• Thu, 01 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سی بی آئی کی دوسری چارج شیٹ، انیل امبانی گروپ کے تین اعلیٰ افسران نامزد

Updated: October 01, 2026, 9:07 PM IST | New Delhi

مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی ) نے رِیلائنس ہوم فنانس لمیٹڈ (آر ایچ ایف ایل) سے متعلق معاملے میں جمعرات کو ممبئی کی خصوصی سی بی آئی عدالت میں دوسری چارج شیٹ داخل کر دی۔ اس چارج شیٹ میں مجموعی طور پر ۱۱؍ ملزمین کو نامزد کیا گیا ہے۔

Anil Ambani.Photo:INN
انیل امبانی۔ تصویر:آئی این این

 مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی ) نے رِیلائنس ہوم فنانس لمیٹڈ (آر ایچ ایف ایل) سے متعلق معاملے میں جمعرات کو ممبئی کی خصوصی سی بی آئی عدالت میں دوسری چارج شیٹ داخل کر دی۔ اس چارج شیٹ میں مجموعی طور پر  ۱۱؍ ملزمین کو نامزد کیا گیا ہے، جن میں انیل امبانی کی قیادت والے رِیلائنس اے ڈی اے گروپ کے تین اعلیٰ عہدیدار بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:نتیش سیواچ نے۶۴؍ سال کا انتظار ختم کیا، گریکو رومن کشتی کا چاندی کا تمغہ جیتا

سی بی آئی کے مطابق نامزد افراد میں  رِیلائنس ہوم فنانس کے ڈائریکٹر اور چیف فنانشل آفیسر  امیت باپنا ،  رِیلائنس کیپٹل گروپ کے منیجنگ ڈائریکٹر اور وائس چیئرمین امیتابھ جھن جھن والا  اور رِیلائنس پاور کے چیف فنانشل آفیسر سریش ناگراجن  شامل ہیں۔ چارج شیٹ میں سات کمپنیوں کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں  رِیلائنس انفرااسٹرکچر لمیٹڈ، رِیلائنس پاور لمیٹڈ، رِیلائنس بگ انٹرٹینمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ، رِیلائنس براڈکاسٹ نیٹ ورک لمیٹڈ، رِیلائنس بزنس براڈکاسٹ نیوز ہولڈنگز لمیٹڈ، رِیلائنس میڈیا ورکس فنانشل سروسیز پرائیویٹ لمیٹڈ  اور  کنجبہاری ڈیولپرز پرائیویٹ لمیٹڈ  شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آر ایچ ایف ایل   کے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور قانونی آڈیٹر  وجے نپاولیا  کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔
سی بی آئی نے ان تمام افراد اور اداروں کے خلاف  تعزیراتِ ہند   کے تحت مجرمانہ سازش اور دھوکہ دہی سے متعلق دفعات کے تحت الزامات عائد کیے ہیں۔ یہ الزامات تفتیشی ایجنسی کی جانب سے چارج شیٹ میں پیش کیے گئے ہیں اور معاملہ عدالت کے زیرِ غور ہے۔ سی بی آئی کے مطابق اب تک کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ  رِیلائنس ہوم فنانس لمیٹڈ کی جانب سے لیے گئے تقریباً ۷۴۲۹ء۱۶ ؍کروڑ روپے  مبینہ طور پر مختلف درمیانی اور فرنٹ کمپنیوں کے ذریعے رِیلائنس اے ڈی اے گروپ سے وابستہ دیگر کمپنیوں تک منتقل کیے گئے۔

یہ بھی پڑھئے:عالیہ بھٹ ارتھ شاٹ پرائز ۲۰۲۶ء کی ممبئی تقریب میں شرکت کریں گی

تفتیشی ایجنسی کا الزام ہے کہ یہ رقوم قرض دینے والے اداروں کی جانب سے مقرر کردہ شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے منتقل کی گئیں۔ سی بی آئی کے مطابق اس عمل سے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو نقصان پہنچا، جبکہ متعلقہ اداروں اور ملزمین  کو مبینہ طور پر غیر مناسب فائدہ حاصل ہوا۔  سی بی آئی نے یہ معاملہ  یونین بینک آف انڈیا (سابقہ آندھرا بینک) اور دیگر سرکاری بینکوں کے ایک گروپ کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر درج کیا تھا۔ اس معاملے میں تفتیشی ایجنسی نے اس سے قبل  ۹ ؍جولائی کو پہلی چارج شیٹ داخل کی تھی، جس میں چار ملزمین  کو نامزد کیا گیا تھا۔ دوسری چارج شیٹ داخل کیے جانے کے بعد اب تک اس معاملے میں مجموعی طور پر  ۱۵؍ ملزمین کے خلاف چارج شیٹ داخل کی جا چکی ہے۔ سی بی آئی نے کہا ہے کہ دیگر ممکنہ ملزمان کے کردار اور مزید الزامات سے متعلق تحقیقات ابھی جاری ہیں، اس لیے مستقبل میں تفتیش کی بنیاد پر مزید کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
 سی بی آئی کی بینکنگ سیکیورٹیز فراڈ برانچ نے رِیلائنس گروپ سے وابستہ کئی کمپنیوں کے خلاف مجموعی طور پر  نو ایف آئی آر  درج کی ہیں۔ ان میں  رِیلائنس کمیونیکیشنز  ، رِیلائنس ہوم فنانس  ، رِیلائنس کمرشیل فنانس  ، رِیلائنس ٹیلی کام  اور رِیلائنس کیپٹل   شامل ہیں۔ یہ مقدمات مختلف سرکاری بینکوں،  لائف انشورنس کارپوریشن   اور  ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن   کی جانب سے درج کرائی گئی شکایات کی بنیاد پر قائم کیے گئے ہیں۔ سی بی آئی کے مطابق رِیلائنس اے ڈی اے گروپ سے متعلق معاملات میں اب تک  چھ چارج شیٹس  پہلے ہی داخل کی جا چکی ہیں جبکہ موجودہ چارج شیٹ اس سلسلے کی  ساتویں چارج شیٹ  ہے۔ تفتیشی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان معاملات میں اب تک  سات افراد کو گرفتار  بھی کیا جا چکا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK