Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستانی وفد کا دورۂ امریکہ مکمل، دو طرفہ تجارتی معاہدے پر بات چیت میں پیش رفت

Updated: April 24, 2026, 9:07 PM IST | New Delhi

وزارتِ تجارت و صنعت نے جمعہ کو بتایا کہ ایک ہندوستانی وفد نے مجوزہ عبوری تجارتی معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے اور وسیع تر دو طرفہ تجارتی فریم ورک کے تحت بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے امریکہ کا دورہ کیا اور وہاں بالمشافہ مذاکرات کیے۔

Indo America.Photo:INN
ہندوستان اور امریکہ ۔ تصویر:آئی این این

وزارتِ تجارت و صنعت نے جمعہ کو بتایا کہ ایک ہندوستانی وفد نے مجوزہ عبوری تجارتی معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے اور وسیع تر دو طرفہ تجارتی فریم ورک کے تحت بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے امریکہ کا دورہ کیا اور وہاں بالمشافہ مذاکرات کیے۔
محکمہ تجارت کے ایڈیشنل سکریٹری درپن جین کی قیادت میں ۱۲؍ رکنی ہندوستانی ٹیم نے برینڈن لنچ کی سربراہی والے امریکی وفد کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی۔وزارت کے مطابق، مذاکرات میں مارکیٹ تک رسائی، غیر ٹیرف اقدامات، تجارت میں تکنیکی رکاوٹیں، کسٹمز اور تجارت کی سہولت کاری، سرمایہ کاری کا فروغ، اقتصادی سلامتی کی ہم آہنگی اور ڈیجیٹل تجارت سمیت وسیع تر مسائل کا احاطہ کیا گیا۔
یہ بات چیت ۷؍ فروری ۲۰۲۶ء کو جاری کردہ ایک مشترکہ بیان کی بنیاد پر کی گئی ہے، جس میں دونوں فریقین نے باہمی اور فائدہ مند تجارت پر مرکوز ایک عبوری معاہدے کے فریم ورک پر اتفاق کیا تھا۔ اس فریم ورک میں ایک جامع انڈیا-یو ایس دو طرفہ تجارتی معاہدے (بی ٹی اے) کے لیے مذاکرات جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا تھا۔ وزارت نے کہاکہ ’’ملاقاتیں تعمیری اور مثبت جذبے کے ساتھ ہوئیں، جس میں بامعنی اور مستقبل کے حوالے سے ہونے والی بات چیت نے اہم معاملات پر پیش رفت کو ممکن بنایا۔ دونوں فریقین نے اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:’’بھوت بنگلہ‘‘پریہ درشن کی۹۷؍ فلموں میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بن گئی


مجوزہ عبوری انتظام کے تحت، امریکہ نے ہندوستانی سامان پر ٹیرف ۵۰؍ فیصد سے کم کر کے ۱۸؍ فیصد کر دیا ہے۔ جواب میں ہندوستان امریکی منڈیوں تک زیادہ رسائی کی کوشش کر رہا ہے اور دونوں ممالک ۲۰۳۰ء تک دو طرفہ تجارت کو۵۰۰؍ ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف رکھتے ہیں۔ امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریر نے واشنگٹن میں قانون سازوں کو بتایا کہ مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں لیکن انہوں نے طویل عرصے سے موجود حساس معاملات کی طرف بھی اشارہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے:مانچسٹر سٹی سرفہرست، آرسنل کو واپسی کا سنہری موقع ، دیگر ٹیموں کے لیے بقا کی جنگ


گریر نے امریکی کانگریس کی کمیٹی برائے ویز اینڈ مینز کو بتایاکہ ’’ہندوستان سے نمٹنا ایک مشکل کام ہے۔ انہوں نے اپنی زرعی منڈیوں کو بہت طویل عرصے سے تحفظ فراہم کر رکھا ہے۔‘‘ گزشتہ سال اگست میں، ٹرمپ نے ہندوستان پر ۲۵؍ فیصد باہمی ٹیرف اور روس سے خام تیل کی خریداری پر اضافی ۲۵؍ فیصد تادیبی ٹیرف عائد کیا تھا۔ رواں سال ۲۰؍فروری کو امریکی سپریم کورٹ نے ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے `انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت متعارف کروائے گئے جوابی ٹیرف کو منسوخ کر دیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK