ٹرمپ کے امن بورڈ کی دعوت پر فرانس نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کے منثور پر قائم ہیں،جس پر ٹرمپ نے فرانسیسی وائن پر ۲۰۰؍ فیصد ٹیرف کی دھمکی دی، جس کے باعث دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہو گیا۔
EPAPER
Updated: January 20, 2026, 8:03 PM IST | Paris
ٹرمپ کے امن بورڈ کی دعوت پر فرانس نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کے منثور پر قائم ہیں،جس پر ٹرمپ نے فرانسیسی وائن پر ۲۰۰؍ فیصد ٹیرف کی دھمکی دی، جس کے باعث دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہو گیا۔
ٹرمپ نے میکرون کی جانب سے امن بورڈ کی دعوت مسترد کیے جانے کے اشارے کے بعد فرانسیسی شراب اور شیمپین پر۲۰۰؍ فیصد ٹیرف کی دھمکی دے کر امریکہ اور فرانس کے تعلقات میں کشیدگی بڑھا دی ،ساتھ ہی امید ظاہر کی کہ وہ شامل ہو جائیں گے۔ایجنسی فرانس پریس کے مطابق، میکرون کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ فرانس صدر امریکہ کی بھیجی گئی دعوت کا مثبت جواب دینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ بورڈ کا منثورغزہ کے واحد فریم ورک سے آگے نکلگیا ہے۔ ٹرمپ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو مدعو کیا تھا، جس کی کریملن نےتصدیق کردی۔ فلوریڈا میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے پوتن کی شمولیت کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا،’’ہاں، انہیں دعوت دی گئی ہے۔‘‘
دریں اثناءٹرمپ کی امن بورڈ کی دعوت کے بعد، فرانس نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے ساتھ اپنی وابستگی کا اعلان کیا ہے۔واضح رہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کی تجویز کردہ امن پہل کو اقوام متحدہ کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس پر امریکی اثر و رسوخ ،عالمی فیصلہ سازی کے مرتکز ہونے پرسوالات اٹھ رہے ہیں۔تاہم فرانس نے اقوام متحدہ کے منثور ر کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔ بعد ازاں یہ پیش رفت یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سامنے آئی ہے، جہاں ڈونالڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر امریکی قبضہ حاصل کرنے کے اپنے عزائم کی مخالفت کرنے پر متعدد یورپی ممالک کو ٹیرف کی دھمکی دی ہے۔جبکہ فرانسیسی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اس نئے بورڈکی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے،جس کا منصوبہ غزہ کی صورتحال سے آگے تک پھیلا ہوا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: داؤس۲۰۲۶ء میں ٹرمپ کی ’’غزہ پیس بورڈ‘‘ کی پیش رفت، ممبران میں تذبذب اور اضطراب
اتوار کو ایمانوئل میکرون کی ٹیم نے کہا کہ اگر صدر ڈونالڈ ٹرمپ گرین لینڈ حاصل کرنے کی کوششوں میں یورپی ممالک کے خلاف ٹیرف نافذ کرتے ہیں تو وہ یورپی یونین کو امریکہ کے خلاف اپنے طاقتور اینٹی کورشن انسٹرومینٹ استعمال کرنے پر مجبور کریں گے۔ واضح رہے کہ یورپی یونین کا اینٹی کورشن انسٹرومینٹ (ACI) اس اتحاد کو اجتماعی طور پر کارروائی کرنے کی اجازت دیتا ہے جب کسی غیر یورپی ملک کی طرف سے پالیسی تبدیلیوں پر مجبور کرنے کے لیے معاشی اقدامات استعمال یا ان کی دھمکی دی جاتی ہے۔ یہ یورپی کمیشن کو جبر کی تحقیقات، مکالمے کی کوشش اور اگر ضروری ہو تو، متناسب جوابی اقدامات جیسے ٹیرف، تجارتی پابندیاں، سرمایہ کاری کی حدود، یا یورپی یونین سے خارج کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اس آلے کو اس وقت استعمال کیا جا سکتا ہے جب یورپی یونین یا کسی رکن ریاست کے خودمختار فیصلوں کو کمزور کرنے کے لیے معاشی دباؤ استعمال کیا جاتا ہے۔
نیٹو اتحادی فرانس اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اس وقت تیز ہو گئی جب ڈونالڈ ٹرمپ نے ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ سمیت یورپی ممالک کو دھمکی دی، ان پر الزام لگایا کہ وہ گرین لینڈ کا سفر کر کے ’’نامعلوم مقصد‘‘کے تحت بہت خطرناک کھیل ،کھیل رہے ہیں۔تاہم ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں، جہاں بیشتر یورپی ممالک نے محتاط لہجہ اپناتے ہوئے مشترکہ اقدار پر زور دیا اور مغربی اتحاد کو کمزور کرنے کے امکان سے خبردار کیا، وہیں فرانس نے یوکرین میں روسی اقدامات کے ساتھ براہ راست موازنہ کرتے ہوئے امریکی صدر کی دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے سخت لہجہ اپنایا۔ صدر ایمانوئل میکرون نے ایکس پر لکھا، ’’جب ہم ایسے حالات کا سامنا کریں،نہ کوئی دھمکی اور نہ ہی کوئی خطرہ ہمیں متاثر کرے گا،نہ یوکرین میں، نہ گرین لینڈ میں، اور نہ ہی دنیا میں کہیں اور ۔‘‘