• Sun, 15 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہند-امریکہ معاہدہ روپے کی قدر میں مزید گراوٹ کا باعث!

Updated: February 15, 2026, 10:58 AM IST | New Delhi

غیر ملکی سرمایہ کے انخلاء کو روکنے میں  ناکامی اور رُوس سے سستے تیل کی خریداری رُکنے کی وجہ سے۲۰۲۶ء میں  ایک ڈالر ۹۳؍ روپے کا ہوسکتاہے۔

There is a fear of further depreciation in the value of the rupee due to the strength of the dollar in the global market. Photo: INN
عالمی مارکیٹ میں ڈالر کی مضبوطی کی وجہ سے ہی روپے کی قدر میں مزید گراوٹ کا اندیشہ ہے۔ تصویر: آئی این این

ہند-امریکہ عبوری تجارتی معاہدہ کے اعلان کے بعد حالانکہ بازاروں   میں  وقتی اچھال دیکھا گیاتھا اور غیر ملکی سرمایہ کی آمد کی امیدیں  بھی بڑھی تھیں  مگر دھیرے دھیرے یہ جوش ختم ہوگیاہے اور غیر ملکی سرمایہ کے انخلاء کا سلسلہ پھر دراز ہونے لگا ہے۔ اسی کے ساتھ امریکی معاہدہ کی وجہ سے روس سے سستے تیل کی خریداری بھی بند ہونے کا اندیشہ ہے۔ یہ دونوں  عوامل رواں سال روپے کی قدر میں  مزید گراوٹ کا باعث بنیں گے۔ یہ پیش گوئی ریٹنگ ایجنسی ’فِچ‘ نے کی ہے۔ 
فِچ ریٹنگز کے مطابق ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی جاری رہنے اور غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری کے انخلا کے علاوہ مہنگے غیر روسی خام تیل کی خریداری کے فیصلے کی وجہ سے موجودہ کیلنڈر سال کے آخر تک روپے کی قدر گھٹ کر ۹۳؍ روپے فی ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال ۲۰۲۵ء میں   روپے کی قدر میں  ۵ فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی جس کی وجہ سے ایک ڈالر ۹۲؍ روپے سے بھی زیادہ کا ہوگیا ہے۔ بہرحال فِچ نے امید ظاہر کی ہے کہ اب گراوٹ کی رفتار قدرے سست ہو سکتی ہے کیونکہ ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ سے متعلق وضاحت سامنے آ گئی ہے۔ فِچ کی رپورٹ کے مطابق’’ہند-امریکہ تجارتی معاہدے کے بعد روپیہ مضبوط ہو کر ۹۰ء۴؍ روپے فی ڈالر تک پہنچا جبکہ گزشتہ سال۵؍ فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی تھی۔ اب ہمیں توقع ہے کہ۲۰۲۶ء میں روپے میں قدرے سست روی کے ساتھ کمی ہوگی اور یہ سال کے آخر تک تقریباً ۹۳؍ روپے فی ڈالر کے آس پاس رہے گا جو اندازہ لگائے گئے ۹۵؍ روپے فی ڈالر سے بہتر ہے۔ ‘‘ فچ نے متنبہ کیا ہے کہ ’’ غیر ملکی سرمایہ کا انخلاء اور تجارتی معا ہدہ کے تحت(ہندوستان کی) مہنگے غیر روسی خام تیل کی جانب منتقلی اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہوں گی۔‘‘ ایشیائی کرنسیوں کے تعلق سے اپنے اندازہ میں فِچ نے کہا ہے کہ امریکی شرحِ سود میں کمی ایشیائی کرنسیوں کی مدد کرے گی تاہم مذکورہ ممالک کے معاشی حالات اور سیاسی استحکام اس میں   انتہائی اہم رول ادا کریگا۔ فِچ کا کہنا ہے کہ ’’کمزور امریکی ڈالر کا ماحول کچھ حد تک سہارا فراہم کرے گا، لیکن فائدے یکساں نہیں ہوں گے۔ جن معیشتوں کے کرنٹ اکاؤنٹ مضبوط ہیں، پالیسی سازی قابلِ اعتماد ہے اور سیاسی حالات مستحکم ہیں، وہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں   گی جبکہ وہ کرنسیاں جنہیں مالیاتی بگاڑ، تجارتی خسارے میں اضافہ یا حکومتی مداخلت جیسے مسائل کا سامنا ہے، ان کیلئے قدر میں اضافہ برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔ ‘‘
غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی 

یہ بھی پڑھئے: میٹا کا نیا پیٹنٹ: موت کے بعد بھی سوشل اکاؤنٹ اے آئی سے فعال رہے گا

گزشتہ ہفتے کے ریکارڈ۱۴؍ ارب ڈالر کے اضافے کے بعد، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں ۶ء۷؍ ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ۶؍ فروری کو ختم ہونے والے ہفتے میں یہ گھٹ کر ۷۱۷ء۶؍ ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ سونے کے ذخائر کی قدر میں تیزی سے آنے والی کمی تھی، جس نے ذخائر میں شامل ۱۴؍ ارب ڈالر کا اضافہ بے اثر کردیا۔ ۳۰؍ جنوری کو ختم ہونے والے ہفتے میں ذخائر بڑھ کر تاریخ کی بلند ترین سطح۷۲۳ء۸؍ ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے، جس سے ملک کی بیرونی مالی حالت مضبوط ہوئی اور تقریباً۱۲؍ماہ کی درآمدی ضرورت پوری کرنے کی صلاحیت حاصل ہوئی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK