیر قانونی طریقے سے کچرا ڈالنے والے ڈرائیور کو پولیس کے حوالے کیا گیا
سرکیولر کے مطابق عروس البلاد ممبئی میں فلک بوس عمارتوں میں کسی بھی قسم کا حادثہ پیش آنے یا آگ لگنے کی صورت میں ہائی رائز فائر فائٹنگ ٹینکرس، اونچی سیڑھیاں اور دیگر جدید ترین آلات کا ہونا لازمی ہے لیکن ممبئی میٹروپولیٹن ریجن کے بہت سے علاقوں مثلاً تھانے، بھیونڈی، کلیان اور ڈومبیولی میں فائر بریگیڈ کے پاس جدید ترین آلات میسر نہیں ہیں ۔ سرکیولر میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ عروس البلاد ممبئی میں ۱۰۰؍ میٹر سے زیادہ اونچی عمارتوں کی تعمیرات کی جا رہی ہے اورریاست کے دیگر شہروں میں بھی اب ۷۰ ؍میٹر سے زیادہ اونچی عمارتوں کی تعمیرات کا سلسلہ بڑے پیمانے پر جاری ہے لیکن نہ تو ان علاقوں میں جدید ترین آلات سے لیس فائر بریگیڈ ہے اور نہ تربیت یافتہ افرادی قوت ۔
عام طور پر افرادی قوت اور تربیت یافتہ جوانوں کی کمی نیز جدید ترین آلات کی عدم موجودگی کے سبب بہت زیادہ جانی و مالی نقصان ہوتا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ نے ان تمام خامیوں اور کمیوں کو دور کرنے اور تمام شہری انتظامیہ کی حدودمیں موجود فائر بریگیڈ کو جدید ترین آلات سے لیس کرنے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔