Updated: April 24, 2026, 10:18 PM IST
| Mumbai
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ہندوستان کو ’’ہیل ہول‘‘ کہنے پر ہندوستان میں ایرانی قونصل خانوں نے سوشل میڈیا پر انوکھا اور طنزیہ ردعمل ظاہر کیا۔ ممبئی اور حیدرآباد میں ایرانی مشنز نے ٹرمپ کو ہندوستان آنے اور یہاں کی تہذیب کو قریب سے سمجھنے کا مشورہ دیا۔ اس مہم نے آن لائن ایک طرح کی ’’میم وار‘‘ کو جنم دیا، جہاں صارفین نے بھرپور ردعمل ظاہر کیا، بعض نے ایران کی حمایت کی جبکہ کچھ نے اسے سفارتی طنز قرار دیا۔
وزیر اعظم مودی، اور ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:آئی این این
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس متنازع بیان کے بعد کہ ہندوستان اور چین جیسے ممالک ’’ہیل ہول‘‘ ہیں، ہندوستان میں ایرانی سفارتی مشنز نے غیر معمولی انداز میں جواب دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک مہم شروع کر دی۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ٹرمپ نے ایک پوسٹ شیئر کی جس میں ایشیائی ممالک کے بارے میں توہین آمیز زبان استعمال کی گئی، جس پر ہندوستان سمیت عالمی سطح پر ردعمل سامنے آیا۔
ہندوستان میں ایران کے قونصل خانہ ممبئی نے اپنے آفیشل اکاؤنٹ پر مہاراشٹر کی ثقافت، تاریخ اور قدرتی حسن کو اجاگر کرتے ہوئے ایک ویڈیو شیئر کی اور طنزیہ انداز میں کہا کہ ٹرمپ کے لیے ’’کلچرل ڈیٹاکس‘‘ ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی پیغام دیا گیا کہ ’’کبھی ہندوستان آ کر دیکھو، پھر بات کرنا‘‘، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا۔
اسی طرح حیدرآباد میں ایرانی قونصل خانے نے بھی ٹرمپ کے بیان پر طنزیہ ردعمل دیتے ہوئے ہندوستان اور چین کو ’’تہذیبوں کا گہوارہ‘‘ قرار دیا اور بالواسطہ طور پر امریکی قیادت کے رویے پر سوال اٹھایا۔ اس ردعمل نے آن لائن ایک وسیع بحث کو جنم دیا، جسے بعض مبصرین نے ’’ڈجیٹل سفارتکاری‘‘ کی نئی مثال قرار دیا۔
رپورٹس کے مطابق، اس سوشل میڈیا مہم نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک ’’میم وار‘‘ کی شکل اختیار کر لی، جہاں مختلف صارفین اور پیجز نے طنزیہ پوسٹس، ویڈیوز اور تبصرے شیئر کیے۔ حیدرآباد میں ایرانی سفارتخانے کے اقدام کو کئی لوگوں نے ’’تہذیبی جواب‘‘ کہا، جبکہ دیگر نے اسے سفارتی حدود سے ہٹ کر طنز قرار دیا۔ انٹرنیٹ صارفین کے ردعمل میں واضح تقسیم دیکھنے میں آئی۔ کچھ صارفین نے ایران کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ہندوستان کو ہیل ہول کہنا حقیقت سے دور ہے‘‘، جبکہ کئی افراد نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ٹرمپ کو واقعی ہندوستان کا دورہ کرنا چاہیے۔ دوسری جانب کچھ صارفین نے اسے محض سیاسی بیان بازی اور سوشل میڈیا کا ڈرامہ قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق، حالیہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح سفارتی ادارے بھی اب سوشل میڈیا کو عوامی رائے سازی کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جہاں طنز اور ثقافتی حوالوں کے ذریعے پیغام دیا جاتا ہے۔ اس پورے معاملے نے نہ صرف عالمی سفارتکاری بلکہ آن لائن بیانیے کی نوعیت پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔