Updated: September 24, 2026, 6:01 PM IST
| Ankara
ترکی کے صدر طیب اردگان کے اقوام متحدہ کے خطابات اب کتابی شکل میں تین زبانوں میں شائع کئے گئے ہیں،اس اشاعت میں ترکی کے صدر کے غزہ کی نسل کشی، عالمی تنازعات اور بین الاقوامی نظام کی اصلاح سے متعلق پیغامات کو ’’ایک زیادہ منصفانہ دنیا ممکن ہے‘‘ کے نعرے کے تحت وسیع تر سامعین تک پہنچایا گیا ہے۔
ترکی کےصدر طیب اردگان اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران۔ تصویر: ایکس
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے اقوام متحدہ کی ۸۱؍ ویں جنرل اسمبلی سے خطاب کو ترکی انگریزی اور عربی زبانوں میں کتابی شکل میں شائع کر دیا گیا ہے، جس سے عالمی بحرانوں اور بین الاقوامی اصلاحات پر ان کی تقریر ایک مستقل اشاعت کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ترکی کی صدارت کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ اس کتاب میں اردگان کے غزہ، علاقائی تنازعات، روس یوکرین جنگ اور موجودہ بین الاقوامی نظام کی مبینہ خامیوں سے متعلق پیغامات کو یکجا کیا گیا ہے۔یہ اشاعت ’’ایک زیادہ منصفانہ دنیا ممکن ہے‘‘ کے نعرے کے تحت پیش کی گئی ہے۔منگل کو نیویارک میں دیے گئے اس خطاب میں غزہ پر خاصی توجہ دی گئی اور وسیع تر بین الاقوامی اقدام کی اپیل کی گئی، جبکہ یہ موقف بھی اختیار کیا گیا کہ موجودہ عالمی نظام کو اصلاحات کی ضرورت ہے۔ مزید برآںاردگان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ڈھانچے میں تبدیلی کے لیے اپنی طویل المدتی اپیل بھی دہرائی، جس کا خلاصہ ان کے اصول ’’دنیا پانچ سے بڑی ہے‘‘ میں بیان کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وہائٹ ہاؤس: پریس پر پابندی، جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے طریقۂ کار پر سوال اٹھایا
صدارت کے مطابق، اس کتاب میں ایران سے متعلق تنازع، لبنان کی پیش رفت اور روس یوکرین جنگ بھی شامل ہیں۔فوری جغرافیائی سیاسی بحرانوں کے علاوہ، اس میں دہشت گردی، موسمیاتی بحران اور مصنوعی ذہانت پر بھی بات کی گئی ہے، اور ایردوان کے ان خیالات کو پیش کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی نظام عالمی چیلنجوں کا مؤثر جواب کیسے دے سکتا ہے۔جبکہ صدارت نے اس اشاعت کو بین الاقوامی سامعین اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک ذریعہ قرار دیا، اور کہا کہ تین زبانوں میں اس کی اشاعت کا مقصد امن، استحکام اور خوشحالی سے متعلق پیغامات تک رسائی کو وسیع کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو نے احتجاج اور حفاظتی انتباہ کے درمیان اپنا امریکہ دورہ مختصر کیا
واضح رہے کہ یہ اشاعت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی لیڈر۸۱؍ویں جنرل اسمبلی کے لیے نیویارک میں جمع ہیں، اور غزہ، یوکرین اور وسیع تر مشرق وسطیٰ کے تنازعات کے ساتھ عالمی طرز حکمرانی کے مستقبل سے متعلق سوالات بین الاقوامی ایجنڈے پر چھائے ہوئے ہیں۔ بعد ازاں کتاب کا اختتام مشہور ترکی شاعر سیزائی کاراکوچ کی نظم پر ہوتا ہے، جن کے کلام کو سچائی، تاریخ اور جوابدہی کے موضوعات کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم خاموش رہے تو معاملہ ختم ہو جائے گا۔
مگر اگر ہم خاموش رہے تو تاریخ خاموش نہیں رہے گی۔
اگر تاریخ خاموش ہو جائے تو سچ خاموش نہیں ہوگا۔
وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ ہم سے چھٹکارا پا لیں تو معاملہ ختم ہو جائے گا۔
مگر اگر وہ ہم سے چھٹکارا پا بھی لیں تو اپنے پچھتاوے سے نہیں بچ سکیں گے۔
اگر وہ اپنے پچھتاوے سے بچ بھی جائیں تو تاریخ کی سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔
اگر وہ تاریخ کی سزا سے بچ بھی جائیں تو اللہ کے غضب سے نہیں بچ سکیں گے۔