Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’خام تیل اور ایندھن کے معاملے میں ہم کافی مستحکم پوزیشن میں ہیں ‘‘

Updated: March 16, 2026, 11:46 AM IST | New Delhi

ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی وجہ سے پیدا شدہ حالات میں مرکزی وزیر پیوش گوئل نے اطمینان دلایا، بتایا کہ حکومت نے مٹی کے تیل کی پیداوار میں  اضافہ کردیاہے تاکہ ایل پی جی کی سپلائی متاثرہوتو متبادل ذریعہ موجود ہو۔

Piyush Goyal.Photo: INN.
پیوش گوئل۔ تصویر: آئی این این۔

ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی وجہ سے ایندھن کی ترسیل میں  رکاوٹوں   کے بیچ مرکزی وزیر پیوش گوئل نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے گیس کی ترسیل اور بحری راستوں میں رکاوٹ کے باوجود ہندوستان خام تیل اور ایندھن سے متعلق کسی بھی صورتِ حال سے نمٹنے کیلئے اچھی پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت نے عام لوگوں کو متبادل فراہم کرنے کیلئے مٹی کے تیل کی پیداوار بڑھا دی ہے۔ 
سی این بی سی-ٹی وی انڈیا بزنس لیڈرز ایوارڈ ۲۰۲۶ء سے خطاب میں گوئل نے کہا کہ حکومت آئندہ ہفتے برآمد کنندگان کی مدد کیلئے ایک’’ٹھوس لائحہ عمل‘‘پیش کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: پیٹرول اور ڈیزل نہیں، تیل کے ’کچرے‘ نے دنیا کی پریشانی میں اضافہ کیا

انہوں نے کہاکہ ’’خام تیل اور ایندھن کے معاملے میں ہم کافی مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ ہمارے پاس اچھا خاصا ذخیرہ موجود ہے۔ خام تیل یا ایندھن کے شعبے میں، چاہے وہ پیٹرول ہو، ڈیزل ہو یا ایوی ایشن فیول، کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں آئی ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ’’ حکومت نے مٹی کے تیل کی پیداوار میں اضافہ کیا ہے تاکہ اگر ایل پی جی کی سپلائی میں کسی قسم کی تاخیر ہو تو عام لوگوں کیلئےکھانا پکانے کا متبادل ذریعہ موجود ہو۔ ‘‘ مرکزی وزیر نے یہ بھی اطلاع دی کہ ’’ہم ایل پی جی اور ایل این جی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے مختلف ذرائع سے درآمدات کر رہے ہیں۔ ‘‘
انہوں نے بتایا کہ پہلے گیس کی یہ کھیپ تین یا چار دن میں یازیادہ سے زیادہ ۷؍دن میں ہندوستان پہنچ جاتی تھی لیکن اب ہمیں ان ذرائع کی طرف جانا پڑ رہا ہے جو ہندوستان سے کہیں زیادہ دور ہیں، جیسے کنیڈا، امریکہ اور ممکنہ طور پر روس۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی ضروریات پوری کرنے کیلئے مختلف متبادل ذرائع پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے موجودہ عالمی حالات کو ملک کیلئے جاگ جانے کا پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی ہندوستان کو کسی چیلنج کا سامنا ہوا ہے، اس نے اسے موقع میں تبدیل کیا ہے۔ انہوں  نے امید ظاہر کی کہ آئندہ ۲؍ دہائیوں  تک ہندوستان ہی سب سے تیز رفتار معیشت رہے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK