وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بحرِ ہند کو سیشلز اور ہندوستان کے تعلقات کا ستون بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان ایسے بحرِ ہند کا تصور کرتا ہے، جہاں سمندری سیکوریٹی کے ساتھ اقتصادی خوشحالی بھی بڑھے۔
EPAPER
Updated: June 28, 2026, 9:59 PM IST | New Delhi
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بحرِ ہند کو سیشلز اور ہندوستان کے تعلقات کا ستون بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان ایسے بحرِ ہند کا تصور کرتا ہے، جہاں سمندری سیکوریٹی کے ساتھ اقتصادی خوشحالی بھی بڑھے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بحرِ ہند کو سیشلز اور ہندوستان کے تعلقات کا ستون بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان ایسے بحرِ ہند کا تصور کرتا ہے، جہاں سمندری سیکوریٹی کے ساتھ اقتصادی خوشحالی بھی بڑھے؛ جہاں ہماری شراکت داری حجم نہیں، باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی ہو اور جہاں ہم ہر ملک کے پاس پاس نہیں ہر ملک کے ساتھ ساتھ چلیں۔
سیشلز کے دورے پر جانےو الے مودی نے اتوار کو صدر پیٹرک ہرمینی کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کے بعد مشترکہ بیان میں کہا کہ ہمارا تصور بحرِ ہند کو مواقع کا سمندر بنانا ہے۔ اس دوران یو پی آئی کو سیشلز میں نافذ کرنے اور جن اوشدھی جیسے صحت سے متعلق شعبوں میں تعاون کے مفاہمت ناموں پر بھی دستخط کیے گئے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ ان کا دورہ ایسے تاریخی موقع پر ہو رہا ہے، جب سیشلز اپنی آزادی کے پچاس سال مکمل کر رہا ہے اور ہم ہند-سیشلز سفارتی تعلقات کی بھی پچاسویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’’ان پچاس برسوں کے سفر میں ہم نے دوستی کو اعتماد میں، اعتماد کو تعاون میں اور تعاون کو عوامی بہبود میں بدلا ہے۔ بحرِ ہند نے صدیوں سے ہندوستان اور سیشلز کے تعلقات کو سینچا ہے۔ اس کی لہروں نے ہمارے درمیان تجارت، ثقافت اور انسانی تعلقات کو مسلسل پروان چڑھایا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:سال کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی ہندی فلمیں اور ۵؍ بہترین فلموں کی رپورٹ
مودی نے بحرِ ہند کو مشترکہ ورثہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارا ایمان ہے کہ بحرِ ہند ہمارا مشترکہ گھر ہے؛ اس کی سیکوریٹی، پائیداری اور خوشحالی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یہی جذبہ ہمارے سمندری وژن کی بنیاد ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ’’میرے سیشلز کے دورے کا پیغام واضح ہے، ہندوستان ایسے بحرِ ہند کا تصور کرتا ہے، جہاں سمندری حفاظت کے ساتھ اقتصادی خوشحالی بھی بڑھے؛ جہاں ہماری شراکت داری حجم نہیں، باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی ہو اور جہاں ہم ہر ملک کے پاس پاس نہیں، ساتھ ساتھ چلیں۔ میرے سیشلز کے دورے کا پیغام واضح ہے: ہندوستان ایسے بحرِ ہند کا تصور کرتا ہے، جہاں سمندری سیکوریٹی کے ساتھ اقتصادی خوشحالی میں بھی اضافہ ہو؛ جہاں ہماری شراکت داری حجم پر نہیں، باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی ہو اور جہاں ہم ہر ملک کے پاس پاس نہیں، ساتھ ساتھ چلیں۔ ہمارا تصور بحرِ ہند کو مواقع کا سمندر بنانا ہے۔‘‘
وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہمارے تعلقات کے گزشتہ پچاس سال گہرے اعتماد اور مشترکہ ترقی کے رہے ہیں اور آنے والے پچاس سال اختراع، پائیداری اور مشترکہ خوشحالی کے ہوں گے۔ مودی نے کہا کہ اس سال فروری میں صدر ہرمینی کے دورۂ ہندوستان کے دوران جاری کیے گئے مشترکہ وژن سے مستقبل کی شراکت داری کا بلیو پرنٹ تیار ہوا ہے۔ اس پر آگے بڑھتے ہوئے ہر شعبے میں ہمارا تعاون مضبوط ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:میسی نے عالمی کپ میں متبادل کھلاڑی کے طور پر میدان میں اتر کر پہلا گول داغ دیا
انہوں نے کہا کہ ’’آج ہم نے اپنے اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط اور مستقبل کے لیے تیار کرنے پر بات چیت کی۔ ہم دونوں ممالک کی صنعتوں کے لیے نئے مواقع کی تلاش جاری رکھیں گے۔ ہندوستان اور سیشلز کے درمیان کنیکٹیویٹی بڑھانے پر بھی کام کیا جائے گا۔ اس سے ہماری تجارت تو بڑھے گی ہی، ساتھ ہی ساتھ مشرقی افریقہ اور بحرِ ہند کے خطے کے ساتھ تعلقات کو بھی طاقت ملے گی۔‘‘ دونوں ممالک کے درمیان ہندوستان کے ادائیگی کے نظام (پیمنٹ سسٹم) کے بارے میں ہوئے مفاہمت نامے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’’ہمارا یقین ہے کہ ڈجیٹل ٹیکنالوجی دونوں ممالک کے درمیان کی دوری کو کم کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ ہم ڈجیٹل پبلک انفراسٹرکچر میں ہندوستان کے کامیاب تجربے کو سیشلز کے ساتھ شیئر کریں گے اور مجھے خوشی ہے کہ آج یو پی آئی کو سیشلز میں نافذ کرنے کے لیے مفاہمت نامے پر دستخط کیے جا رہے ہیں۔