Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممبئی: بی جے پی لیڈر سے تکرار کرنے والی خاتون کے خلاف شکایت درج

Updated: April 24, 2026, 10:17 PM IST | Mumbai

ممبئی میں بی جے پی کے احتجاج کے دوران گریش مہاجن سے تکر ار کرنے والی خاتون کے خلاف ورلی پولیس تھانے میں شکایت درج کرائی گئی ہے، تاہم پولیس کا کہنا ہےکہ خاتون کے خلاف کوئی ایف آئی آر نہیں درج کی گئی ہے۔

A woman stuck in a traffic jam argues with the police. Photo: X
ٹرافک جام میں پھنسی خاتون پولیس سے تکرار کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس

ممبئی پولیس نے جمعہ کو بتایا کہ ایک خاتون کے خلاف شکایت درج کی گئی ہے، جس نے منگل کو احتجاجی مارچ کے دوران سڑک بلاک کرنے پر بی جے پی لیڈر گریش مہاجن اور پولیس اہلکاروںسے تکرار  کی تھی۔ یہ شکایت بدھ کو ورلی پولیس اسٹیشن میں ایک شخص نے درج کروائی۔تاہم پولیس نے جمعہ کو کہا کہ عورت کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ریاست کی حکمران مہایوتی اتحاد کے احتجاج کی وجہ سے ورلی علاقے میں ٹریفک جام ہو گیا تھا ۔ دراصل اس سے قبل یہ احتجاج جمبوری میدان میں ہونا تھا۔اطلاعات کے مطابق عورت اپنی گاڑی سے اتری اور اسے ریاستی وزیر مہاجن اور پولیس اہلکاروں سے کہتے ہوئے سنا گیا کہ وہ سڑک بلاک نہ کریں اور احتجاج کسی میدان میں کریں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’اس خاتون کو سلام، جو ملک کی ہر بے بس ماں کی آواز بنی‘‘

بعد ازاں عورت، جس کی شناخت واضح نہیں ہے، نے کہا کہ وہ ٹریفک میں پھنس گئی تھی اور اسے اپنے بچے کو لینے جانا تھا۔ اس نے پولیس افسر کو بتایا کہ وہ ایک گھنٹے سے زیادہ وقت سے ٹریفک کھلنے کا انتظار کر رہی تھی۔تاہم جب مہاجن نے اسے پرسکون رہنے کو کہا تو عورت نے ان سے کہا کہ’’یہاں سے نکل جائیں۔آپ کو کیا ہو گیا ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔ ’’یہاں سینکڑوں لوگ انتظار کر رہے ہیں۔ وہاں ایک خالی میدان پڑا ہے۔‘‘اس کے بعد اس نے پولیس سے ٹریفک کلیئر کرنے کو کہا۔
واضح رہے کہ اگست میں مہاراشٹر حکومت نے جنوبی ممبئی میں آزاد میدان کو  تمام احتجاج کے لیے واحد مقام قرار دیا تھا۔سوشل میڈیا صارفین نے اس عورت کی تعریف کی تھی۔بدھ کو مہاجن نے کہا کہ عورت غلط نہیں تھی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس طرح کا احتجاجی مارچ، چاہے منتظم کوئی بھی ہو، ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا ضروری ہے، کسی بھی احتجاج میں کچھ نہ کچھ تکلیف ناگزیر ہے۔‘‘  جس کا مطلب ہے کہ سڑک کا بند ہونا لازمی ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’پھر بھی، غصے کا اظہار کرنے کا ایک مناسب طریقہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ استعمال کی گئی زبان نامناسب تھی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: مراٹھی زبان کے تنازع پر ایڈوکیٹ سداورتے اور ایم این ایس کارکنان میں تصادم

شکایت کنندہ نے دعویٰ کیا کہ عورت نے ہنگامہ کھڑا کیا، پولیس اہلکاروں کے خلاف گالیاں بکیں، احتجاجی مارچ میں رکاوٹ ڈالی اور عوام میں خلل پیدا کیا۔شکایت کنندہ نے مطالبہ کیا ہے کہ عورت کے خلاف بھارتیہ نیا سنہتا کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی جائے جن کا تعلق ڈیوٹی پر موجود سرکاری ملازمین  کے کام میں رکاوٹ ڈالنے، حملہ یا مجرمانہ قوت کے ذریعے سرکاری ملازم کو فرائض سے روکنے، جان بوجھ کر توہین، سرکاری ملازم پر حملہ یا رکاوٹ، اور عوام میں فساد پیدا کرنے والے بیانات سے ہے۔بدھ کو ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے، جو بی جے پی سے تعلق رکھتی ہیں، نے ریلی کے دوران مسافروں کو ہونے والی تکلیف پر افسوس کا اظہار کیا۔
واضح رہے کہ بی جے پی منگل کو اپوزیشن کے خلاف احتجاج کر رہی تھی کہ اس نے۱۷؍ اپریل کو پارلیمان میں آئینی ترمیمی بل کو منظور نہیں ہونے دیا۔جبکہ حکمران جماعت نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن خواتین کے مفادات کے خلاف ہے کیونکہ اس نے اس بل کی مخالفت کی جسے بی جے پی خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کا بل قرار دیتی ہے۔اپوزیشن جماعتوں نے موقف اپنایا کہ وہ خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کے قانون میں ترامیم کی حمایت کرتی ہیں، لیکن وہ انتخابی حلقوں کی مجوزہ حد بندی کے خلاف ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK