• Sun, 15 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز ایران کی جانب بھیج رہا ہے

Updated: February 15, 2026, 10:57 AM IST | Washington

اس میں ہزاروں فوجی، جدید ترین جنگجو طیارے، گائیڈیڈ میزائل شکن بحری بیڑہ اوردفاع کے ساتھ حملے کی بھرپور صلاحیت کے جنگی سازوسامان شامل۔

The second US ship is quite large. Photo: INN
امریکہ کا دوسرا بحری جہاز کافی بڑا ہے۔ تصویر: آئی این این

ایک طرف جنیوا میں مذاکرات کی تیاریاں جاری ہیں، تو دوسری طرف امریکی فوج ایران کے خلاف ایک ایسی فوجی کارروائی کیلئے کمر بستہ ہو رہی ہے جو محض ایک دن کے بجائے کئی ہفتوں پر محیط ہو سکتی ہے۔ واشنگٹن کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ تصادم ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اطلاع کے مطابق، پنٹاگن مشرق وسطیٰ میں ایک اضافی طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کمک میں ہزاروں اضافی فوجی، جدید ترین جنگجو طیارے، گائیڈیڈ میزائل شکن بحری جہاز اور دفاع اور حملے کی بھرپور صلاحیت رکھنے والا جنگی ساز و سامان شامل ہو گا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس بار منصوبہ بندی انتہائی پیچیدہ ہے۔ اگر صدر ڈونالڈ ٹرمپ حکم دیتے ہیں تو امریکی فوج صرف ایران کے جوہری ڈھانچے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ حکومتی اور سیکوریٹی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال جون میں امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر’’مڈ نائٹ ہیمر‘‘ کے نام سے ایک آپریشن کیا تھا، جو صرف ایک رات جاری رہا۔ اس کے جواب میں ایران نے قطر میں ایک امریکی اڈے پر محدود جوابی کارروائی کی تھی۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اس بار خطرہ بہت بڑا ہے کیونکہ ایران کے پاس میزائلوں کا وسیع ذخیرہ موجود ہے، جو پورے خطے میں بد امنی اور وسیع تر جنگ کا سبب بن سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: سوئزرلینڈ میں آبادی کی حد پر ریفرنڈم، ۱۴؍ جون کو عوامی ووٹ

وہائٹ ہاؤس کی ترجمان آنا کیلی نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سامنے ’’تمام متبادل میز پر موجود ہیں۔ ‘‘شمالی کیرولائنا میں امریکی افواج سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے متنبہ کیا ’’بعض اوقات (دشمن کو) خوف محسوس کروانا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ یہی وہ واحد راستہ ہے جو مسئلے کو حقیقت میں حل کرے گا۔ ‘‘دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایرانی سرزمین پر حملہ ہوا تو وہ خطے میں موجود کسی بھی امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ سفارتی محاذ پرایران نے اشارہ دیا ہے کہ وہ پابندیوں کے خاتمے کے بدلے جوہری پروگرام پر پابندیوں پر بات چیت کیلئے تیار ہے، لیکن تہران نے میزائل پروگرام پر کسی بھی سمجھوتے کو مسترد کر دیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK