مودی سرکار کی نااہلی اور اُس کے غلط فیصلوں کے سبب ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے

Updated: September 17, 2020, 7:39 AM IST | Inquilab Desk | New Delhi

’ ہم اگر اُٹھے نہیں تو ‘کے تحت خواتین تنظیموں کی کانفرنس میں انجلی بھاردواج کااظہار خیال۔ شبنم ہاشمی ، عینی راجا، کویتا کرشنن اور لینا دبیرو سمیت سیکڑوںخواتین کا مودی سرکار کی ناانصافیوں کیخلاف اعلان جنگ

Activists
دہلی میں منعقدہ پروگرام’ہم اگر اٹھے نہیں تو‘ کے ذمہ داران

حق بات بولنے، جائز سوال اٹھانے اور پر امن مظاہرہ کرنے کے خلاف جس قسم کی غیر قانونی کارروائی کی جا رہی ہیں، اس پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ملک کی معروف خاتون سماجی کارکنان نے مشترکہ طور پر اعلان کیا کہ وہ مودی حکومت سے ڈرنے والی نہیں ہیں ،خواہ انھیں جیل میں ڈال دیا جائے، وہ حق کی آواز بلند کرتی رہیں گی ۔ ’ہم اگر اُٹھے نہیں تو ‘ کی کامیاب مہم کے ساتھ یہاں پریس کلب آف انڈیا میں معروف سماجی کارکن گوری لنکیش کی تیسری برسی پرخواتین کے۶۳۲؍ گروپس ، ایل جی بی ٹی کیو آئی اے کمیونٹی، تنظیم برائے حقوق انسانی، ٹریڈ یونین اورکسان آرگنائزیشن کی جانب سے مودی حکومت کو آئینہ دکھانے والی فیکٹ شیٹ جاری کی گئی ۔۸۸؍ صفحات پر مشتمل فیکٹ شیٹ میں ملک کی موجودہ صورت حال پر روشنی ڈالی گئی ہے اور خواتین کو درپیش مسائل کو پیش کیا گیا ہے ۔فیکٹ شیٹ جاری کرنے کے بعد ’اے آئی ڈی ایم اے ایم‘کی سربراہ ابیرمی جوتھی ، ایس این ایس کی انجلی بھاردواج ، ریسرچ اسکالر انجلی چہل ، این ایف آئی ڈبلیو کی عینی راجا ، اے آئی پی ڈبلیو اے کی کویتا کرشنن ، آزاد سماجی کارکن لینا دبیرو، انہد کی روح رواں شبنم ہاشمی اور اے آئی ڈی ڈبلیو اے کی مریم دھالوے وغیرہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
  انجلی بھاردواج نے پریس کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے مختلف مسائل اٹھائے۔ انھوں نے بے روزگاری، مہنگائی، کسانوں پر حملے ، ملک کی معاشی صورت حال ، جی ڈی پی ، نوٹ بندی ، جی ایس ٹی ، لاک ڈائون اور حکومت کی دیگر بہت ساری ناکامیوں پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہاکہ غلط نوٹ بندی ، غلط جی ایس ٹی اور غلط لاک ڈائون کے سبب آج ملک کی جی ڈی پی مائنس ۲۸؍ پر پہنچ گئی لیکن حکومت جواب دینے کو تیار نہیں ہے ۔ بے روزگاری دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے ، نوجوان خود کشی کر رہے ہیں لیکن حکومت گونگی  اوربہری بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی آسمان چھو رہی ہے ، خواتین کیلئے گھر چلانا مشکل ہو گیا ہے ، کورونا کے سبب خواتین کی زندگی تباہ ہو گئی ہے لیکن حکومت ان پرگفتگو نہیں کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ’’مودی سرکار کی نااہلی اور اس کے غلط فیصلوں کے سبب  ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ 
 شبنم ہاشمی نے کہا کہ لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ مودی حکومت کے خلاف اب بولنے والا کوئی نہیں ہےلیکن ایسا نہیں ہے۔ خواتین آرگنائزیشن کی جانب سے گزشتہ ۵؍ ستمبر کو ’’ ہم  اگر اٹھے نہیں تو ‘‘کے تحت جو مہم چلائی گئی، وہ بہت کامیاب رہی ہے۔ ملک بھر میں ۲؍ہزار ۶۷۰؍ احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ اس میں ۲۸؍ صوبوں کے ۲۴۵؍ اضلاع میں ۵۰؍ہزار زائد لوگوں نے عملی طور پر حصہ لیا۔ ۲۰۰۰؍ کے قریب عام لوگوں نے اپنے ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالے ہیں ، ۵۱۳؍ اہم شخصیات نے اس مہم کے تحت فیس بک اور یو ٹیوب پر لائیو پروگرام کیے ہیں ۔ ۱۵۰؍ پرفارمینس نے ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھا ہے ’’ ہم اگر اٹھے نہیں تو ‘‘۔انھو ں نے کہا کہ ۱۵؍لاکھ لوگوں نے دیکھا ہے ،  اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ لوگوں میں اور خاص طور پر خواتین میں حکومت کے تئیں ناراضگی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں شبنم ہاشمی نے کہا کہ ہم ڈرنے والے نہیں ہیں خواہ ہمیں جیل بھیج دیا جائے ۔ ہم حق کی آواز بلند کرتے رہیں گے ۔ کویتا کرشنن نے اتر پردیش میں اسپیشل سیکورٹی فورس تشکیل دیے جانے کی تجویز پر سخت تنقید کی ۔ انھوںنے کہا کہ اس قسم کی فورس کی کیا ضرورت ہے ؟ کیا یوپی اب بے قابو ہو گیا ہے جہاں بغیر وارنٹ کے گرفتاریاں کی جائیں گی اور ایسی فورس تعینات کی جائے گی ۔ یواے پی اے کے تحت ہونے والی گرفتاریوں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ ٹارچر کرکے کسی سے بھی کچھ کہلایا جا سکتا ہے لیکن اس سے حقیقت نہیں بدل جاتی ۔ جیلوں میں بند خواتین ، بچے اور بزرگوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا ۔ عینی راجا نے لوگوں کی بھکمری پر روشنی ڈالی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ بغیر امتیاز کے سب کو اناج مہیا کرایا جائے ۔   

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK