Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان اور برطانیہ کا آزاد تجارتی معاہدہ مئی کے دوسرے ہفتے سے نافذ ہونے کا امکان

Updated: April 12, 2026, 6:05 PM IST | New Delhi

ہندوستان اور برطانیہ نے ۲۴؍ جولائی ۲۰۲۵ء کو جامع اقتصادی اور تجارتی معاہدہ (سی ای ٹی اے) پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت ہندوستان کی ۹۹؍ فیصد برآمدات برطانوی منڈی میں بغیر کسی ڈیوٹی کے داخل ہوں گی۔

Indo Uk Trade.Photo:INN
ہندوستان برطانیہ تجارت۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان  اور برطانیہ نے ۲۴؍ جولائی ۲۰۲۵ء کو جامع اقتصادی اور تجارتی معاہدہ (سی ای ٹی اے) پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت ہندوستان کی ۹۹؍ فیصد برآمدات برطانوی منڈی میں بغیر کسی ڈیوٹی کے داخل ہوں گی، جبکہ برطانیہ کی مصنوعات، جیسے گاڑیاں اور وہسکی، پر ہندوستان  میں محصولات میں کمی کی جائے گی۔
ایک سرکاری اہلکار کے مطابق، ہندوستان برطانیہ آزاد تجارتی معاہدہ، جو گزشتہ سال جولائی میں دستخط ہوا تھا، ممکنہ طور پر مئی کے دوسرے ہفتے سے نافذ العمل ہو جائے گا۔ ہندوستان  اور برطانیہ نے اسی دن ڈبل کنٹری بیوشنز کنونشن ( ڈی سی سی ) معاہدے پر بھی دستخط کیے تھے تاکہ عارضی کارکنوں کو کسی بھی ملک میں سماجی محصولات دو بار ادا نہ کرنے پڑیں۔ اہلکار نے کہا کہ دونوں معاہدے غالباً بیک وقت نافذ کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھئے:ڈیزل پر برآمدی ڈیوٹی بڑھ کر ۵ء۵۵؍ روپے فی لیٹر، اے ٹی ایف پر۴۲؍ روپے ہو گئی


سی ای ٹی اے   کا مقصد دونوں معیشتوں کے درمیان ۵۶؍  ارب امریکی ڈالر کی تجارت کو۲۰۳۰ء تک دُگنا کرنا ہے۔ہندوستان نے چاکلیٹس، بسکٹس اور کاسمیٹکس سمیت مختلف صارفی اشیاء کے لیے اپنی منڈی کھول دی ہے، جبکہ اسے ٹیکسٹائل، جوتے، قیمتی پتھر اور زیورات، کھیلوں کا سامان اور کھلونوں جیسی مصنوعات کی برآمدات میں بہتر رسائی حاصل ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے:جب آشا بھوسلے اوربریٹ لی کی جوڑی نے کرکٹ اور موسیقی کے شائقین کو مسحور کر دیا تھا


 معاہدے کے تحت اسکاچ وہسکی پر ٹیکس فوری طور پر۱۵۰؍ فیصد سے کم ہو کر۷۵؍ فیصد ہو جائے گا، اور۲۰۳۵ء تک مزید کم ہو کر ۴۰؍ فیصد رہ جائے گا۔ گاڑیوں کے شعبے میں ہندوستان  پانچ سال کے اندر درآمدی ڈیوٹی کو موجودہ۱۱۰؍ فیصد تک کی بلند شرح سے کم کر کے ۱۰؍ فیصد تک لے آئے گا، اور یہ کمی ایک مرحلہ وار کوٹہ نظام کے تحت کی جائے گی۔  اس کے بدلے میں ہندوستانی صنعت کاروں کو برطانیہ کی منڈی میں الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں تک کوٹہ فریم ورک کے تحت رسائی ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK