رپورٹ کے مطابق عالمی ادائیگیوں کی صنعت کی آمدنی ۲۰۳۰ء تک۶ء۲؍ ٹریلین ڈالرس تک پہنچنے کی توقع ہے۔ تاہم آنے والے برسوں میں اس شعبے کی ترقی کی رفتار کچھ سست ہوکر تقریباً ۵؍ فیصد سالانہ رہنے کا اندازہ ہے۔
EPAPER
Updated: September 24, 2026, 5:02 PM IST | New Delhi
رپورٹ کے مطابق عالمی ادائیگیوں کی صنعت کی آمدنی ۲۰۳۰ء تک۶ء۲؍ ٹریلین ڈالرس تک پہنچنے کی توقع ہے۔ تاہم آنے والے برسوں میں اس شعبے کی ترقی کی رفتار کچھ سست ہوکر تقریباً ۵؍ فیصد سالانہ رہنے کا اندازہ ہے۔
ہندوستان کا یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی ) اب ہر ماہ ۲۰؍ ارب سے زائد ٹرانزیکشنز پروسیس کر رہا ہے اور ریئل ٹائم ڈجیٹل ادائیگی کے شعبے میں عالمی معیار قائم کرچکا ہے۔ بوسٹن کنسلٹنگ گروپ (بی سی جی) کی ایک رپورٹ میں جمعرات کو کہا گیا کہ یو پی آئی اس بات کی بہترین مثال ہے کہ کس طرح ڈجیٹل پبلک انفراسٹرکچر(ڈی پی آئی) بڑے پیمانے پر توسیع اور مالی شمولیت، دونوں کو ایک ساتھ فروغ دے سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی ادائیگیوں کی صنعت کی آمدنی ۲۰۳۰ء تک۶ء۲؍ ٹریلین ڈالرس تک پہنچنے کی توقع ہے۔ تاہم آنے والے برسوں میں اس شعبے کی ترقی کی رفتار کچھ سست ہوکر تقریباً ۵؍ فیصد سالانہ رہنے کا اندازہ ہے، جبکہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ادائیگیوں کی صنعت میں تقریباً ۷؍ فیصد سالانہ کی شرح سے اضافہ ہوا ہے۔ بی سی جی کے منیجنگ ڈائریکٹر اور پارٹنر وویک مندھاتا نے کہا کہ ہندوستان کا ریئل ٹائم پیمنٹ ایکو سسٹم ڈجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی کامیاب ترین مثالوں میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان نے مالی شمولیت اور بڑے پیمانے پر ڈجیٹل ادائیگیوں کے استعمال کے درمیان ایسا توازن قائم کیا ہے، جس کا مطالعہ دنیا کے کئی ممالک کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:تیلگوانڈسٹری میں لوگ سنیما کا جشن مناتے ہیں : راگھو جوئل
انہوں نے کہا کہ یو پی آئی کے ذریعے ہندوستان نے کروڑوں افراد کو ڈجیٹل ادائیگی کے نظام سے جوڑا ہے اور اس کے باوجود لین دین میں اضافہ مسلسل مضبوط رہا ہے۔ اس کے ساتھ کریڈٹ کارڈ کے استعمال میں بھی، خصوصاً آن لائن ادائیگیوں کے شعبے میں، تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ اس رجحان سے بینکوں، فن ٹیک کمپنیوں اور پیمنٹ سروس فراہم کرنے والوں کے لیے صارفین کو مزید ویلیو ایڈڈ سروسیز فراہم کرنے کے نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔
بی سی جی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کی ڈجیٹل پیمنٹ مارکیٹ اب اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہورہی ہے، جہاں آرٹیفیشل انٹیلی جنس اورایجنٹک کامرس اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ مستقبل میں اے آئی پر مبنی نظام ادائیگی کے تجربے کو زیادہ آسان، محفوظ اور خودکار بنا سکتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے صارفین کے لیے ادائیگی کے عمل کو مزید سہل بنانے کے ساتھ ساتھ فریب دہی کی روک تھام اور لین دین کے انتظام میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
بی سی جی کے مطابق اے آئی پہلے ہی پیمنٹ اور ٹرانزیکشن بینکنگ کے شعبے میں تیزی سے تبدیلی لارہا ہے۔ اس سے کمپنیوں کو لاگت کم کرنے، مصنوعات اور خدمات کو بہتر بنانے اور ٹریڈ فنانس، پیمنٹ آپریشنز سمیت روایتی کاغذی عمل کو خودکار بنانے میں مدد مل رہی ہے۔ رپورٹ کے ایک اہم نتیجے کے مطابق سروے میں شامل ۷۳؍ فیصد بڑے تاجروں نے اشارہ دیا کہ اگر انہیں ایجنٹ پر مبنی لین دین کے لیے بہتر سہولت اور معاونت فراہم کی جائے تو وہ اپنے موجودہ پیمنٹ سروس پرووائیڈر(پی ایس پی ) کو تبدیل کرنے پر غور کرسکتے ہیں۔
یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ ایجنٹک کامرس مستقبل میں ادائیگیوں کی صنعت میں مسابقت کا ایک اہم عنصر بن سکتا ہے۔ پیمنٹ کمپنیاں صرف لین دین مکمل کرنے تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ اے آئی کے ذریعے صارفین اور کاروباری اداروں کو مزید خودکار اور مربوط خدمات فراہم کرنے کی کوشش کریں گی۔ بی سی جی کی رپورٹ میں عالمی سطح پرPayment Sovereignty کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کے ۱۳۷؍ ممالک میں چوبیس گھنٹے دستیاب انسٹنٹ پیمنٹ سسٹمز موجود ہیں۔