Inquilab Logo Happiest Places to Work

بی جے پی نے رام مندر کو ’’ دکان‘‘ بنا دیا ہے: ادھو ٹھاکرے

Updated: June 28, 2026, 9:58 PM IST | Mumbai

شیو سینا کے سربراہ نے ایک بیان میں کہا کہ بی جے پی نے رام مندر کو ’’ دکان‘‘ میں تبدیل کردیا ہے، ساتھ ہی انہوں نے بی جے پی پر ہندوتوا کے نظریے سے دھوکہ کرنے کا الزام عائد کیا۔

Uddhav Thackeray. Photo: INN
ادھو ٹھاکرے۔ تصویر: آئی این این

شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ اُدھو ٹھاکرے نے اتوار کو بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایودھیا میں رام مندر کو ’’تجارتی مرکز بنا دیا‘‘ اور’’ ہندوتوا کے نظریے‘‘ سے دھوکہ کیا۔ واضح رہے کہ ان کے یہ تبصرے اتر پردیش میں مقدس مقام پر عطیات کی غبن کی الزامات کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔ بعد ازاں مہاراشٹر میں بی جے پی کی قیادت والی حکمران اتحاد پر اپنے حملے کو تیز کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ’’غداروں کی جڑوں پر حملہ کیا جائے‘‘، یہ بظاہر ان باغی شیو سینا (یوبی ٹی) لوک سبھا اراکینِ پارلیمنٹ کی طرف اشارہ تھا جو حکمران شیو سینا میں شامل ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: تلنگانہ: اردو کلاس پر پرنسپل کے ساتھ زیادتی، بی جے پی ورکراور ٹیچر کے خلاف مقدمہ

مرکزی مہاراشٹر کے ضلع پربھنی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ، جو بی جے پی کے سابق اتحادی اور اب تنقید کار ہیں، نے کہا کہ رام مندر ‘‘ہندوؤں کے لیے تحریک کا ذریعہ ہے مگر انھوں نے اس کی تجارت کاری پر سوال اٹھایا۔ یاد رہے کہ ٹھاکرے اور ان کی پارٹی کے دیگر سینئر لیڈر،ان۶؍ باغی شیو سینا (یوبی ٹی) اراکینِ پارلیمنٹ کے لوک سبھا حلقوں کا دورہ کر رہے ہیں جو۲۲؍ جون کو ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا میں شامل ہو گئے تھے۔ پربھنی سے لوک سبھا رکن سنتوش جادھو ان میں شامل تھے جنھوں نے نائب وزیر اعلیٰ شندے کی جماعت میں شمولیت اختیار کی، جو ٹھاکرے کے حریف ہیں۔مزید برآں ٹھاکرے نے الزام لگایا، ’’رام مندر ہندوؤں کے لیے تحریک کا ذریعہ ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ انھوں نے مندر کو دکان میں کیوںتبدیل کردیا؟ یہ مندر ایک طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ پہلے بی جے پی نے نعرہ دیا تھا ’’مندر وہی بنائیں گے۔‘‘ اب ہم جانتے ہیں کہ وہ یہ مندر کیوں بنوانا چاہتے تھے۔ انھوں نے ہندوتوا کے نظریے سے دھوکہ کیا ہے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: ٹی ای ٹی امتحان کی منسوخی سے ریاست بھر کے لاکھوں اُمیدوار پریشان

دراصل ایودھیا میں رام مندر کے عطیات میں مبینہ غبن کا تنازع۷؍ جون کو سامنے آیا۔ شری رام جنم بھومی تیرتھ کھیتر ٹرسٹ کی درخواست پر اتر پردیش حکومت نے۱۳؍ جون کو ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی۔ ایس آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ کی بنیاد پر۲۵؍ جون کو ایف آئی آر درج کی گئی اور پولیس نے اب تک اس سلسلے میں ۸؍ افراد کو گرفتار کیا ہے۔حکمران مہایُتی اتحاد کو نشانہ بناتے ہوئے ٹھاکرے نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ‘‘غداروں کی جڑوں پر حملہ کیا جائے’’ ساتھ ہی انھوں نے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ مستقبل کے انتخابات میں شندے کی قیادت والی شیو سینا کے امیدواروں کو شکست دیں۔ جن لوگوں نے پارٹی بدلی، انھوں نے اپنے ذاتی فائدے کے لیے ایسا کیا۔‘‘علاوہ ازیں شیو سینا (یوبیٹی) کے اندرونی اختلافات کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے ٹھاکرے نے زور دیا کہ گروپ بندی ہر سیاسی پارٹی میں ہوتی ہے، مگر انھوں نے اسے اپنی تنظیم میں کوئی مسئلہ قرار دینے سے انکار کیا۔انھوں نے کہا، ’’میں یقین نہیں رکھتا کہ ہماری پارٹی میں اندرونی گروپ بندی ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا،’’ آپریشن ٹائیگر’ دراصل آپریشن دیویندر‘‘ہو سکتا ہے۔ یہ ایک اندرونی مشق ہو سکتی ہے تاکہ (وزیر اعلیٰ) دیویندر فرنویس کو دہلی جانے سے روکا جائے اور اس کی بجائے انھیں مہاراشٹر میں ہی روکا جائے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’’ آر ایس ایس کی تعریف کرنی ہو تو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں‘‘

حکمران جماعتوں پر تقسیم پھیلانے والی سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ٹھاکرے نے دعویٰ کیا کہ وہ جان بوجھ کر طبقوں کے درمیان پھوٹ ڈالتے ہیں تاکہ اقتدار برقرار رکھ سکیں۔انھوں نے کہا، ’’حکمران جماعتوں کی حکمت عملی ہے کہ لوگوں کو آپس میں لڑاتے رہیں۔ وہ برادریوں کے درمیان پھوٹ ڈالتے ہیں اور اقتدار کا لطف اٹھاتے ہیں۔ یہی ان کی حکمرانی کا راز ہے۔ افراتفری ہے اور کوئی اس کی طرف توجہ نہیں دے رہا۔‘‘مبینہ ٹیچر ایلیجیبلٹی ٹیسٹ (ٹی ای ٹی) پیپر لیک معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ ‘‘شرمناک‘‘ہے کہ مہاراشٹر اس کا مرکز بنا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK