Updated: February 14, 2026, 10:15 PM IST
| Washington
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کو ایک ایسا پیٹنٹ دیا گیا ہے جس کے تحت مصنوعی ذہانت صارف کے غیر فعال یا وفات پانے کے بعد بھی اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی سرگرمی کو برقرار رکھ سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ نظام صارف کے سابقہ ڈیٹا کی بنیاد پر اس کے انداز میں پیغامات، تبصرے اور دیگر تعاملات تخلیق کر سکتا ہے۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ پیٹنٹ کا مطلب فوری نفاذ نہیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ میٹا کو ایک ایسے نظام کا پیٹنٹ دیا گیا جو نظریاتی طور پر صارف کے انتقال یا طویل غیر فعالیت کے بعد بھی اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو فعال رکھ سکتا ہے۔ یہ پیٹنٹ اس تصور پر مبنی ہے کہ مصنوعی ذہانت صارف کے ماضی کے ڈیجیٹل مواد اور طرزِ اظہار کو استعمال کرتے ہوئے اس کے نام سے تعامل جاری رکھ سکے۔ رپورٹ کے مطابق پیٹنٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ اگر کوئی صارف طویل عرصے تک غیر فعال رہے یا اس کا انتقال ہو جائے تو ایک اے آئی ماڈل اس کے پہلے سے موجود ڈیٹا — جیسے پوسٹس، تبصرے، لائکس اور زبان کے انداز — کا تجزیہ کر کے اسی طرز میں نیا مواد تخلیق کر سکتا ہے۔ اس کا مقصد اکاؤنٹ کی ’’ڈجیٹل موجودگی‘‘ کو برقرار رکھنا بتایا گیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق یہ نظام خودکار پیغامات، سالگرہ کی مبارک باد، یاد دہانیاں یا دیگر سماجی تعاملات بھی تخلیق کر سکتا ہے۔ تاہم کمپنی نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ اسے صارفین کے لیے کب یا کیسے متعارف کرایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی آتشی بموں سے ہزاروں فلسطینی ’’بھاپ‘‘ بن گئے: تحقیق میں انکشاف
میٹا نے وضاحت کی ہے کہ پیٹنٹ کا حصول اس بات کی ضمانت نہیں کہ یہ فیچر لازمی طور پر لانچ کیا جائے گا۔ ٹیک کمپنیوں کی جانب سے اکثر تحقیقاتی یا دفاعی نوعیت کے پیٹنٹس فائل کیے جاتے ہیں تاکہ مستقبل کی ٹیکنالوجی کے امکانات محفوظ رکھے جا سکیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈجیٹل وراثت (Digital Legacy) اور’’ڈجیٹل بعد از حیات‘‘ جیسے تصورات عالمی سطح پر زیرِ بحث ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پہلے ہی ’’می موریلائزڈ اکاؤنٹس‘‘ جیسے فیچرز فراہم کرتے ہیں، جن کے تحت انتقال کے بعد اکاؤنٹ کو یادگاری حالت میں رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ نیا تصور اس سے ایک قدم آگے جاتا دکھائی دیتا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت فعال انداز میں تعامل جاری رکھ سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی سے کئی اخلاقی اور قانونی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کیا کسی فرد کے انتقال کے بعد اس کے ڈیٹا کے استعمال کے لیے واضح رضامندی موجود ہوگی؟ کیا خاندان یا ورثا کو اس ڈجیٹل موجودگی پر اختیار حاصل ہوگا؟ اور کیا اس طرح کا اے آئی تعامل سوگوار افراد کے لیے نفسیاتی طور پر معاون ہوگا یا الجھن کا سبب بنے گا؟
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ سے اختلاف ، کنیڈا پر عائد محصولات ختم کرنے کا بل منظور
ڈجیٹل پرائیویسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی کے نفاذ سے قبل سخت ضابطوں اور شفاف پالیسیوں کی ضرورت ہوگی۔ خاص طور پر یورپی یونین اور امریکہ میں ڈیٹا پروٹیکشن قوانین پہلے ہی حساس نوعیت کے ڈیٹا کے استعمال پر پابندیاں عائد کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے ناقدین کے مطابق، اگرچہ اے آئی سے ڈجیٹل یادگار بنانا ممکن ہے، مگر ’’ڈجیٹل شخصیت‘‘ کی تخلیق ایک پیچیدہ عمل ہے جو انسانی جذبات، سوگ اور یادداشت کے فطری عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔ بعض ماہرین اسے ’’گریف ٹیک‘‘ (Grief Tech) کے بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ فی الحال میٹا کی جانب سے کوئی عملی پروڈکٹ یا لانچ ٹائم لائن جاری نہیں کی گئی۔ تاہم پیٹنٹ کی خبر نے ڈجیٹل دنیا میں موت، یاد اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ واضح ہے کہ مستقبل میں ٹیکنالوجی نہ صرف زندگی بلکہ بعد از زندگی کی ڈجیٹل موجودگی کو بھی نئی شکل دے سکتی ہے — مگر اس کے ساتھ ذمہ داری اور ضابطہ بھی ناگزیر ہوگا۔