ہندوستان کا بینکنگ سیکٹر مضبوط حالت میں برقرار ہے اور اسے اثاثہ جاتی معیارمیں بہتری، مضبوط سرمایہ جاتی بنیاد، ریٹیل اور ایس ایم ای شعبے میں قرضوں کی طلب، اور نجی سرمائے کے اخراجات میں بحالی سے مدد مل رہی ہے۔
EPAPER
Updated: April 19, 2026, 6:13 PM IST | Mumbai
ہندوستان کا بینکنگ سیکٹر مضبوط حالت میں برقرار ہے اور اسے اثاثہ جاتی معیارمیں بہتری، مضبوط سرمایہ جاتی بنیاد، ریٹیل اور ایس ایم ای شعبے میں قرضوں کی طلب، اور نجی سرمائے کے اخراجات میں بحالی سے مدد مل رہی ہے۔
ہندوستان کا بینکنگ سیکٹر مضبوط حالت میں برقرار ہے اور اسے اثاثہ جاتی معیار (Asset Quality) میں بہتری، مضبوط سرمایہ جاتی بنیاد، ریٹیل اور ایس ایم ای شعبے میں قرضوں کی طلب، اور نجی سرمائے کے اخراجات میں بحالی سے مدد مل رہی ہے۔ یہ معلومات ایک سروے میں اتوار کو دی گئیں۔
فکی (FICCI) اور انڈین بینک ایسوسی ایشن (IBA) کے سروے میں کہا گیا ہے کہ قریبی مستقبل میں بینکنگ شعبے کی ترقی کے حوالے سے نقطۂ نظر مجموعی طور پر مثبت ہے، جسے مضبوط بیلنس شیٹس، مستحکم اقتصادی سرگرمیوں اور معیشت کے مختلف شعبوں میں مسلسل طلب کی حمایت حاصل ہے۔
سروے کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے مہینوں میں موجودہ مالیاتی پالیسی بڑی حد تک مستحکم رہے گی، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ پالیسی فریم ورک ترقی اور مہنگائی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے مناسب طور پر ترتیب دیا گیا ہے۔ سروے میں صرف کوآپریٹیو بینکوں کے تمام جواب دہندگان نے ۲۵؍ بیسس پوائنٹس کی شرحِ سود میں اضافے کی توقع ظاہر کی۔
سروے میں کہا گیا ہے کہ کریڈٹ ڈیمانڈ کے حوالے سے توقعات مثبت ہیں اور بینک غیر غذائی قرضوں (Non-food credit) کی مسلسل اضافہ کی امید کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، سرکاری شعبے کے بینک (پی ایس بیز) مستقبل کے حوالے سے خاص طور پر پُراعتماد دکھائی دیتے ہیں، جو بہتر اثاثہ جاتی معیار، مضبوط سرمایہ جاتی پوزیشن اور کارپوریٹ قرضوں میں بڑھتی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔
سروے کے مطابق نجی بینکوں نے کریڈٹ نمو کے لیے متوازن اور محتاط رویہ اپنایا، جبکہ غیر ملکی بینکوں نے کارپوریٹ اور ادارہ جاتی شعبوں میں اپنی مرکوز سرمایہ کاری کے مطابق معتدل رجائیت ظاہر کی۔علاقائی طور پر، سروس اور ریٹیل شعبوں سے قرضوں کی طلب کریڈٹ گروتھ کا اہم محرک بنی رہنے کی توقع ہے۔ سروس سیکٹر کے امکانات میں مضبوط توسیع کی توقع ظاہر کی گئی ہے، جسے رئیل اسٹیٹ، مالیاتی خدمات، لاجسٹکس اور سیاحت سے متعلق صنعتوں کی سرگرمیوں کی حمایت حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’بھوت بنگلہ‘‘ نے ریلیز ہوتے ہی’’دُھرندھر۲‘‘ کی کمائی میں سیندھ لگائی
تقریباً ۴۶؍ فیصد شرکاء نے توقع ظاہر کی کہ مجموعی غیر غذائی کریڈٹ گروتھ ۱۱؍ فیصد سے ۱۳؍ فیصد کے درمیان رہے گی۔ریٹیل قرضوں کے بھی مضبوط رہنے کی توقع ہے، جو بینکنگ سیکٹر کی ترقی کے ایک اہم ستون کے طور پر اس کے کردار کو مزید مستحکم کرے گا۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے لیے قرضوں کی طلب خاص طور پر مضبوط رہنے کی توقع ہے کیونکہ شرکاء نے اس شعبے میں مسلسل توسیع پر زیادہ اعتماد ظاہر کیا ہے۔ یہ چھوٹے کاروباروں میں بہتر تجارتی سرگرمی، کریڈٹ چینلز کی زیادہ باقاعدگی اور ایم ایس ایم ای کی ترقی کے لیے پالیسی سطح پر حمایت کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سن رائزرس حیدرآباد چنئی سپر کنگز کو شکست دے کر پوائنٹس ٹیبل پر چوتھے نمبر پر
بینکوں نے سائبر سیکوریٹی کے خطرات کو اپنی سب سے بڑی چیلنج قرار دیا ہے۔ جنوری سے فروری ۲۰۲۶ء کے درمیان کیے گئے اس سروے میں سرکاری، نجی، غیر ملکی، چھوٹے فائنانس اور کوآپریٹیو بینکوں سمیت مجموعی طور پر ۲۴؍ بینکوں نے حصہ لیا۔