بی جے پی اور اس کے لیڈروں کے خلاف پوسٹ کے الزام میں ممبئی ہوائی اڈے پر ہند نژاد ڈاکٹر کو حراست میں لے لیا گیا، جسے بعد میں بھارتیہ نیائے سنہیتا کے تحت نوٹس دینے کے بعد تحقیق میں شامل ہونے کی حامی کے بعد چھوڑ دیا گیا۔
EPAPER
Updated: January 11, 2026, 6:11 PM IST | Mumbai
بی جے پی اور اس کے لیڈروں کے خلاف پوسٹ کے الزام میں ممبئی ہوائی اڈے پر ہند نژاد ڈاکٹر کو حراست میں لے لیا گیا، جسے بعد میں بھارتیہ نیائے سنہیتا کے تحت نوٹس دینے کے بعد تحقیق میں شامل ہونے کی حامی کے بعد چھوڑ دیا گیا۔
دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ہند نژاد لندن کے رہائشی ڈاکٹر سنگرم پاٹل کوسنیچر کے دن ممبئی ہوائی اڈے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کے لیڈروںکے خلاف توہین آمیز سوشل میڈیا پوسٹس کے سلسلے میں روک لیا گیا۔پاٹل، جو ایک مواد تخلیق کار (کونٹینٹ کریٹر) بھی ہیں، کو بعد میں بھارتیہ نیایا سنہیتا کے تحت نوٹس دینے کے بعد تحقیقات میں شامل ہونے کی تصدیق کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ بی جے پی رکن کی طرف سے کی گئی شکایت کے مطابق ڈاکٹر نے جان بوجھ کر ہندوتوا پارٹی اور اس کے لیڈروں کے خلاف توہین آمیز اور گمراہ کن پوسٹس کی تھیں۔ جن کے بارےمدعی نے الزام لگایا کہ وہ مختلف گرہوں کے درمیان دشمنی اور نفرت کے جذبات پیدا کر سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بدلاپور جنسی زیادتی کے ملزم کوبی جے پی نےکونسلر بنا دیا
دریں اثناء، ممبئی ٹاک کے مطابق پاٹل کے خلاف سائبر کرائم ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت کیس درج کیا گیا تھا۔ اس کے بعد، ان کے خلاف لک آؤٹ نوٹس جاری کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ لک آؤٹ سرکیولر کو قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کی جانچ کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ آیا ملک میں داخل ہونے یا چھوڑنے والا شخص پولیس کی طرف سے مطلوب ہے۔پاٹل کے یوٹیوب چینل کے چار لاکھ سے زیادہ سبسکرائبر اور ۵؍ کروڑ ۶۰؍ لاکھ کروڑ ویوز ہیں، اور ان کے فیس بک پیج کے ایک لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔ ویڈیو پلیٹ فارم اور سوشل میڈیا پر ان کی پوسٹس کئی موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں، بشمول سیاسی تبصرے۔ کچھ پوسٹ میں نریندر مودی حکومت کی تنقید بھی تھی ۔
بعد ازاں پاٹل کی حراست کی مذمت کرتے ہوئے، کانگریس کے مہاراشٹر سربراہ ہرش وردھن سپکال نے پوچھا کہ کیا ہندوستان میں جمہوریت اب بھی زندہ ہے؟پاٹل کی حراست کی مذمت کافی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا،’’ ڈاکٹر سنگرم پاٹل کی گرفتاری، جو جرات مندانہ سیاسی موقف اختیار کرتے ہیں، ملک کے لیے ایک بین الاقوامی شرمندگی ہے۔کانگریس لیڈر نے مطالبہ کیا کہ ممبئی پولیس اور وزارت داخلہ فوری وضاحت کریں کہ پاٹل کو کیوں روکا گیا تھا۔‘‘ـ