ریلائنس نے بھی زبردست کٹوتی کی ۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ’’ترکی نے دسمبر میں روس سے۶ء۲؍ بلین یورو مالیت کے ہائیڈرو کاربن خریدتے ہوئے ہندوستان کو پیچھے چھوڑ کر دوسرا سب سے بڑا درآمد کنندہ بن گیا۔
EPAPER
Updated: January 13, 2026, 9:04 PM IST | New Delhi
ریلائنس نے بھی زبردست کٹوتی کی ۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ’’ترکی نے دسمبر میں روس سے۶ء۲؍ بلین یورو مالیت کے ہائیڈرو کاربن خریدتے ہوئے ہندوستان کو پیچھے چھوڑ کر دوسرا سب سے بڑا درآمد کنندہ بن گیا۔
ریلائنس انڈسٹریز اور پبلک سیکٹر ریفائنریوں کی جانب سے خام تیل کی درآمدات میں زبردست کٹوتی کے بعد، دسمبر ۲۰۲۵ء میں روس سے اس ایندھن کی خریداری کے معاملے میں ہندوستان تیسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ یورپی تحقیقی ادارے، سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر (سی آر ای اے ) نے منگل کو یہ معلومات جاری کیں۔
اس کے مطابق دسمبر میں روس سے ہندوستان کی کل ہائیڈرو کاربن درآمدات ۳ء۲؍ بلین یورو رہی جو کہ پچھلے مہینے میں ۳ء۳؍ بلین یورو تھی۔ترکی دوسرا بڑا درآمد کنندہ بن گیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ’’ترکی نے دسمبر میں روس سے۶ء۲؍ بلین یورو مالیت کے ہائیڈرو کاربن خریدتے ہوئے ہندوستان کو پیچھے چھوڑ کر دوسرا سب سے بڑا درآمد کنندہ بن گیا۔‘‘ چین پہلے نمبر پر خریدار رہا، جس نے اپنے پانچ بڑے درآمد کنندگان سے روس کی برآمدی آمدنی کا ۴۸؍فیصد (۶؍ بلین یورو) حصہ لیا۔
یہ بھی پڑھئے:جب زخم بھر جائیں گے تب ’’اکیس‘‘ (دھرمیندر کی آخری فلم) دیکھوں گی: ہیما مالنی
ہندوستان نے روس سے ۸ء۱؍ بلین یورو کا تیل خریدا
سی آرای اے نے کہاکہ ’’ہندوستان روسی ایندھن کا تیسرا سب سے بڑا خریدار تھا، جس نے دسمبر میں کل ۳ء۲؍بلین یورو روسی ہائیڈرو کاربن درآمد کیا۔‘‘‘ رپورٹ کے مطابق’’ہندوستان کی کل خریداریوں میں خام تیل کا حصہ ۷۸؍ فیصد ہے، کل ۸ء۱؍ بلین یورو۔ اس کے علاوہ کوئلہ (۴۲۴؍ ملین یورو) اور تیل کی مصنوعات (۸۲؍ملین یورو) درآمد کی گئیں۔‘‘ ہندوستان نے نومبر میں روسی خام تیل کی خریداری پر ۶ء۲؍بلین یورو خرچ کیے۔
یہ بھی پڑھئے:رئیل میڈرڈ میں بڑی تبدیلی: زابی الونسو رخصت، الوارو اربیلوا نے باگ ڈور سنبھال لی
ہندوستان نے دسمبر میں درآمدات میں۲۹؍ فیصد کمی کی
سی آر ای اے نے بتایا کہ ہندوستان کی روسی خام تیل کی درآمدات میں ماہانہ بنیادوں پر نمایاں ۲۹؍ فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کمی کی بڑی وجہ ریلائنس انڈسٹریز کی جام نگر ریفائنری تھی جس نے دسمبر میں روس سے اپنی درآمدات کو آدھا کر دیا۔پبلک سیکٹر ریفائنریز نے بھی دسمبر میں روسی درآمدات میں ۱۵؍ فیصد کمی کی۔