Updated: August 06, 2026, 10:02 PM IST
| Mumbai
مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کی پہلی سہ ماہی (اپریل تا جون) میں ہندوستانی کمپنیوں کے مالی نتائج مارکیٹ کی توقعات سے بہتر رہے۔ تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا، تاہم بینکنگ و مالیاتی خدمات ، دھات (میٹل)، انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور آٹوموبائل شعبوں کی مضبوط کارکردگی نے مجموعی کارپوریٹ منافع کو سہارا دیا۔
معاشی ترقی۔ تصویر:آئی این این
مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کی پہلی سہ ماہی (اپریل تا جون) میں ہندوستانی کمپنیوں کے مالی نتائج مارکیٹ کی توقعات سے بہتر رہے۔ اگرچہ تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں (OMCs) کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا، تاہم بینکنگ و مالیاتی خدمات (BFSI)، دھات (میٹل)، انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور آٹوموبائل شعبوں کی مضبوط کارکردگی نے مجموعی کارپوریٹ منافع کو سہارا دیا۔ یہ انکشاف موتی لال اوسوال فنانشل سروسیز (ایم او ایف ایس ایل) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں کو اعداد و شمار سے الگ کر دیا جائے تو کمپنیوں کی مجموعی آمدنی میں سالانہ بنیاد پر ۱۷؍ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ خام تیل کی بلند قیمتوں کے باوجود ہندوستانی کارپوریٹ شعبہ بنیادی طور پر مضبوط ہے۔ رپورٹ میں ان کمپنیوں کا تجزیہ کیا گیا ہے جو مختلف شعبوں کے مجموعی متوقع منافع کا تقریباً ۷۰؍فیصد حصہ رکھتی ہیں۔ ان کمپنیوں کی مجموعی آمدنی میں پہلی سہ ماہی کے دوران ۲؍ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مارکیٹ کو تقریباً ۱۰؍ فیصد کمی کی توقع تھی، اس طرح نتائج اندازوں سے کہیں بہتر ثابت ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے:باب المندب اور آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت میں نمایاں کمی، تیل کی ترسیل پر خدشات بڑھ گئے
مختلف شعبوں کی کارکردگی
بینکنگ اور مالیاتی خدمات (بی ایف ایس آئی ) نے سب سے نمایاں کارکردگی دکھائی، جہاں منافع میں سالانہ ۲۰؍ فیصد اضافہ ہوا۔ میٹل سیکٹر نے شاندار ۵۳؍فیصد ترقی درج کی جبکہ آئی ٹی سیکٹر کی آمدنی۱۱؍ فیصد اور آٹوموبائل سیکٹر کی آمدنی ۷؍ فیصد بڑھی۔ اب تک نتائج جاری کرنے والی ۳۹؍ نفٹی کمپنیوں کے منافع میں اوسطاً ۱۱؍فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ مارکیٹ کو صرف ۷؍ فیصد اضافے کی امید تھی۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً ۴۹؍ فیصدکمپنیاں بروکریج کے اندازوں سے بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہیں جبکہ صرف ۲۲؍فیصد کمپنیوں کے نتائج توقعات سے کمزور رہے۔
کن شعبوں پر دباؤ رہا؟
دوسری جانب تیل کی مارکیٹنگ کمپنیاں، سیمنٹ، ایوی ایشن اور ہیلتھ کیئر شعبے دباؤ میں رہے۔ اس کی بڑی وجوہات خام تیل کی بلند قیمتیں اور بعض شعبوں میں طلب کی کمزوری بتائی گئی ہیں۔ تاہم اگراو ایم سیز کو الگ کر دیا جائے تو مڈ کیپ کمپنیوں کی آمدنی میں حقیقتاً ۲۵؍ فیصد اضافہ ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر مڈ کیپ کمپنیوں کی کارکردگی مضبوط رہی۔ اس دوران اسمال کیپ کمپنیوں نے سب سے بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے اپنی آمدنی میں ۳۲؍ فیصد اضافہ درج کیا۔ مالیاتی شعبے کی مضبوط کارکردگی اور گزشتہ سال کے کم تقابلی بنیاد نے اس ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھئے:ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ پوائنٹس ٹیبل: پاکستان کی فتح سے ایک درجے کی ترقی
رپورٹ کے مطابق پہلی سہ ماہی میں منافع کے تخمینوں میں کمی کی رفتار بھی سست ہوئی ہے، جو شیئر بازار کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ تاہم آنے والے مہینوں میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، آئی پی اوز اور سرمایہ جمع کرنے کی بڑھتی سرگرمیاں بازار میں اتار چڑھاؤ برقرار رکھ سکتی ہیں۔