Updated: October 01, 2026, 9:06 PM IST
| Doda
جموں کشمیر کے ڈوڈہ میں گورنمنٹ میڈیکل کالج کی طالبات نے کلینیکل ٹریننگ کے دوران ایک خاتون ڈاکٹر کی جانب سے برقع اتارنے کیلئے کہے جانے کے الزام پر احتجاج کیا۔ کالج انتظامیہ نے شکایت کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کیلئے ۸ رکنی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے اسے ۲؍ دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔
جموں کشمیر کے علاقے ڈوڈہ میں واقع گورنمنٹ میڈیکل کالج کی طالبات سے ٹریننگ کے دوران خاتون ڈاکٹر نے برقع اتارنے کوکہا۔ اس واقعے کے بعد کالج میں طالبات کا احتجاج شروع ہوگیا، طالبات نے اس عمل کو مذہبی آزادی پر حملہ قرار دیا۔حالانکہ اس معاملے کی غیر جانبدار جانچ کیلئے کالج انتظامیہ نے آٹھ رکنی کیمٹی تشکیل دی ہےاور دو دن کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) ڈوڈہ نے طالبات کے ان الزامات کے بعد ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گائناکالوجی شعبے میں کلینیکل ٹریننگ کے دوران ایک خاتون ڈاکٹر نے طالبہ سے اپنا برقع اتارنے کو کہا تھا۔ یہ پیش رفت بدھ کو جی این ایم نرسنگ کی طالبات کی جانب سے میڈیکل کالج میں کئے گئے احتجاج کے بعد سامنے آئی، جس میں اس مبینہ واقعے کی تحقیقات اور الزامات سچ ثابت ہونے پر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
احتجاج کے دوران طالبات نے نعرے بازی کی اور مذہبی لباس پہننے والی طالبات کے ساتھ منصفانہ رویہ اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔مظاہرے کے دوران ایک طالبہ نے کہا، ’’انہیں ہمارے برقعے سے کیا مسئلہ ہے؟ یہ ہماری شناخت اور ہمارا فخر ہے۔‘‘ کالج انتظامیہ کو دی گئی تحریری شکایت کے مطابق، طالبات نے الزام لگایا کہ گائناکالوجی شعبے کی ایچ او ڈی ڈاکٹر مدھو چب نے برقعہ پہننے والی طالبات کو لیبر روم میں داخل ہونے سے روک دیا۔ طالبات کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ اب روزمرہ کا معمول بن چکا تھا اور انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان سے ان کا لباس بدلنے کیلئے کیوں کہا جا رہا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ڈاکٹر چاہتی تھیں کہ طالبات برقعے کی جگہ صرف ایپرن پہنیں۔ طالبات نے اس رویے کو ہراسانی قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ کالج انتظامیہ حقائق کا پتہ لگائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ تمام طالبات کے ساتھ عزت اور احترام کا سلوک کیا جائے۔فی الحال ان الزامات کی تصدیق نہیں ہوئی ہےاور انکوائری کمیٹی اس شکایت سے جڑے تمام واقعات کا جائزہ لے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ضمانت یا مجرمانہ مقدمات کی سماعت میں جج اپنے ذاتی اخلاقی نظریات مسلط نہ کریں: سپریم کورٹ
تحریری شکایت ملنے کے بعد جی ایم سی ڈوڈہ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا۔اس آٹھ رکنی کمیٹی کی سربراہی فزیالوجی شعبے کی ایچ او ڈی ڈاکٹر گریما چرک بطور چیئرپرسن کریں گی۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے کمیٹی کو ’’آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات‘‘کرنے اور دو دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔حکم نامے میں کہا گیا ہے، ’’کمیٹی کو تفصیلی تحقیقات کرنی چاہئیں اور دو دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔‘‘ جی ایم سی ڈوڈہ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ طالبات کی طرف سے تحریری شکایت موصول ہونے کے بعد یہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لے گی اور اس کی رپورٹ مجاز حکام کے سامنے پیش کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’سرکاری ملازمین کی تقرری کیلئے ہونیوالے امتحانات کے طریق کار میں تبدیلی کی ضرورت ہے‘‘
احتجاج کرنے والی طالبات نے کالج اور اسپتال انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ ان الزامات کا نوٹس لیں اور غیر جانبدارانہ انکوائری کروائیں۔ انہوں نے ایسے اقدامات کا بھی مطالبہ کیا جس سے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ٹریننگ کے دوران کسی بھی طالبہ کو تعصب یا ہراسانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔توقع ہے کہ یہ انکوائری اس واقعے کے تمام پہلوؤں کو سامنے لائے گی اور یہ طے کرے گی کہ الزامات میں کتنی سچائی ہے۔ واضح رہے کہ فی الحال جی ایم سی ڈوڈہ کا کوئی مستقل پرنسپل نہیں ہے، کیونکہ حکومت کی جانب سے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کی درخواست پر جواب دینے میں تاخیر کے بعد ڈاکٹر دیو راج ڈوگرا اپنے عہدے سے رخصت ہو چکے ہیں۔