کرکٹ مداحوں نے سوال اٹھایا کہ جس خراب فارم کی بنیاد پر شبھ من گل کو ڈراپ کیا گیا ہے اسی بنیاد پر کپتان سوریہ کمار یادو کو بھی ہٹایا جانا چاہئے
ٹیم انڈیا کے ونڈے اور ٹیسٹ کپتان شبھ من گل۔ تصویر: آئی این این
آئندہ سال ہونے والے ٹی ٹوینٹی عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم کا اعلان ہو گیا۔ جیسی کہ امید تھی، سوریہ کمار یادو کو ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے لیکن ٹیم سلیکشن میں کچھ حیران کرنے والے فیصلے بھی ہوئے ہیں، مثلاً ٹیم کے نائب کپتان شبھ من گل کو ٹیم میں جگہ نہیں ملی ہے۔ وہ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں نائب کپتان تھے، لیکن ان کا فارم بالکل بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔ اسی کو بنیاد بناتے ہوئےسلیکٹرس نے انہیں منتخب نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ سلیکٹرس نے ایک اور حیرت انگیز فیصلہ کیا۔ ٹیم کے ۱۵؍ رکنی ہندوستانی اسکواڈ میں ایشان کشن کی اچانک انٹری بھی حیرت انگیز ہے۔ وہ تقریباً ۲؍ سال بعد اچانک ۱۵؍ رکنی ہندوستانی ٹیم کا حصہ بن رہے ہیں۔ ساتھ ہی رنکو سنگھ کو بھی ہندوستانی اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا ہے، جو کہ جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی ۲۰؍ سیریز کا حصہ نہیں تھے۔ ممبئی کے بی سی سی آئی ہیڈکوارٹر میں چیف سلیکٹر اجیت اگرکر کی قیادت میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سلیکٹرس کی میٹنگ ہوئی تھی۔ اس میٹنگ میں سوریہ کمار یادو بھی شامل ہوئے تھے اوردعویٰ کیا گیا کہ بہت غور و خوض کے بعد ۱۵؍ کھلاڑیوں کے ناموں پر مہر لگی۔
لیکن سب سے بڑا سوال کو ہندوستان کے لاکھوں کرکٹ مداح پوچھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ شبھ من گل کو کس بنیاد پر ٹیم سے باہر کیا گیا ؟ اگر انہیں فارم کے سبب ٹیم میں جگہ نہیں دی گئی تو اس سے خراب فارم میں تو ٹیم کے کپتان سوریہ کمار یادو ہیں۔ جنہوں نے گزشتہ کئی میچوں میں رن نہیں بنائے ہیں۔ ایسے میں انہیں کیوں باہر کا راستہ نہیں دکھایا گیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ عالمی کپ کے لیے جس اسکواڈ کا اعلان کیا گیا ہے وہی اسکواڈ نیوزی لینڈ کے خلاف جنوری میں کھیلی جانے والی ۵؍ ٹی ٹوینٹی میچوں کی سیریز کا بھی حصہ رہیں گے۔