یہاں مشرقی جانب ایم آئی ڈی سی مدرسہ و مسجد غوثیہ رضویہ اہلسنت کی تعمیرنو کے لئے عدالت کی ہدایت پر نوآبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) کے لئے پرپوزل محکمہ داخلہ کو بھیج دیا گیاہے۔
EPAPER
Updated: September 24, 2026, 4:07 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Andheri
یہاں مشرقی جانب ایم آئی ڈی سی مدرسہ و مسجد غوثیہ رضویہ اہلسنت کی تعمیرنو کے لئے عدالت کی ہدایت پر نوآبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) کے لئے پرپوزل محکمہ داخلہ کو بھیج دیا گیاہے۔
یہاں مشرقی جانب ایم آئی ڈی سی مدرسہ و مسجد غوثیہ رضویہ اہلسنت کی تعمیرنو کے لئے عدالت کی ہدایت پر نوآبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) کے لئے پرپوزل محکمہ داخلہ کو بھیج دیا گیاہے۔ ممبئی ہائی کورٹ نے اس کے لئے اپنے حکم میں ۳؍ ہفتے کی مہلت دی تھی۔ ایک ہفتے کے بعد یہ اندازہ ہوگا کہ محکمۂ داخلہ کا کیا رخ ہوگا ،آیا اجازت دی جاتی ہےیا پھر ایم آئی ڈی سی کا حوالہ دے کرمنع کردیا جاتا ہے۔
اس تعلق سے مذکورہ مدرسہ ومسجد انتظامیہ کمیٹی کے فعال رکن اقبال منیار نے نمائندۂ انقلاب کوبتایاکہ ’’منگل کومنترالیہ میںپرپوزل داخل کیا گیا ہے، انتظار رہے گا کہ حکومت کی جانب سے کیافیصلہ کیا جاتا ہے۔‘‘انہوں نےیہ بھی کہا کہ ’’دراصل یہ ذمہ داری تو ایم آئی ڈی سی اورڈیولپرکی تھی کیونکہ علاقے کی مناسبت سے زمین کا مالکانہ حق ایم آئی ڈی سی کے پاس ہے مگر پہلے جو پرپوزل ایم آئی ڈی سی کی جانب سےداخل کیا گیا تھا، وہ درست نہیںتھا اسی لئے محکمۂ داخلہ نے اسے رد کردیا تھا۔ اب چونکہ عدالت نےٹرسٹیان کوہدایت دی ہے کہ وہ اپنے طور پر یہ کام کریں، اسی ہدایت کی مناسبت سے پیش رفت کی گئی ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ حکومت کی جانب سے کیا رخ اختیار کیا جاتا ہے۔ اس کی روشنی میں اور کیس کی پیروی کرنے والے وکیل کے صلاح ومشورہ سے اگلا قدم اٹھایاجائے گا۔‘‘اقبال منیار کے مطابق ’’ تقریباً ۱۴؍ سال گزرچکے ہیں ا ورکسی نہ کسی سبب یہ معاملہ التواء کا شکار ہوتا رہا اور کچھ شرپسندوں کی جانب سے بھی رخنہ اندازی کی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بازآبادکاری کےپروجیکٹ کے مطابق عمارتیں تعمیر ہوگئیں، مکین قیام پزیرہوگئے مگر مدرسہ ومسجد کی تعمیر معلّق ہے ۔اسی لئے ہر ممکن طریقے سے کوشش کی جارہی ہے کہ اس کا کوئی حل نکلے۔‘‘