Updated: October 01, 2026, 8:04 PM IST
| New Delhi
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتِ حال کے باوجود ہندوستانی معیشت نے مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کا آغاز مضبوط بنیاد کے ساتھ کیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جمعرات کو جاری کی گئی ستمبر کی ماہانہ اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق، مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں نظر آنے والی اقتصادی ترقی کی رفتار دوسری سہ ماہی میں بھی برقرار رہنے کی توقع ہے۔
معاشی ترقی۔ تصویر:آئی این این
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتِ حال کے باوجود ہندوستانی معیشت نے مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کا آغاز مضبوط بنیاد کے ساتھ کیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جمعرات کو جاری کی گئی ستمبر کی ماہانہ اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق، مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں نظر آنے والی اقتصادی ترقی کی رفتار دوسری سہ ماہی میں بھی برقرار رہنے کی توقع ہے، اگرچہ اس کی رفتار میں کچھ اعتدال آنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایشین گیمز کرکٹ کے طلائی تمغے کے لیے ہندوستان اور پاکستان میں ٹکر
رپورٹ میں اقتصادی سروے میں پیش کیے گئے ناؤکاسٹنگ ماڈل کی بنیاد پر اندازہ لگایا گیا ہے کہ مالی سال ۲۰۲۶-۲۷ ءکی دوسری سہ ماہی میں ہندوستان کی حقیقی جی ڈی پی گروتھ ریٹ تقریباً ۷ء۳ فیصد رہ سکتی ہے۔ یہ اندازہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی معیشت کو جغرافیائی سیاسی کشیدگی، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور بین الاقوامی تجارتی راستوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔وزارتِ خزانہ کے مطابق مغربی ایشیا میں جاری تنازع نے عالمی توانائی بازار اور تجارتی راستوں کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کی متعدد معیشتوں پر دباؤ بڑھا ہے۔ اس کے باوجود ہندوستان نے مضبوط اقتصادی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کی پہلی سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی میں ۷ء۸ فیصد کی نمو درج کی۔ وزارت کے مطابق موجودہ سیریز میں کسی بھی مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے لحاظ سے یہ سب سے بلند شرح نمو ہے۔
اقتصادی جائزے میں کہا گیا ہے کہ پہلی سہ ماہی کی اقتصادی ترقی وسیع بنیاد پر رہی۔ مینوفیکچرنگ، تعمیرات اور خدمات کے شعبوں میں مضبوط کارکردگی نے مجموعی اقتصادی سرگرمیوں کو سہارا دیا۔ اس کے ساتھ گھریلو طلب بھی معیشت کے لیے اہم سہارا بنی رہی، جبکہ سرمایہ کاری اقتصادی ترقی کی ایک بڑی بنیاد کے طور پر سامنے آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی سرمایہ کاری کے ریٹ موجودہ اقتصادی سیریز میں اپنی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے، جو معیشت میں سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے کردار کی نشاندہی کرتی ہے۔وزارتِ خزانہ نے کہا کہ توانائی کی مسلسل فراہمی اور اہم خام مال کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے بروقت اٹھائے گئے اقدامات نے ہندوستانی معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ عالمی توانائی قیمتوں میں اضافے کا محدود اثر گھریلو ایندھن کی قیمتوں پر پڑنے سے بھی اقتصادی سرگرمیوں پر نمایاں منفی اثر نہیں پڑا۔
یہ بھی پڑھئے:ایشین گیمز:ابھیشیک کے گول سے ہندوستان نے ہاکی کے فائنل میں جگہ بنائی
اگرچہ مجموعی اقتصادی منظرنامہ مضبوط بنا ہوا ہے، لیکن کچھ ہائی فریکوینسی اکنامی انڈیکیٹرس میں ترقی کی رفتار گزشتہ مدت کے مقابلے میں قدرے کم ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ای وے بل اور مینوفیکچرنگ پی ایم آئی کی شرح نمو میں کچھ نرمی دیکھی گئی۔ اس کے برعکس اگست میں خدمات کے شعبے کی سرگرمیوں میں مضبوطی دیکھی گئی، جسے نئے کاروبار اور روزگار کے مواقع میں اضافے سے مدد ملی۔ بجلی اور ایندھن کی کھپت بھی مسلسل صحت مند شرح سے بڑھ رہی ہے، جبکہ بینکوں کی جانب سے قرض کی تقسیم بھی مضبوط بنی ہوئی ہے۔ وزارت کے مطابق یہ تمام عوامل اقتصادی سرگرمیوں میں پائیداری کے اشارے فراہم کرتے ہیں۔
صنعتی شعبے نے بھی مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ حقیقی انڈسٹریل گروس ویلیو ایڈیڈ میں ۷ء۷ فیصد اضافہ ہوا، جس میں مینوفیکچرنگ شعبے نے سب سے اہم کردار ادا کیا۔ مینوفیکچرنگ میں ۹ء۲ فیصد کی ترقی ریکارڈ کی گئی۔